بھارت نے چائنا سے مار کھانے کے بعد جنرل باجوہ سے رابطہ کیا اور ایل او سی پر سیز فائر کیا، ادھر سے فوج چائنا بارڈر پر لے گیا۔ پاکستان ریلوے نے ایم ایل 1 میں حصہ کا مطالبہ کیا جس نے چینیوں کو حیران کردیا۔ٹرمپ اسی سال عمران کو سعودی اماراتی رہنماؤں کے ذریعے ریلیف دلائیں گے: مشاہد حسین
تجربہ کار صحافی، قومی اور بین الاقوامی امور کے ماہر، سابق وفاقی وزیر، چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے دفاع مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ ماضی قریب میں ہونیوالی جھڑپوں میں چین کی طرف سے بھارت کو بہت مار پڑی تھی،حتی کے بھارت نے پاکستان کے ساتھ رابطہ کیااورجنگ بندی کامعاہدہ کیا کیونکہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کے باعث کشمیر میں موجود پچاس ہزار فوج کو بھارت چین کے بارڈرپر لے جانا چاہتا تھا
بھارت نے جنرل باجوہ سے رابطہ کیا اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی پیشکش کی۔
ٹرمپ کے دو دوست ہیں ایک سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان اور یواے ای کے محمد بن زید،اگرٹرمپ نے عمران خان کو رہا کروانا چاہا تو وہ ان دونوں کو کال کریں گے
پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کیلئے یہ بات خطرناک ہے کہ امریکہ میں مقیم پاکستانی عمران خان کے ساتھ ہیں اور دوسراپی ٹی آئی کی لابنگ کافی مضبوط ہے انہوں نے امریکہ میں دولابنگ فرمز ہائر کررکھی ہیں،
مشاہد حسین سید نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) سٹینڈنگ کمیٹی اجلاس میں خصوصی شرکت کی۔ سی پیک راہداری سمیت متعدد ملکی و بین الاقوامی امورپر سیرحاصل گفتگوکی،
انہوں نے صوبہ کے پی کی صورتحال کے بارے میں خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس صوبے کی صورتحال بہت خطرناک ہے (ملک کی علاقائی سالمیت کا حوالہ دیتے ہوئے)۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کی حکمران جماعت پی ٹی آئی ہے جو اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے، دوسری قوت پی ٹی ایم (پختون تحفظ موومنٹ) ہے جو مرکز کے بھی خلاف ہے، تیسری قوت ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) ہے جو فوجیوں کو شہید کر رہی ہے اور افغان طالبان کی حمایت حاصل ہے۔ اس لیے پاکستان کو وہاں کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سوچ سمجھ کر اقدامات کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہم نے ہمیشہ فخر کیا کہ طالبان ہمارے لوگ ہیں لیکن ہم دیکھ سکتے ہیں کہ “ہمارے لوگوں” سے تعلقات کیسے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے حوالے سے کیے گئے کچھ اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ 1- محمد صادق کی بطور نمائندہ خصوصی تقرری 2- چیف آف آرمی سٹاف کا نرم بیان 3- ترجمان دفتر خارجہ کا بیان کہ واخان افغانستان کا حصہ ہے۔
پاک چین تعلقات پر بات کرتے ہوئے مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغازہوگا،چین کوپاکستان میں اپنے شہریوں کی سیکورٹی کے حوالے سے کچھ تحفظات ہیں۔
پاکستان میں چینیوں پر لگاتار حملوں کا معاملہ “ہم یہ کریں گے اور وہ کریں گے” سے حل نہیں ہو سکتا۔ اہلکار وہی باتیں دہراتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ کراچی حملہ ہماری سیکیورٹی کی مکمل ناکامی تھی اور دیکھیں کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے ڈونلڈ ٹرمپ دنیامیں جنگوں کے خاتمے میں اہم کرداراداکریں گے اورتجارت کوفروغ دیں گے،ڈونلڈٹرمپ کے اقتدارمیں آنے کے بعد عمران خان کی رہائی کے موضوع پر سوال کا جواب دیتے ہوئے مشاہد حسین کاکہناتھا اس حوالے سے اگر صدر ٹرمپ دباؤ ڈالتے ہیں تو پاکستان کیلئے مشکلات ہو سکتی ہیں،ٹرمپ کے دو دوست ہیں ایک سعودی عرب کے بادشاہ محمد بن سلمان اور یواے ای کے محمد بن زید،اگرٹرمپ نے عمران خان کو رہا کروانا چاہا تو وہ ان دونوں کو کال کریں گے ،
اس حوالے سے پاکستان کاٹریک ریکارڈ بھی ہے جب دس دسمبر2000ءکو ایک جہاز آیا اور نواز شریف کو لے کر چلاگیا،اسی طرح بینظیربھٹو کو بھی رہائی ملی۔انہوں نے کہا کہ پرویزمشرف اپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئے بینظیر بھٹو کو واپس پاکستان لے کر آئے اور یہ دس سال کا منصوبہ تھا جب مشرف چاہتے تھے وہ 2017ء تک اقتدارمیں رہناچاہتے تھے لیکن ایک تدبیر انسان کرتے ہیں اور ایک تدبیر اللہ پاک کرتاہے،ہوتاوہی ہے جو اللہ چاہتاہے۔
بھارتی حکام کے پاکستان کے خلاف بیانات کے سوال پر مشاہدحسین سید کاکہناتھا بھارت عالمی منظرنامے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پاکستان کی منفی چیزیں رکھناچاہتے ہیں،
بنگلہ دیش کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بنگالی بڑی سخت قوم ہے،بنگال کے الگ ہونے سے پاکستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچا،اگر بنگلہ دیش ہمارے ساتھ ہوتاتو شاید آج اس طرح کی صورتحال نہ ہوتی کیونکہ وہ مذاحمت پسند لوگ ہیں،بنگلہ دیش کے گزشتہ انتخابات بہت سفاکانہ تھے،اس میں تمام مخالف سیاسی پارٹیوں کو تقریباختم کردیاگیاتھالیکن بنگالی عوام پھر اٹھی اور حالات آپ سب کے سامنے ہیں۔
پاکستان کے تین ممالک کے ساتھ بارڈرزلگتے ہیں جن میں سے تین کے ساتھ بارڈرز پر باڑ لگی ہوئی ہے صرف چین کے ساتھ نہیں ہے،بھارت خطے میں صرف چین سے خائف ہے،ماضی قریب میں ہونیوالی جھڑپ میں بھارت کے دو ہزار مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا تھا جو کہ چھوٹی چیزنہیں،چین ایک بہت مضبوط ملک ہے۔
تزئین اختر ایڈیٹر پاکستان ان ورلڈ اور روزنامہ اذکار اسلام آباد کے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور 02 کی صورتحال کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مشاہد حسین سید نے کہا کہ راہداری کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوا اور یہ بہت اچھا رہا۔ کوریڈور 02 بنیادی طور پر پاکستان ریلوے کی اپ گریڈیشن ہے جسے ایم ایل 1 کہا جاتا ہے۔ یہ 1872 کلو میٹر ریلوے ہے جسے چین اپ گریڈ کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستان نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک بھی شرکت کرے گا چین حیران رہ گیا کہ جب ہم کر رہے ہیں تو ایشیائی بینک کیوں؟
انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے پر چین کا نجی شعبہ کام کرے گا۔ وہ اسے چینی کرنسی میں کرنا چاہتے ہیں نہ کہ ڈالر میں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان ریلوے نے اس منصوبے میں حصہ مانگا۔ یہاں بھی چائنیز پر حیران رہ گئے کہ کیسا شیئر ؟ ہم آپ کے لیے بنائیں اور آپ کو حصہ بھی دیں؟
سابق سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ سیاسی استحکام اورمعیشت لازم وملزوم ہیں،پاکستان کی بات کی جائے تو پچھلے تین سالوں میں20 ہزار پاکستانیوں نے یواے ای میں 12ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے،پاکستان کو انٹرنیٹ کی سست روی سے 1.6ارب ڈالر کانقصان ہوا،2024ء دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کیلئے برا ترین سال رہا جب 1566دہشتگردی کے واقعات ہوئے،جنرل باجوہ کے دورمیں2سافٹ کو ہوئے۔
کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کی اسٹینڈنگ کمیٹی کااجلاس ارشاداحمد عارف کی زیرصدارت جمعہ کے روز اسلا م آبادمیں ہوا،جس میں سیکرٹری جنرل سی پی این ای اعجازالحق ، سینئر نائب صدر انور ساجدی، ایازخان،کاظم خان اور ملک بھرسے آئے ہوئے عہدیداران اور ممبران بھی موجود تھے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ سی پی این ای کی میٹنگ میں آکر بہت اچھالگ رہاہے کیونکہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔صحافت کامعاشرے کی بہتری میں کردار انتہائی اہم ہوتاہے اور صحافیوں نے ہمیشہ ملکی بہتری کیلئے مثبت کردار ادا کیا ہے۔سابق سینیٹر نے اجلاس میں موجود سی پی این ای ممبران کے سوالات کے جوابات بھی دیئے اورملکی و بین الاقوامی امورپر سیرحاصل گفتگوکی۔
اجلاس میں سی پی این ای کے نائب صدور عامر محمود، طاہر فاروق،بابر نظامی یحییٰ خان سدوزئی، منیر احمد بلوچ، جوائنٹ سیکریٹریز عارف بلوچ، رافع نیازی، منزہ سہام، ممتاز احمد صادق، وقاص طارق فاروق، ڈپٹی سیکریٹری جنرل غلام نبی چانڈیو، فنانس سیکریٹری سید حامد حسین عابدی، انفارمیشن سیکریٹری ضیاء تنولی، سینئر اراکین سردار خان نیازی، ڈاکٹر جبار خٹک، عبدالخالق علی، عدنان ظفر، آصف حنیف،اسلم میاں، ڈاکٹر زبیر محمود، اعتزاز حسین شاہ، فقیر منٹھار منگریو، فضل حق، مقصود یوسفی، محمود عالم خالد، سجاد عباسی، شکیل احمد ترابی، شیر محمد کھاوڑ، سید انتظار حسین زنجانی، تنویر شوکت، تزئین اختر، ارشد، سید سفیر حسین شاہ قصور جمیل روحانی و دیگرنے شرکت کی۔