علمی خود مختاری کا سورج اور ترجمے کی نئی کائنات ! تحریر: شیخ عبدالرشید

0
222

تحریر: شیخ عبدالرشید

​فرانسیسی فلسفی والٹیئر نے ایک بار کہا تھا کہ ترجمہ انسانی ذہن کی وہ کھڑکی ہے جس سے روشنی تو آتی ہے مگر بعض اوقات اس کا رخ بدل جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی قوم فکری بانجھ پن کا شکار ہو جائے تو وہ صرف دوسروں کی کھڑکیوں سے جھانکنے پر اکتفا کرتی ہے اور اپنی بصیرت کھو بیٹھتی ہے۔ تاریخِ عالم شاہد ہے کہ وہی تہذیبیں بقا پاتی ہیں جو دنیا بھر میں بکھرے ہوئے علم و حکمت کے لامتناہی سمندروں کو اپنی زبان کے کوزے میں بند کرنے کا ہنر جانتی ہوں۔

کسی بھی زندہ و جاوید قوم کی علمی بالادستی کا اصل راز صرف اس امر میں پنہاں نہیں ہوتا کہ وہ کتنا علم تخلیق کر رہی ہے، بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ وہ عالمی دانش کو اپنی تمدنی زبان میں کس طرح جذب کرتی ہے۔ آج جب ہم علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ‘سینٹر فار لینگویجز اینڈ ٹرانسلیشن اسٹڈیز’ (CeLTS) کے تحت تیار کردہ ‘انسائیکلوپیڈیا آف ٹرانسلیشن اسٹڈیز’ کو دیکھتے ہیں، تو یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان نے برسوں کی فکری محکومی کے بعد بالآخر عالمی علمیات (Global Epistemology) کے نقشے پر اپنی فکری خود مختاری کا ایک دبنگ اور ولولہ انگیز اعلان کر دیا ہے۔

یہ شاہکار محض کاغذوں کا پلندہ یا ایک عام سی تالیف نہیں ہے، بلکہ یہ پاکستان کی فکری تاریخ کا وہ عظیم الشان سنگِ میل ہے جسے آنے والی کئی دہائیاں ایک روشن مینار کے طور پر یاد رکھیں گی۔

​اردو ادب اور پاکستانی جامعات میں برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ ہم مغرب سے درآمد شدہ نظریات کو ‘آفاقی سچائی’ سمجھ کر قبول کرتے رہے اور خود کو صرف علم کا خوشہ چین ہی سمجھا۔ یوجین نائیڈا کا ‘نظریہِ تعادل’ ہو یا لارنس وینوٹی کی بحثیں، ہمارے علمی حلقے ان کی فکری سحر کاریوں میں جکڑے ہوئے تھے۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی معرکہ آرا تصنیف ‘اورینٹلزم’ میں جس فکری سامراجیت کا رونا رویا تھا، یہ انسائیکلوپیڈیا اس کا ایک عملی اور ٹھوس جواب بن کر ابھرا ہے۔ اس نے اس فکری طلسم کو بڑی جرات سے پاش پاش کیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ‘گلوبل ساؤتھ’ یعنی ترقی پذیر ممالک اب صرف علم کے خریدار نہیں رہے، بلکہ وہ خود علم کی کہکشائیں تخلیق کرنے کے اہل ہیں۔

اس معرکتہ الآراء منصوبے کی بنیادیں ڈاکٹر غلام علی کی اس بصیرت افروز قیادت میں پیوست ہیں، جسے اگر ‘فنا فی العلومِ ترجمہ’ کے صادق جذبے سے تعبیر کیا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ انہوں نے روایتی انتظامی امور کی خشک گود سے نکل کر لسانیات، ثقافتی نظریہ سازی اور معانی و علامات کے پیچیدہ سنگم پر ایک ایسا علمی مینار کھڑا کیا ہے جو ہماری جامعات کے بنجر علمی ماحول میں ایک نئی نشاۃِ ثانیہ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

​اس عظیم علمی جہاد کے لیے ڈاکٹر غلام علی نے جن رفقائے کار کا انتخاب کیا، وہ اپنی جگہ آسمانِ علم کے درخشندہ ستارے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقادر خان نے اپنی بے پناہ صوتیاتی مہارت سے اس کام کو وہ سائنسی استقامت بخشی جو اسے عالمی معیار کے ہم پلہ لاتی ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ عمر نے لسانی تاریخ نگاری کے کٹھن راستوں سے گزر کر اس کام کو ماضی کے عظیم علمی تسلسل سے جوڑ دیا، جبکہ ڈاکٹر فرخ عباس نے اطلاقی لسانیات اور مصنوعی ذہانت کے جدید دریچوں سے اس انسائیکلوپیڈیا کو مستقبل کی دھندلکوں میں ایک روشن چراغ بنا دیا۔

ان ماہرین کی مشترکہ ریاضت کا ثمر 648 صفحات پر محیط اس ضخیم جلد کی صورت میں برآمد ہوا ہے، جو اپنی جامعیت اور وسعت کے لحاظ سے جنوبی ایشیا کا ایک انوکھا اور پہلا علمی نقشہ بن چکا ہے۔ یہ انسائیکلوپیڈیا ہمیں اس تاریخی حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ یورپ کی علمی نشاۃِ ثانیہ دراصل ان مسلم مترجمین اور حکما کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے یونانی، ہندی اور فارسی دانش کو عربی قالب میں ڈھال کر عالمِ انسانیت کی پیاس بجھائی تھی۔ یہ ہمیں بغداد کے ‘بیت الحکمت’ اور اسپین کے ‘طلیطلہ’ کے ان ترجماتی مراکز کی یاد دلاتا ہے جہاں علم کی شمع سے شمع جلائی جاتی تھی۔

​آج ہم جس ‘ڈیجیٹل عالمگیریت’ کے عہد میں سانس لے رہے ہیں، وہاں ترجمے کی اہمیت محض ‘تکنیکی انتقالِ مفاہیم’ سے کہیں بلند ہو کر ‘قومی و ثقافتی بقا’ کا مسئلہ بن چکی ہے۔ اطالوی مفکر امبرٹو ایکو نے کہا تھا کہ “یورپ کی زبان ترجمہ ہے”۔ اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو پاکستان جیسے کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی سماج میں، جہاں زبانوں کا تنوع ایک تزویراتی چیلنج ہے، یہ انسائیکلوپیڈیا ایک ‘لسانی قطب نما’ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم اپنی علاقائی زبانوں کے اثاثے کو ترجمے کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کروا سکتے ہیں۔

جب ہم تولیدی مصنوعی ذہانت (Generative AI) اور ‘بڑے لسانی نمونوں’ (LLMs) کے اس دور میں جی رہے ہیں جہاں مترجم کے وجود پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا ہے، وہاں یہ تالیف بڑی دلیری سے یہ اعلان کرتی ہے کہ مشین اگرچہ ‘نحو’ (Syntax) پر تو قدرت پا سکتی ہے، مگر انسانی تجربے کی ‘ماہیئتِ قلبی’ (Qualia)، جذباتی لطافت اور معانی کی وہ ابدی گہرائی جو صرف ایک صاحبِ ادراک مترجم کا خاصہ ہے، اسے کوئی بھی الگورتھم کبھی نہیں چھو سکتا۔ یہ نیورل مشین ٹرانسلیشن کا ایک متوازن اور جاندار تنقیدی محاکمہ پیش کرتا ہے جو جدید محققین کے لیے بصیرت کے نئے در وا کرتا ہے اور انہیں ٹیکنالوجی کے اندھے استعمال کے بجائے اس کے تنقیدی ادراک کی دعوت دیتا ہے۔

​علمی گہرائی اور فنی باریکیوں کی بات کی جائے تو یہ شاہکار ‘اسکوپس تھیوری’، ‘پولی سسٹم تھیوری’ اور ‘ردِ تشکیل’ (Deconstruction) جیسے گنجلک اور مشکل ترین مباحث کو “سہلِ ممتنع” میں بیان کرنے کا ملکہ رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف محققین کے لیے ایک رہنما کتاب ہے بلکہ عام قاری کے لیے بھی تفہیم کی راہیں ہموار کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ترجمہ محض لغوی وفاداری کا نام نہیں بلکہ یہ بعض اوقات ایک ‘تخلیقی انحراف’ (Creative Deviation) ہوتا ہے جو متن کے اصل جوہر کو بے نقاب کر دیتا ہے۔

اس میں شامل ‘جارحانہ وفاداری’ (Abusive Fidelity) جیسی اصطلاحات اس سچائی کی غماز ہیں کہ ترجمہ ایک سیاسی اور سماجی عمل بھی ہے جس کے ذریعے ایک مترجم خاموشی سے ایک نئی دنیا تخلیق کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، یہ انسائیکلوپیڈیا جامعات کے بند کمروں سے نکل کر سمعی و بصری ترجمہ (Audiovisual Translation) اور ‘لوکلائزیشن’ کی عالمی صنعت تک رسائی فراہم کرتا ہے، جو اسے عملی میدان میں بھی ناگزیر بنا دیتا ہے۔ 2024 تک کے تازہ ترین مآخذ پر مبنی اس کی فہرستِ کتب اسے ایک ‘کتابی مینارہِ نور’ (Bibliographic Beacon) بناتی ہے، جو آنے والے محققین کے لیے شاہراہ متعین کر چکی ہے۔

​پاکستان کی لسانی جڑوں کو دیکھا جائے تو ہمارا خطہ ہمیشہ سے تراجم کی آماجگاہ رہا ہے۔ صوفیائے کرام نے جس طرح فارسی اور عربی کے پیغام کو مقامی زبانوں میں ڈھالا، وہ خود ترجمے کا ایک عظیم باب ہے۔ یہ انسائیکلوپیڈیا ہمیں اسی قدیم روایت سے جوڑ کر ایک جدید علمی تناظر فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف ایک علمی ضرورت نہیں بلکہ ہماری قومی خارجہ پالیسی اور ثقافتی سفارت کاری کا ایک اہم ستون بھی بن سکتا ہے۔

648 صفحات کی یہ ضخیم جلد دراصل ایک ایسی بساط ہے جس پر مستقبل کے علمی معرکے لڑے جائیں گے۔ اس میں موجود ہر اندراج (Entry) ایک نئی بحث کا آغاز ہے اور ہر باب ایک نئی دنیا کا دروازہ۔ یہ کام اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علمی تحقیق صرف مغرب کی لیبارٹریوں یا لائبریریوں تک محدود نہیں، بلکہ اگر عزم پختہ ہو تو پاکستان کی مٹی سے بھی وہ لعل و گوہر پیدا ہو سکتے ہیں جو عالمی علمی برادری کو حیران کر دیں۔

​حاصلِ کلام یہ ہے کہ یہ انسائیکلوپیڈیا محض ایک لغت یا ریفرنس بک نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا کی طرف سے عالمی سطح پر اپنی “علمی خود مختاری” کا ایک ایسا اعلان ہے جس کی گونج آنے والی کئی دہائیوں تک سنائی دے گی۔ ڈاکٹر غلام علی اور ان کی پوری ٹیم نے جس جانفشانی اور علمی دیانت سے اس پراجیکٹ کو پایہِ تکمیل تک پہنچایا ہے، وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ یہ شاہکار ثابت کرتا ہے کہ اگر بصیرت، سچی لگن اور ٹیم ورک کا سنگم ہو، تو ہم پاکستان کی سرزمین پر بیٹھ کر بھی دنیا کے علمی جغرافیے کو تبدیل کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔

یہ انسانی عقل کی اس فتح کا جشن ہے جو زبانوں کے حصار توڑ کر ایک نئے ‘ترجماتی عہد’ کی نوید سنا رہی ہے—ایک ایسا عہد جہاں مکالمہ ہی کائنات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جرمن شاعر گوئٹے نے کہا تھا کہ “جو شخص غیر ملکی زبانوں سے ناواقف ہے، وہ اپنی زبان کے بارے میں بھی کچھ نہیں جانتا”۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا یہ انسائیکلوپیڈیا ہمیں اپنی اور دوسروں کی زبانوں کے مابین اس پل کی تعمیر سکھاتا ہے جس پر چل کر ہم ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

​عربی کا مشہور قول ہے کہ کتابیں دانشمندوں کے باغات ہیں، اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پاکستانی قوم کو ایک ایسا ہی باغ عطا کیا ہے جہاں علم و حکمت کے پھول ہر رنگ میں کھلے ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سے خوشبو کشید کرتے ہیں یا اسے صرف الماریوں کی زینت بناتے ہیں۔ یہ انسائیکلوپیڈیا پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اگر ہمیں اپنی ‘نشاۃِ ثانیہ’ چاہیے تو ہمیں ترجمے کو محض ایک لفظی تبادلہ نہیں بلکہ ایک ‘تمدنی ڈھال’ کے طور پر اپنانا ہوگا۔

اس عظیم الشان کام کی اشاعت پر پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے کہ انہوں نے علمی دنیا میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ یہ کتاب مستقبل کے ان ہزاروں مترجمین اور مفکرین کے لیے زادِ راہ ثابت ہوگی جو پاکستان کو فکری افق پر ایک درخشاں ستارہ بنانا چاہتے ہیں۔

Pakistan in the World – Dec 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here