میرپور ریاست آزاد جموں و کشمیرمیں انسانیت سے عاری افسر شاہی کے تین کردار

0
381
عامر عثمان عادل

03 March 2025

میرپور ریاست آزاد جموں و کشمیر کا ضلعی صدر مقام ہے جس کا شمار انتہائی مہنگے اور متمول شہروں میں ہوتا ہے ۔
یہاں کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد برطانیہ میں مقیم ہے
آزاد کشمیر کے دوسرے شہروں کی نسبت یہاں بیش قیمت پلازے ، جدید شاپنگ مالز ، مہنگے ریستوران
عالی شان بنگلے بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔
اس شہر کو کرپٹ افسر شاہی کی جنت کہنا مبالغہ نہ ہوگا ۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ عدلیہ ہو یا سول بیوروکریسی ، پولیس ہو یا محکمہ مال میرپور میں تعیناتی کا سیدھا مطلب ” لک سدھا ” کرنا ہے۔
یہاں تعینات رہنے والوں کے اثاثے ٹٹولے جائیں تو حیرت انگیز انکشافات سامنے آئیں۔

اس شہر کی ایک برطانیہ پلٹ بیٹی نے کشمیر پریس کلب میں ان تینوں کے خلاف ہراسگی ، ناروا سلوک ، عہدے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات ہی عائد نہ کئے بلکہ ان کے آڈیو ویڈیو ثبوت بھی میڈیا کے سامنے رکھ دیئے ۔

دو روز پہلے عوام کے سمندر نے ایس ایس پی دفتر کے سامنے دھرنا دیا اور ان تین کرداروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا

ان کرداروں میں ایڈیشنل سیشن جج راجہ شہزاد ،ایس ایچ او تھوتھال عمران گجر اور اینٹی کرپشن کے انسپکٹر محبوب شامل ہیں ۔

 

فیصل اباد کی رہائشی خاتون بشریٰ ارشاد اسلام آباد سرینگر ہائی وے بےدردی سےقتل

اپنی جائیداد کے قانونی معاملات کو نبٹانے کی خاطر برطانیہ سے آنے والی اس خاتون کو ان تینوں سے پالا پڑا اور پھر وہ ان کے دست ہوس کا جس بری طرح نشانہ بنی اس نے ایک نئی داستان رقم کر ڈالی ۔
حصول انصاف کی خاطر جج صاحب کی عدالت میں گئی تو موصوف نے چٹ پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر تھما دیا ۔ بعد ازاں واٹس ایپ نمبر پہ تصویر کی فرمائش کر بیٹھے ۔
بارودی محافظ کو جب پتہ چلا کہ لڑکی اکیلی ہے اور برطانیہ پلٹ بھی تو وہ اسے آسان شکار سمجھے
باقاعدہ منصوبہ بندی کی ، ایک آدمی کو کمشنر کا روپ دھار کر متاثرہ لڑکی کو اعتماد میں لینے کا ڈرامہ کیا اور ایس ایچ او سے ملنے پر قائل کیا
لڑکی اس بھروسے پہ مطمعن ہوئی کہ کمشنر صاحب نے ملنے کا کہا ہے
لیکن شیر جوان نے درخواست گذار کو گھر سے لیا اور دھوکے سے پولیس اسٹیشن لے جانے کی بجائے اپنے ڈیرے پہ لے گیا
کئی گھنٹے حبس بیجا میں رکھا ۔ حجاب اتارنے پر مجبور کرتا رہا۔ شراب کے نشے میں دھت ایک مجبور لڑکی سے انتہائی واہیات اخلاق سوز گفتگو کرتا رہا – بار بار اسے ہوس کاری پر مجبور کرتا رہا

 

پی آئی اے دبئی سے ملتان پرواز کے فضائی میزبانوں سے 78 مہنگے فون برآمد

اپنے رب پہ توکل ، کردار کی مضبوطی اور حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے کسی نہ کسی طرح اس درندے کے چنگل سے بچ نکلی
خاموش ہو کر بیٹھ جانے کی بجائے اپنے ساتھ ہونے والے اس ناروا سلوک کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی
ایس ایچ او کے خلاف اندراج مقدمے کی درخواست اعلی حکام کو دی
اس کے بعد تیسرا کردار سامنے آگیا
اینٹی کرپشن کا باریش انسپکٹر ایک بیٹی کے سر پہ دست شفقت رکھنے کی بجائے اسے ڈرا دھمکا کر راضی نامے پر مجبور کرتا رہا ۔
لگتا ہے میرپور ایک جدید ترین اور پوش شہر نہیں کچے کا کوئی جنگل ہے جہاں افسر شاہی کے لباس میں درندوں کا راج ہے
مالی بد عنوانی سے ان کے پیٹ بھر چکے ہیں تبھی یہ انسانیت کے دائرے سے نکل چکے
اب تو یہ ہوس زدہ جانور ہیں جو ماں بہن بیٹی جیسے رشتوں کی پہچان بھی بھول بیٹھے ہیں۔
مورخ لکھے گا ایک دیس ایسا بھی ہے جہاں تحفظ دینے کے بدلے میں محافظ جسم مانگتے ہیں
اور منصف انصاف دینے کی بجائے اپنا ذاتی نمبر پیش کرتا ہے جہاں باحجاب آنے والی بیٹیوں کونقاب اتار کر چہرہ دکھانے کی فرمائش کی جاتی ہے
ہم پنجاب والے تو مایوس ہو چکے کیا ریاست کا چلن بھی ایسا ہوجائے گا ؟کیا ایک بے رحم انکوائری کروائی جائے گی؟
تاکہ اگر ذمہ داران کے خلاف عائد الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے
ایک جانب مظلوم بیٹی ہے دوسری جانب ریاست اور کہتے ہیں ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے دیکھنا ہے ماں کا انصاف کیسا ہے

Pakistan in the World – February 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here