رپورٹ: تزئین اختر | کیمرہ: راجہ غلام فرید
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ خواتین کا معاشی بااختیار ہونا محض مساوات کا معاملہ نہیں بلکہ پاکستان کی پائیدار ترقی کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقدہ چوتھی آل پاکستان ویمن چیمبرز پریذیڈنٹس انٹرنیشنل کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے گزشتہ برسوں میں ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں 30 سے زائد ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا قیام قوم کی تعمیر میں خواتین کے کردار کے حوالے سے سوچ میں بنیادی تبدیلی کا مظہر ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب سفر کو محض اداروں کے قیام سے آگے بڑھا کر عملی نتائج کی جانب لے جانا ہوگا، جہاں یہ چیمبرز مضبوط، پیشہ ورانہ طور پر منظم اداروں کی صورت میں کاروبار، جدت اور روزگار کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کریں۔
اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کی مشیر محترمہ مصباح کھر، اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی چیئرپرسن محترمہ ثمینہ فضل، چیئرمین پاکستان آذربائیجان چیمبر آف کامرس ظفر بختاوری، احسن ظفر بختاوری، پاکستان کے مختلف شہروں سے چیمبرز آف کامرس کی خواتین صدور بھی موجود تھیں۔ تقریب میں جرمنی اور فلپائن کے سفیروں، آذربائیجان، بنگلہ دیش، ایران ، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے سفارتخانوں کے کمرشل قونصلرز نے بھی شرکت کی۔
یہ آل پاکستان وومن چیمبرز آف کامرس کی خواتین صدور کی انٹرنیشنل کانفرنس اور گالا ڈنر تھا۔ اس کی میزبانی اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس کی بانی اور صدر ثمینہ فاضل نے آذربائیجان پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سرپرست اعلیٰ احسن ظفر بختاوری کے تعاون سے کی۔ یہ خواتین کی قیادت، تعاون اور جامع اقتصادی ترقی اور عالمی شراکت داری کے لیے مشترکہ وژن کا جشن منانے والی شام تھی
یونائیٹڈ بزنس گروپ، ڈی واٹسن، کیپیسٹی اینالیٹکس، ڈی رین، فلورمار اس ایونٹ کے سپانسرز میں شامل تھے۔ نعیمہ انصاری نے بہترین انداز میں تقریب کو سمیٹ لیا۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کے دیگر شہروں سے آنے والے مہمانوں کی تفریح کے لیے ایک شاندار ڈنر اور میوزیکل پرفارمنس بھی کانفرنس کا حصہ تھی۔
ثمینہ فاضل نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین سینیٹ اور غیر ملکی مہمانوں کو پاکستان میں خواتین تاجروں کی جدوجہد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کاروباری رہنما ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے میں ملک کی مدد کے لیے اپنے محاذ پر ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا، ہم حکومت کی جانب سے خواتین کاروباری رہنماؤں کی حمایت کے منتظر ہیں۔
احسن ظفر بختاوری نے اپنے خطاب میں چیئرمین سینیٹ کو بجلی کے بلند ترین نرخوں اور دیگر معاملات کی وجہ سے جن مشکلات کا سامنا ہے ان کے بارے میں چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا جو پاکستان میں پیداوار کو ناممکن بنا رہے ہیں۔ انہوں نے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات لانے کی تجویز دی جو کہ مینوفیکچرنگ سیکٹر کی پیداوار بڑھانے کی راہ میں ایک اور بڑی رکاوٹ ہے اور اس طرح پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ چیئرمین سینیٹ نے نوٹس لیا اور اس سلسلے میں اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
چیئرمین سینیٹ نے کانفرنس کے اختتام پر ملک بھر سے موجود خواتین بزنس لیڈرز کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے چیمبرز آف کامرس کی خواتین صدور کو شیلڈز پیش کیں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ یہ کانفرنس صرف کاروباری رہنماؤں کا اجتماع نہیں بلکہ جامع ترقی کے لیے ایک قومی تحریک کی نمائندہ ہے، جہاں خواتین کو پاکستان کی معاشی تبدیلی کی کلیدی معمار تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین کاروباری شخصیات کی جرات، حوصلے اور عزم کو خراجِ تحسین پیش کیا جو سماجی اور ساختی رکاوٹوں کے باوجود دقیانوسی تصورات کو توڑتے ہوئے تجارت اور صنعت میں نئے راستے بنا رہی ہیں۔
چیئرمین سینیٹ نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں خواتین کے بااختیار بنانے کی علمبردار قرار دیا، جن کا وژن آج بھی پاکستان کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو کی تاریخی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اسٹڈیز سینٹرز کا قیام، فرسٹ ویمن بینک کا آغاز، سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے کوٹہ، اور لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام جیسے اقدامات ان کی دوراندیش قیادت کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کا پختہ یقین تھا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کی نصف آبادی کو معاشی اور سماجی زندگی سے باہر رکھا جائے۔
انہوں نے بطور اسپیکر قومی اسمبلی، وزیرِ اعظم پاکستان اور اب چیئرمین سینیٹ اپنی عوامی خدمات کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی شمولیت جمہوری اداروں کو مضبوط اور ترقی کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں خواتین کو اہم وفاقی وزارتوں کی ذمہ داریاں سونپی گئیں، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے جامع طرزِ حکمرانی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے ایوانِ بالا کو وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ آف پاکستان خواتین کے معاشی، سماجی اور قانونی مسائل کے حل میں تمام صوبوں کی سطح پر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں سینیٹ قانون سازی میں اصلاحات، کاروباری طریقہ کار میں آسانی، ضابطہ جاتی رکاوٹوں میں کمی، سرکاری خریداری تک رسائی میں اضافہ اور قانونی تحفظات کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور تعاون جاری رکھے گا تاکہ خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے اس امر کا اعتراف کیا کہ بے پناہ صلاحیت کے باوجود خواتین کی رسمی معیشت میں شمولیت اب بھی توقعات سے کم ہے، جس کی وجہ سماجی اور ساختی رکاوٹیں ہیں۔ انہوں نے اس خلا کو قومی مواقع کے ضیاع سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی قیادت میں چلنے والا ہر کاروبار معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور نسل در نسل بااختیاری کا ذریعہ بنتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائدانہ کردار کو سراہتے ہوئے ملک بھر میں نئے قائم ہونے والے ویمن چیمبرز کی سرپرستی اور رہنمائی کے اقدام کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون، رہنمائی اور بہترین تجربات کا تبادلہ خواتین کی قیادت میں معاشی ترقی کے لیے کئی گنا اثرات پیدا کرے گا۔
انہوں نے بین الاقوامی تعاون، بالخصوص آذربائیجان–پاکستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ شراکت داری کا خیرمقدم کیا اور ویمن چیمبرز پر زور دیا کہ وہ عالمی تجارتی روابط، بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت اور برآمدات پر مبنی مصنوعات و خدمات کی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ویمن چیمبرز کی صدور اور قیادت پر زور دیا کہ وہ خود کو محض عہدے دار نہیں بلکہ ایک قومی تحریک کے قائدین سمجھیں۔ انہوں نے ادارہ جاتی نظم و نسق کو مضبوط بنانے، رسائی میں اضافہ، رہنمائی کے نیٹ ورکس قائم کرنے، شراکت داریوں کو فروغ دینے اور قابلِ پیمائش نتائج کو دستاویزی شکل دینے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ میں ایک ایسے پاکستان کا تصور رکھتا ہوں جہاں خواتین کاروباری شخصیات معاشی ترقی کا مرکزی ستون ہوں، جہاں ویمن چیمبرز ترقی کے معتبر شراکت دار ہوں، اور جہاں ہر نوجوان لڑکی کاروبار کو ایک باوقار اور قابلِ قدر مستقبل کے طور پر دیکھے۔ چیئرمین سینیٹ نے ملک بھر کی خواتین کاروباری شخصیات کو ان کی جرات اور خدمات پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ مشترکہ کاوشیں ایک زیادہ جامع اور خوشحال پاکستان کی راہ ہموار کریں گی۔
Pakistan in the World – March 2025