تزئین اختر
بلوچستان پچھلی چھ دہائیوں سے جل رہا ہے جب سے نواب نوروز اور ساتھیوں کو اپنی جانوں کی حفاظت کا یقین دلاتے ہوئے پہاڑوں سے اتار کر مذاکرات کی دعوت دی گئی لیکن بعد میں سب کو موت کی سزا سنا دی۔ اس آگ میں اس وقت مزید تیل ڈالا گیا جب ایک اور بلوچ سردار نواب اکبر بگٹی کو اس پہاڑی میں قتل کر دیا گیا جہاں وہ اس وقت کی حکومت سے جان کا خطرہ محسوس کر کے پناہ لئے ہوئے تھے۔ یہ بنیادی طور پر دو فریقو ں کی کہانی ہے! بلوچ اور اسٹیبلشمنٹ۔ پہلے جنرل ایوب اور بعد میں جنرل مشرف!
صورتحال میں تبدیلی یہ ہے کہ اب نہ صرف بلوچستان بلکہ پورا ملک اور تمام صوبوں کے عوام آزادی کے بعد سے طاقتور حلقوں کی طرف سے ان کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تنگ آچکے ہیں۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے 31 جولائی اور 01 اگست کو اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جب ملک بھر سے اپوزیشن رہنما اور کارکنان دارالحکومت میں جمع ہوئے اور لاپتہ بلوچوں کی کئی مائیں بہنیں، بیویاں اور بچے بھی گزشتہ کئی دنوں سے شہر میں سراپا احتجاج تھے۔
صوبائی پی ٹی آئی کے رہنما داؤد کاکڑ اور ان کے ساتھی بھی اسی سلسلے میں اسلام آباد میں موجود تھے جنہوں نے کچھ صحافیوں سے ملاقات کی اور بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے اس سے آگاہ کیا۔ جب ہمارے دوست انجینئر افتخار چودھری نے ہمیں میٹنگ میں مدعو کیا تو ہم اس سے گریز نہ کر سکے کیونکہ ہمارے پاس کے پی میں پی ٹی آئی کے بارے میں کافی تھا لیکن بلوچستان میں پی ٹی آئی کے بارے میں بہت کم۔ میٹنگ میں میانوالی سے پی ٹی آئی کے رہنما امجد خان نیازی بھی موجود تھے۔
یہاں ہم داؤد کاکڑ کے ساتھ اپنی گفتگو اور ان کے مشاہدات کو موقع پر موجود ایک شخص کی حیثیت سے شیئر کر رہے ہیں کہ اس بدقسمت صوبے میں اصل میں کیا ہو رہا ہے جہاں خطے اور دنیا کی بہت سی ایجنسیاں گریٹ گیم کھیل رہی ہیں اور جہاں ہماری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول رکھنے کے لیے صرف ایک آپشن استعمال کرتی ہے…… وہ آپشن ہے اندھا دھند طاقت کا استعمال…..جو کہ غیر ملکی ایجنسیوں کی مدد کے برابر ہے اور پاکستان کے لیے کبھی مفید نہیں ہو سکتا۔
داؤد کاکڑ نے صوبے میں تعینات اسٹیبلشمنٹ کے اہلکاروں کی اس ذہنیت پر افسوس کا اظہار کیا کہ وہ مقامی لوگوں کے ساتھ اپنی رعایا کی طرح برتاؤ کر رہے ہیں اور انہیں پاکستانیت چھوڑنے اور اپنے مستقبل کے لیے دیگر آپشنز دیکھنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
داؤد کا پاؤں زخمی تھا اور وہ سہارا لے کر مشکل سے چل رہے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ نامعلوم گاڑی نے انہیں اس وقت ٹکر مار دی جب وہ ایک ریلی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ یہ واضح تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ وہ احتجاج میں پہنچیں ۔ پی ٹی آئی رہنما داؤد کاکڑ کے خلاف مبینہ طور پر تخریبی سرگرمیوں پر 51 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور جب عدالت یا ملزم خود پوچھے کہ اس نے اصل میں کیا کیا ہے؟ ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا.
بلوچستان متعدد کھلاڑیوں کا یرغمال ہے۔بہت سے کھلاڑی اپنے اپنے الگ الگ کھیل کھیل رہے ہیں۔ بلوچستان لبریشن آرمی، تحریک طالبان پاکستان اور فرنٹیئر کانسٹیبلری۔ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی دونوں صوبے میں کام کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی پشتون بیلٹ میں سرگرم ہے۔ اچھے طالبان بھی ہیں اور برے طالبان بھی۔ سب ظالم ہیں اور ان سب کے ظلم کا نشانہ صرف عوام ہیں۔
داؤد کاکڑ نے بتایا کہ بی ایل اے یا ٹی ٹی پی رات کے وقت گھروں میں گھس کر کھانا چھین لیتے ہیں اور بندوق کی نوک پر زبردستی پناہ لیتے ہیں۔ اگلی صبح سیکورٹی اہلکار دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں مردوں کو لے جاتے ہیں۔
داؤد نے ژوب میں پیش آنے والا ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سنایا۔ دہشت گرد رات گئے ایک گھر سے کھانا لے گئے۔ اگلی صبح ایف سی اہلکاروں نے دہشت گردوں کی سہولت کاری کے الزام میں گھر پر چھاپہ مارا۔ گھر کے آدمی نے ان میں سے ایک کو پہچان لیا جو رات کو دہشت گردوں کے ساتھ تھا۔ اس نے اس کا ذکر کیا تو اسے اٹھا کر لے گئے ۔ اگلے دن اس کی لاش ملی۔
داؤد نے کہا کہ ہمارے آباؤ اجداد تحریک پاکستان میں قائداعظم کے ساتھ تھے اور ہم اسی پاکستان کی توقع کر رہے تھے جس کا تصور تحریک کے قائدین نے ’’پاکستان اسلام کا قلعہ‘‘ اور ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ‘‘پیش کیا تھا لیکن پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سب کچھ مختلف ہوگیا۔ تبھی نواب نوروز خان نے کہا یہ دھوکہ ہے۔ وہ دوسرے ہم خیال سرداروں کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھ گئے۔ حکومت پاکستان نے انہیں مذاکرات کے لیے مدعو کیا اور انہیں قرآن پر ان کی جان کی حفاظت کا یقین دلایا لیکن بعد میں موت کی سزا سنادی ۔ تب سے بلوچ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پر اعتماد نہیں کرتے۔
(نوروز خان، ان کے بیٹے اور خاندان کے پانچ دیگر افراد کو بغاوت اور پاکستانی فوجیوں کے قتل کے الزام میں موت کی سزا سنائی گئی۔ 15 جولائی 1960 کو حیدرآباد جیل میں سات رہنماؤں کو پھانسی دے دی گئی۔ نوروز کو ان کی عمر کی وجہ سے پھانسی نہیں دی گئی لیکن 1964 میں کوہلو جیل میں انتقال کر گئے۔ داؤد نے نواب اکبر بگٹی کے قتل پر بات نہیں کی)
پی ٹی آئی جب پرامن احتجاج یا مارچ کرنا چاہتی ہے تو وہ کچھ ہی دیر میں راستے میں پہنچ جاتے ہیں، ہمیں روکتے ہیں، کبھی سڑک کھودتے ہیں تاکہ ہم گزر نہ سکیں، ہم صرف پستول ساتھ نہیں لے سکتے لیکن دہشت گرد گھنٹوں سڑکوں کو بلاک کرکے مسافروں کو مارتے ہیں اور کوئی انہیں روکنے والا نہیں ہوتا۔
اس صورتحال پر میرے شعر ہیں،
گلشن میں اب پھول کھلتے نہیں
بہاروں کے اندر بھرا ہے بارود
سڑک پر ہوئے قتل معصوم کیونکر ؟
کہیں آس پاس، تھے تم بھی موجود
پہاڑوں پہ چھائے ہیں دہشت کے سائے
انہیں کون لایا؟ کوئی تو بتائے
جوانوں کے لاشے کوئی کیسے اٹھائے؟
یہ کب ختم ہوں گے خوارج مردود؟
دکی کے علاقے میں لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بی ایل اے نے کوئلے سے لدے ٹرک کو دھماکے سے اڑا دیا، رشوت دینے سے انکار کرنے والے مالک کو سزا دینے کے لیے اندر بم نصب کر دیا اور ٹرک کے سامنے ایف سی کی چوکی تھی۔








