شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس: پاکستان کا فعال کردار

0
376

سردار عبدالخالق وصی

شنگھائی تعاون تنظیم  کا قیام 2001 میں عمل میں آیا، لیکن اس کی بنیاد 1996 میں “شنگھائی فائیو” کے نام سے رکھی گئی تھی، جس میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل تھے۔ بعدازاں 2001 میں ازبکستان کی شمولیت کے بعد اس پلیٹ فارم کو باضابطہ طور پر “شنگھائی تعاون تنظیم” کا نام دیا گیا۔ تنظیم کے بنیادی مقاصد میں خطے میں باہمی اعتماد قائم کرنا، سلامتی کے شعبے خصوصاً انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، تجارتی و معاشی روابط کو فروغ دینا، توانائی کے منصوبوں پر شراکت داری، اور ثقافتی و تعلیمی تبادلے شامل ہیں۔ آج یہ دنیا کی سب سے بڑی اور اہم علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے جس کے رکن ممالک دنیا کی آبادی اور معیشت کا بڑا حصہ ہیں۔

پاکستان کے لیے اس پلیٹ فارم میں شمولیت ہمیشہ سے ایک اہم خارجہ پالیسی کا ہدف رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف کی عالمی منظرنامے پر گہری نظر اور دور اندیشی کا نتیجہ تھا کہ 2017 میں پاکستان کو مستقل رکنیت ملی۔ نواز شریف نے یہ سمجھا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور خطے میں مرکزی کردار اس تنظیم کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، اسی لیے انہوں نے اس رکنیت کے حصول کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ یہ تاریخی قدم آج پاکستان کے موجودہ کردار کو اور زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے ملک کی نمائندگی کی۔ ان کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اس اعلیٰ سطحی وفد کی موجودگی نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت خطے میں امن، ترقی اور تعاون کے لیے یک آواز ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کا خطاب

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے امن و ترقی کا واضح وژن پیش کیا۔ انہوں نے کہا: “پاکستان خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور ترقی کا خواہاں ہے۔ ہم کسی کے خلاف اتحاد نہیں بلکہ سب کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے غربت، بیروزگاری اور ماحولیاتی خطرات کو سب سے بڑے چیلنج قرار دیا اور کہا کہ ان مسائل کا حل مشترکہ تعاون میں ہے۔ وزیر اعظم نے زور دے کر کہا: “یہ وقت باہمی تعاون اور شراکت داری کا ہے، تصادم اور رقابت کا نہیں۔” ساتھ ہی انہوں نے سی پیک کو “گیم چینجر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے ثمرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے تک پہنچیں گے۔

چینی صدر سے ملاقات

چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں سی پیک کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ توانائی، انفراسٹرکچر اور خصوصی اقتصادی زونز کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ صدر شی نے کہا کہ پاک–چین دوستی پہاڑوں سے بلند اور فولاد سے مضبوط ہے، اور دونوں ملک مستقبل میں بھی ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیں گے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا: “چین ہمارا سب سے قابل اعتماد دوست ہے، اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اس رشتے کو مزید مضبوط کریں گے۔”

اسی دوران ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہوئی کہ صدر شی جن پنگ نے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو چین کی جاپانی افواج کے خلاف مزاحمت کی 80ویں سالگرہ پریڈ میں خصوصی طور پر مدعو کیا۔ یہ دعوت پاک–چین عسکری تعلقات کی غیر معمولی قربت کا مظہر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مزید مستحکم کرتی ہے۔

روسی صدر سے ملاقات

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ملاقات بھی نہایت اہمیت کی حامل رہی۔ اس دوران تیل اور گیس کی فراہمی، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تجارت میں اضافے پر گفتگو ہوئی۔ روس نے پاکستان کو توانائی کے شعبے میں شراکت داری کی یقین دہانی کرائی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب توانائی کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ ماسکو اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو وسیع تر کرنے کے لیے تیار ہے اور دونوں ممالک خطے میں امن اور استحکام کے لیے مل کر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ترکیہ اور ایران کے ساتھ روابط

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ ملاقات میں تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو عملی معاشی شراکت داری میں بدلنے پر زور دیا گیا۔ دفاعی صنعت، تعلیم، سیاحت اور تجارتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق رائے ہوا۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کو اپنا قریبی بھائی سمجھتا ہے اور ہر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ساتھ ملاقات میں گیس پائپ لائن، سرحدی تجارت، سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی پر بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی اور سکیورٹی تعاون کو نئی جہت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملاقاتیں

وسطی ایشیائی ریاستوں کے صدور کے ساتھ بھی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں ازبکستان، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل تھے۔ ان ملاقاتوں میں ٹرانزٹ ٹریڈ، تعلیمی تبادلوں، زرعی شعبے میں تعاون اور پاکستان کی بندرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی پر تفصیلی بات ہوئی۔ ان ریاستوں نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو سراہا اور اسے خطے کا دروازہ قرار دیا۔ پاکستان نے بھی ان کے توانائی وسائل سے استفادہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ یہ تعاون مستقبل میں خطے کے لیے خوشحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مصروفیات

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیر ممالک عالمی مالیاتی دباؤ کا شکار ہیں اور ایس سی او کو ایک ایسا مالیاتی ڈھانچہ تشکیل دینا چاہیے جو ان ممالک کو سہارا دے۔ انہوں نے چینی، ایرانی اور وسطی ایشیائی وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور سرمایہ کاری، تعلیمی منصوبوں اور خطے میں مالیاتی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔

آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار

آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنی عسکری مصروفیات کے دوران انسداد دہشت گردی کے اقدامات، مشترکہ فوجی مشقوں اور خطے کی سلامتی پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک اور دیگر علاقائی منصوبوں کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ ان کی موجودگی نے واضح کر دیا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پیج پر ہے اور قومی سلامتی کے معاملات پر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

بھارت کی موجودگی

بھارت کی موجودگی اجلاس میں ایک الگ پہلو تھی۔ اگرچہ دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں، مگر وزیر اعظم نے نام لیے بغیر کہا: “ایس سی او کو تعاون کا پلیٹ فارم بننا چاہیے، اختلافات کا نہیں۔” یہ جملہ بھارتی رویے کی طرف اشارہ تھا۔ پاکستان نے دشمن ملک کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ سفارت کاری کے ذریعے اپنی پوزیشن کو مضبوط بنایا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، تنازع کا نہیں۔

مشترکہ اعلامیہ

اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کئی اہم نکات شامل تھے۔ رکن ممالک نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر زور دیا۔ توانائی منصوبوں کی توسیع، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات، ڈیجیٹل تعاون، بین الاقوامی روابط اور سرحدی امن قائم رکھنے پر اتفاق ہوا۔ پاکستان نے ان نکات کی بھرپور حمایت کی اور زور دیا کہ عملی اقدامات ہی خطے کو خوشحالی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

نتیجہ

یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی سفارت کاری اور آرمی چیف عاصم منیر کا سلامتی کے معاملات میں فعال کردار، تینوں نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان متحد ہے اور اپنی پالیسیوں میں متوازن و فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ نہ صرف پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں سامنے آیا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کا نیا باب بھی کھلا۔ مستقبل میں اس اجلاس کے اثرات پاکستان کی معیشت، سلامتی اور سفارت کاری پر مثبت اور دور رس ہوں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here