تحریر: نیاز احمد کھوسہ
کراچی میں پچھلے دنوں ایک 23 سالہ نوجوان کے اغوا اور قتل کا واقعہ ہوا ہے جس سے پولیس اور عدلیہ کی کاردگی کی وجہ سے عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے مصطفےا قتل کیس کی تفتیش آخری مراحل میں چل رہی ہے، دانستہ یا نادانستہ اس کیس میں Avcc نے اتنی غلطیاں کی ہیں کہ مجبورن پراسیکیوٹر جرنل سندھ نے آئی جی سندھ کو خط لکھا کہ تفتیشی ٹیم نے کیس کی تفتیش کو Spoil کیا ہے اور تفتیشی ٹیم کے خلاف کاروائی کی جائے –
مُصطفےا کی والدہ نے Avcc کےایس ایس پی اور CPLC سے رابطہ کیا اور CPLC کی طرف سے مسٹر شبر کے ذمے یہ کیس لگا دیا گیا- شبر صاحب کے ساتھ میں کام کُرچکا ہوں، آگر شبر صاحب جیسے افراد پولیس میں ہوتے تو عوام کو کوئی پریشانی نہ ہوتی