ایئر مارشل جواد سعید! بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے خلاف آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے معمار! ائیر چیف کی کرپشن پر وائٹ پیپر جاری کرنے پر سزا دی گئی! سچ کیا ہے؟

0
658

سید ثقلین امام

پاکستان کے فوجی اداروں میں شفافیت اور احتساب کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھانے والی ایک خبر کے مطابق، سابق ایئر مارشل جواد سعید کو آفیشل سیکرٹس ایکٹ اور بغاوت کے الزامات میں سزا سنائی گئی ہے۔ یہ معلومات میڈیا میں اس طرح نمایاں ہوئی ہیں جیسے ایک غدار کو سزا سنائی گئی ہے۔

لاہور کے ایک صحافی کی فیس بک پوسٹ کے ذریعے یہ خبر میرے علم میں آئی، اب ڈان نے بھی تفصیلات شائع کی ہیں۔ اس تنازعے کا مرکز ایک “وائٹ پیپر” ہے جس میں پاکستان ایئر فورس (پی اے ایف) میں اعلیٰ ترین سطح پر کرپشن اور ادارے کو خراب کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے، خاص طور پر موجودہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

ایئر مارشل جواد سعید، جن کا نام پی اے ایف میں انتہائی معزز سمجھا جاتا ہے، تین دہائیوں سے زائد عرصے تک بے داغ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے ایلیٹ نمبر 9 “گریفنز” اسکواڈرن، فلائنگ ونگ کی کمانڈ کی، اور سرگودھا کے بیس کمانڈر جیسے معتبر عہدوں پر فرائض انجام دیے۔ ان کے اسٹاف عہدوں میں اسسٹنٹ چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشنز)، ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (آپریشنز)، اور ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف (ایڈمنسٹریشن) شامل ہیں۔

انہیں “آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ” کا اہم آرکیٹیکٹ سمجھا جاتا ہے—جب فروری 2019 میں بھارت کے خلاف کامیاب جوابی کارروائی میں انڈیا ائر فورس کے آفیسر ونگ کمانڈر ابھینندن کو مار گرایا تھا، جو واقعہ قومی فخر کا باعث بھی بنا تھا۔

جواد سعید ایک پڑھے لکھے پنجابی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی علمی روایات گہری ہیں۔ ان کے چچا، اختر سعید، ایک معروف سول سرونٹ تھے جو علامہ اقبال اور اسلامی نشاۃ ثانیہ پر اپنی فلسفیانہ بصیرت کے لیے جانے جاتے تھے۔ یہ علمی ورثہ جواد سعید کے ساتھ بے انصافی کو اور بھی سنگین بنا دیتی ہے جو ان کا ساتھ اس دوران کی گئی ہے۔

ہمارے لاہور کے صحافی انور خان کے مطابق، 2021 میں، جب اس وقت کے چیف آف ایئر اسٹاف کی مدت اختتام کو پہنچ رہی تھی، جواد سعید کا نام سب سے سینئر افسران میں شامل تھا جو اس عہدے کے لیے زیرِ غور تھے۔ انور خان کے مطابق، عمران خان نے اس عہدے کے لیے اُن کا نام تجویز کیا تھا۔

لیکن بالآخر یہ عہدہ ظہیر احمد بابر سدھو کو دے دیا گیا—ایک ایسا فیصلہ جو اندرونی ذرائع کے مطابق، “سفارشات” کی بنیاد پر کیا گیا تھا نہ کہ پیشہ ورانہ قابلیت کی بنیاد پر۔ ایئر چیف مارشل سدھو کو 19 مارچ 2021 کو چیف آف ایئر اسٹاف مقرر کیا گیا۔ معیاری مدت کے مطابق، انہیں 2023 میں ریٹائر ہونا تھا۔

تاہم پاکستان میں جہاں آرمی چیفس کی مدتِ ملازمت میں توسیع پر میڈیا اور عوامی توجہ مرکوز رہتی ہے، دوسری سروسز میں توسیع کی خبریں اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ اس معاملے میں سدھو نے خاموشی سے اپنی مدت میں توسیع حاصل کر لی اور وہ اب بھی پی اے ایف کے چیف آف ایئر اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

وائٹ پیپر کے مطابق، اس کے بعد ادارہ جاتی زوال اور نظامی بدعنوانی کا دور شروع ہوا۔ یہ دستاویز، جو 2023 کے آخر میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی، ایئر چیف مارشل سدھو پر سنگین الزامات عائد کرتی ہے—جن میں “عوامی فنڈز کا غلط استعمال”، “خریدیاری میں بے ضابطگیاں”، “اندرونی احتساب کے میکانزمز کو غیر فعال کرنا، اور “ذاتی مفاد اور سیاسی ترقی کے لیے ریاستی اداروں کا استعمال” شامل ہیں۔

وائیٹ پیپر میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ائر چیف مارشل سدھو نے پی اے ایف “ایئر پاور سینٹر آف ایکسیلینس (ACE)” اور “سنٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (CASS)” جیسی اہم جنگی اور تحقیقی یونٹس کو نظرانداز کیا، جس سے ایئر فورس کی عملی سالمیت کو نقصان پہنچا۔ وائٹ پیپر کا اجراء ایک اہم وقت پر ہوا۔ اس کا مرکزی پیغام ایک انتباہ تھا: موجودہ ایئر چیف کو “مدت میں توسیع نہ دی جائے”، جن کی مدت مارچ 2024 میں ختم ہونے والی تھی۔

یکم جنوری 2024 کو، جب یہ دستاویز زیرِ بحث تھی، ایئر مارشل (ر) جواد سعید کو پی اے ایف نے حراست میں لے لیا۔ ان کا “کورٹ مارشل” 25 سے 27 جنوری کے درمیان ہوا—ایک ایسی جلدی کارروائی جس میں انہیں قانونی نمائندگی تک میسر نہیں آئی اور نہ ہی ان کے خاندان کو پہلے اطلاع دی گئی۔ تب سے، انہیں ایئر فورس کے ایک میس کی حراستی سہولت میں غیرقانونی طور پر رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وائٹ پیپر کے پاکستان میں وائرل ہونے سے ایک سال پہلے، امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی وجاہت ایس خان نے اس کے کچھ حصے سوشل میڈیا پر شیئر کیے تھے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں یہ دستاویز متعدد آزاد ذرائع سے موصول ہوئی ہے۔

اگرچہ اس دستاویز کے مصنف کا نام معلوم نہیں، لیکن اس میں پیش کیے گئے داخلی معلومات اور تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائیٹ پیپر کے مصنف کو ادارہ جاتی معلومات تک وسیع رسائی حاصل تھی—جو اس نظریے کو تقویت دیتی ہے کہ شاید جواد سعید جیسے اعلیٰ رینکنگ انسائڈر نے اس میں کوئی کردار ادا کیا ہو۔

ایئر مارشل (ر) جواد سعید کا معاملہ صرف ایک افسر کی قسمت کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان میں “سویلین-ملٹری ریلیشنشپ کی شفافیت”، “سنسٹیٹیوشنل اکاؤنٹیبلٹی”، اور “سچ کی قیمت” کا ایک امتحان ہے۔ اگر وائیٹ پیپر میں لگائے گئے الزامات کی تحقیقات نہیں ہوتی اور خاموشی برقرار رہتی ہے، تو اس کے پی اے ایف کی سالمیت اور فوجی قیادت پر جمہوری نگرانی دونوں کے لیے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔

فی الوقت، ائر مارشل جواد سعید سمیت 13 قابلِ فخر افسران قید میں ہے، جو شاید انسٹیٹیوشنل وفاداری کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کی سزا بھگت رہا ہے—جبکہ وائٹ پیپر میں اٹھائے گئے سوالات ابھی تک جوابات کے منتظر ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here