اسلام آباد این ایف سی ایوارڈ سے محروم کیوں ؟

0
588

تحریر – خالد چوہدری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک بد قسمت شہر ہے جو کہ پاکستان کا حصہ ہی نہیں ۔ اسلام آباد کو پانچویں صوبے کی حیثیت حاصل ہے جبکہ چیف کمشنر آئی سی ٹی کو گورنر کی حیثیت حاصل ہے۔ تیس لاکھ کے لگ بھگ آبادی ہے۔ لیکن نیشنل فنانس ایوارڈ ( این ایف سی ) میں اسلام آباد کو شامل ہی نہیں کیا گیا ۔

اسلام آباد کے رہائشیوں کو پاکستان کے کوٹہ سسٹم میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے جبکہ اسلام آباد کے نوجوانوں کو مرکزی کوٹہ سسٹم میں نوکری ہی نہیں ملتی۔ ان کو پنجاب کے ساتھ شامل کیا جاتا ہے پنجاب کی آبادی بہت زیادہ ہے اس لئے دارالحکومت کے رہائشیوں کو مرکز نوکریاں ہی نہیں ملتیں ۔

کچھ عرصہ قبل اسلام آباد ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک فیصلہ میں مرکزی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ اسلام آباد کی آبادی کو کوٹہ میں شامل کریں لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہ ہوا ہے ۔ اسلام آباد کے مقامی افراد کو مالی – چپڑاسی – چوکیدار اور درجہ چہارم کی نوکری دی جاتی ہے۔

پاکستان میں اسلام آباد میں لٹریسی ریٹ سب سے زیادہ ہے لیکن یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان پرائیویٹ نوکری کرنے پر مجبور ہیں ۔ اسلام آباد سے تین رکن اسمبلی ہیں جن میں سے ایک وفاقی وزیر ہیں لیکن بد قسمتی سے آج تک کسی نے بھی این ایف سی ایواڈ کا مسئلہ نہیں اٹھایا ۔ اراکین اسمبلی کے علاوہ اسلام آباد سے تین سینٹر بھی ہیں لیکن کبھی کسی نے بھی اسلام آباد کے لئے آواز بلند نہیں کی

اسلام آباد کی آبادی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ پانی ذخیرہ کرنے کا ایک چھوٹا سا ڈیم ہے جو کہ اسلام آباد کے لئے پانی کی سپلائی کے لئے ناکافی ہے وقت کے ساتھ ساتھ اس ڈیم میں مٹی بھر چکی ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے ۔ راول ڈیم اسلام آباد کے وسط میں موجود ہے لیکن اسلام آباد کے لئے اس ڈیم سے ایک قطرہ بھی استعمال نہیں کر سکتے اور یہ ڈیم بھی پنجاب کی ملکیت ہے ۔

کچھ عرصہ قبل خان پور ڈیم سے پائپ لائن بچھائی گئی تھی جس کا زیادہ تر پانی راولپنڈی چلا جاتا ہے حکومت نے تربیلا ڈیم سے پائپ لائن بچھانے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ارسا ” نے جواب دیا ہے کہ چونکہ اسلام آباد نیشنل ایواڈ کا حصہ نہیں اس لئے تربیلہ سے پانی کا حصہ نہیں مل سکتا ۔

اسلام آباد کو دارالحکومت بنانے والوں نے اسے نیشنل ایواڈ کا حصہ نہ بنا کر زیادتی کی ہے۔ اور اس کے لئے آواز بلند نہ کرنے والوں نے بھی زیادتی کی ہے ۔ دن بدن پانی کی کمی واقع ہو رہی ہے مستقبل میں کیا ہوگا آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں ۔

کیپیٹل ڈیویلمنٹ اتھارتی سی ڈی اے شہر کی ترقی اور تعمیر کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ این ایف سی کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے آج تک صرف پلاٹ بیچ کر کام کر رہ ہے. آخر کب تک پلاٹ فروخت کر کے شہر چلایا جائے گا ۔

موجودہ حکومت کے سربراہ میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نوٹس لے کر کو فوری طور پر اسلام آباد کو این ایف سی کا حصہ بنانے کے لئے آرڈیننس جاری کرانا چائیے اور اگر ضروری ہو تو آئنی ترمیم کرنی چاہیے

Pakistan in the World – June 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here