راولپنڈی ( شبیرسہام سے )
راولپنڈی کی تاریخ کے ایک انتہائی دلخراش اور انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ٹینچ بھاٹہ کے محلہ نورانی میں اپنی ہی دو کمسن بیٹیوں کو بے دردی سے قتل اور اہلیہ کو شدید زخمی کرنے والے ملزم عثمان انور کو عدالت نے دو بار سزائے موت سنا دی۔
تفصیلات کے مطابق 15 جولائی 2024 کو صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان عثمان انور نے تیز دھار خنجر سے اپنی تین سالہ بیٹی لاریب، نو سالہ بیٹی انوش اور اہلیہ عائشہ پر حملہ کیا۔ اس سفاکانہ واقعے میں دونوں کمسن بچیاں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں جبکہ اہلیہ شدید زخمی حالت میں معجزانہ طور پر جان بچانے میں کامیاب رہیں۔
واقعے کی ایف آئی آر تھانہ آر اے بازار میں درج کی گئی، جبکہ مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر HIU سہیل بھٹی نے کی۔ ابتدائی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عرفان اکرم کی عدالت میں ہوئی جسکا ٹرائل لگ بھگ ایک سال تین ماہ ہوا بعد ازاں کیس ماڈل کورٹ میں ایڈیشنل سیشن جج محترمہ افشاں اعجاز صوفی کے روبرو زیرِ سماعت رہا۔
دورانِ سماعت ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب کیس کا ایک چشم دید گواہ منحرف ہو کر ملزم کے حق میں بیان ریکارڈ کروا بیٹھا، جس کے باعث مقدمہ ملزم کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا تھا۔ تاہم نامزد پراسکیوٹر عقیل اعوان نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت، ٹھوس شواہد اور مضبوط دلائل کے ذریعے کیس کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا۔
تمام شواہد، گواہوں کے بیانات اور پراسیکیوشن کی مضبوط پیروی کی بنیاد پر معزز عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے عثمان انور کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 302 کے تحت دو بار سزائے موت اور دس، دس لاکھ روپے جرمانہ، جبکہ دفعہ 324 کے تحت پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج محترمہ افشاں اعجاز صوفی نے اس ہائی پرفائل مقدمہ کو اپنی قابلیت ثابت کرتے ہوئے عرصہ دو ماہ کے اندر اندر نمٹا دیا۔
آج بروز جمعرات، 18 دسمبر کو سنائے گئے اس فیصلے پر لواحقین نے اطمینان کا اظہار کیا جبکہ شہری حلقوں نے عدالتی نظام کی بروقت اور شفاف کارروائی کو سراہا۔ یہ فیصلہ نہ صرف متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی تکمیل ہے بلکہ معاشرے میں جرائم کے خلاف ایک مضبوط اور واضح پیغام بھی قرار دیا جا رہا ہے۔