“ایران نے 20 سال جنگ کی تیاری کی — امریکہ 21ویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں” -چینی پروفیسر

0
191

(پروفیسر جیانگ شوئے چھِن (Jiang Xueqin) — چینی نژاد کینیڈین ماہرِ تعلیم، مصنف اور جیوپولیٹیکل تجزیہ کار؛ یوٹیوب چینل Predictive History کے بانی و میزبان۔ ییل کالج سے انگریزی ادب میں بی اے کی ڈگری رکھتے ہیں۔)

“میرے تجزیے کے مطابق جس طرح یہ جنگ آگے بڑھ رہی ہے، میرا ماننا ہے کہ ایران کو امریکہ پر کئی اسٹریٹجک برتریاں حاصل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت یہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک طویل تھکا دینے والی جنگ (war of attrition) بن چکی ہے۔ ایرانی اس تصادم کے لیے 20 سال سے تیاری کر رہے ہیں — اپنی مذہبی فکر اور نظریۂ آخرت (eschatology) کے تناظر میں۔ ان کے نزدیک یہ “عظیم شیطان” کے خلاف جنگ ہے۔

انہوں نے اس سے پہلے بھی کئی مشقیں کی ہیں۔ گزشتہ جون میں 12 روزہ جنگ ہوئی تھی جس میں ایرانیوں نے اسرائیل اور امریکہ دونوں کی حملہ آور صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور انہیں پرکھا۔ اس کے بعد انہیں آٹھ ماہ مکمل تیاری کا وقت بھی ملا۔

ایران نے اپنے اتحادی گروہوں — حوثی، حزب اللہ، حماس اور شیعہ ملیشیاؤں — کے ذریعے امریکی ذہنیت کو بخوبی سمجھ لیا ہے، اور اب ان کے پاس امریکی طاقت کو کمزور کرنے اور بالآخر امریکی سلطنت کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی موجود ہے۔

ایران دراصل صرف امریکہ سے نہیں بلکہ پوری عالمی معیشت کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ وہ خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ وہ امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ ان کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کر رہا ہے۔ آگے چل کر وہ پانی صاف کرنے والے پلانٹس (desalination plants) کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو ان ممالک کی شہ رگ ہیں کیونکہ ان کے پاس قدرتی تازہ پانی نہیں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی 60 فیصد پانی کی فراہمی انہی پلانٹس سے ہوتی ہے۔ اگر 50 ہزار ڈالر کا ایک ڈرون ریاض جیسے شہر کے کسی بڑے پلانٹ کو تباہ کر دے، جہاں ایک کروڑ آبادی ہے، تو وہ دو ہفتوں میں پانی سے محروم ہو سکتا ہے۔

اسی طرح ایران نے عملاً آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جبکہ خلیجی ممالک اپنی 90 فیصد خوراک اسی راستے سے حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ایران سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر کے وجود کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔

یہ اہم اس لیے ہے کیونکہ خلیجی ریاستیں امریکی معیشت کی بنیاد ہیں۔ وہ پیٹرو ڈالر بیچتی ہیں اور پھر انہی ڈالرز کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ اس وقت امریکی معیشت مصنوعی ذہانت (AI) کے ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری پر کھڑی ہے، جس میں بڑا حصہ خلیجی سرمایہ کا ہے۔

اگر خلیجی ممالک تیل فروخت نہ کر سکیں یا AI میں سرمایہ کاری نہ کر سکیں تو یہ AI بلبلا پھٹ جائے گا، اور اس کے ساتھ امریکی معیشت بھی، جو ان کے مطابق ایک مالیاتی “پونزی اسکیم” ہے۔

میرا پہلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی فوج 21ویں صدی کی جنگ لڑنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی۔ امریکی فوجی صنعتی نظام دوسری عالمی جنگ کے بعد سرد جنگ لڑنے کے لیے بنایا گیا تھا — جہاں ٹیکنالوجی اور طاقت کا مظاہرہ اہم تھا۔

امریکی دفاعی نظام انتہائی مہنگی اور پیچیدہ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اسی لیے اس جنگ میں عدم توازن نظر آ رہا ہے — ملین ڈالر کے میزائل 50 ہزار ڈالر کے ڈرون گرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو طویل مدت میں پائیدار نہیں۔

یہ امریکی ناقابلِ شکست ہونے کے تاثر کے خاتمے کا آغاز ہے، جو سرد جنگ کے بعد امریکی بالادستی کی بنیاد تھا۔ یہ نہ صرف عالمی معیشت بلکہ پیٹرو ڈالر اور امریکی ریزرو کرنسی سسٹم کے خاتمے کی علامت ہے۔ دنیا ایک کثیر قطبی نظام (multipolar world) کی طرف جا رہی ہے۔

اگر امریکہ ایران میں زمینی افواج بھیجتا ہے تو یہ اس کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ مگر صرف فضائی حملوں سے کبھی بھی کسی ملک میں حکومت کی تبدیلی نہیں ہوئی — زمینی فوج درکار ہوتی ہے۔

اگلے چند ماہ میں امریکہ پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ زمینی فوج بھیجے، خاص طور پر خلیجی ممالک اور اسرائیل کی طرف سے۔ اگر خلیجی ریاستیں گر گئیں تو پیٹرو ڈالر بھی ختم ہو جائے گا۔

ان ممالک کے پاس دو راستے ہوں گے:

یا تو ایران کو اربوں ڈالر دے کر جنگ روکی جائے،

یا پھر امریکہ زمینی فوج بھیج کر ایرانی خطرے کو ختم کرے۔

امریکی عوام زمینی جنگ کے خلاف ہیں — اور پہلے حملوں کے بھی 78 فیصد مخالف تھے۔

میرا ہمیشہ سے مؤقف رہا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل دونوں ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتے ہیں۔ سعودی عرب کے لیے ایران زیادہ بڑا وجودی خطرہ ہے کیونکہ سعودی معیشت مکمل طور پر تیل پر منحصر ہے، جبکہ ایران ایک تھیوکریسی ہے جو سعودی بادشاہت کے خلاف ہے۔

ایران حوثیوں کی مدد کرتا ہے جو سعودی عرب کے لیے مسئلہ رہے ہیں۔ سعودی معیشت اس وقت دباؤ میں ہے، وہ سیاحت، ای اسپورٹس اور نیوم جیسے منصوبوں کے ذریعے معیشت بدلنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ کامیاب نہیں ہو رہے۔

اس لیے سعودی عرب پورے مشرق وسطیٰ کے تیل پر کنٹرول چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ رپورٹ درست ہو سکتی ہے کہ سعودی عرب نے ایران پر حملے کے لیے دباؤ ڈالا، کیونکہ وہ اسرائیل اور امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے دے رہا ہے۔

یہ سوال اہم ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ میرے نزدیک تین ممکنہ وجوہات ہیں:

پہلا: تکبر ۔ تاریخ میں سلطنتیں اسی طرح رویہ اختیار کرتی ہیں۔ جلدی کامیابیاں حد سے زیادہ اعتماد پیدا کرتی ہیں۔

دوسرا: اندرونی سیاسی فائدہ۔ اگرچہ امریکہ کو اس جنگ سے فائدہ نہیں، مگر ٹرمپ کو ذاتی طور پر فائدہ ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب نے جیرڈ کشنر کے فنڈ میں 2 ارب ڈالر لگائے۔ اسرائیلی شخصیات نے ٹرمپ کی مالی مدد کی۔ اگر جنگ بڑھی اور ایمرجنسی اختیارات ملے تو وہ سیاسی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تیسرا: نظریۂ آخرت اور خفیہ طاقتیں۔ ایپسٹین فائلز سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا پر خفیہ گروہ حکمرانی کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انہیں الومیناتی کہتے ہیں — جن میں جیسیوٹ، سباطین فرینکسٹ اور فری میسن شامل ہیں۔ ان کے نزدیک مشرق وسطیٰ کی جنگ آخری زمانے کے منصوبے کا حصہ ہے۔”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here