نیشنل بینک آف پاکستان میں خاتون کو ہراساں کرنے پر دو اعلیٰ افسر برطرف

0
269

(آئینہ عدالت ؛  احسن یار چھینہ، ایڈووکیٹ)

نادیہ سرور 2008 سے نیشنل بینک آف پاکستان میں ملازمت کر رہی تھیں۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ دورانِ ملازمت انہیں اپنے دو اعلیٰ افسران، عقیل عباس اور عثمان شاہد، کے ہاتھوں نامناسب رویے اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے پیش نظر انہوں نے 24 ستمبر 2012 کو بینک کے صدر کو تحریری شکایت ارسال کی۔ درخواست گزار کے مطابق اس شکایت کے باوجود ادارے کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ اس کے بعد ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کیا گیا جس سے ان کے لیے دفتر کا ماحول مزید مشکل اور خوفزدہ  ہو گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اس صورتحال سے متعلق اعلیٰ حکام کو متعدد بار آگاہ کیا۔ 24 جون 2013 کو انہوں نے ٹیلی فون کے ذریعے ڈویژنل ہیڈ کو معاملے سے آگاہ کیا اور 26 جون 2013 کو ایک ای میل کے ذریعے بھی اپنی شکایت کا اعادہ کیا۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود بھی کوئی باقاعدہ انکوائری شروع نہیں کی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے 2 جولائی 2013 کو ایک اور تحریری شکایت دائر کی جس میں انہوں نے ہراسانی کے چند مخصوص واقعات کا ذکر کیا۔

چونکہ ادارے کی جانب سے اس معاملے پر کوئی واضح کارروائی نہ ہوئی، اس لیے درخواست گزار نے بالآخر 3 ستمبر 2013 کو خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 کے تحت وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرائی۔ اس شکایت کی سماعت کے دوران جواب دہندگان کی جانب سے ابتدائی طور پر یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ درخواست گزار کی شکایت قابل سماعت نہیں کیونکہ ان کی ٹیم کو پہلے ہی ان کی رضامندی سے تبدیل کر دیا گیا تھا اور اس طرح معاملہ حل ہو چکا تھا۔

محتسب نے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ قانون کے مطابق ہر ادارے کے لیے لازم ہے کہ وہ ہراسانی کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ انکوائری کمیٹی قائم کرے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ متعلقہ وقت میں بینک نے قانون کے تقاضوں کے مطابق ایسی کمیٹی قائم نہیں کی تھی۔ اس بنیاد پر محتسب نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو براہِ راست محتسب کے سامنے شکایت دائر کرنے کا حق حاصل تھا۔

تمام شواہد اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد محتسب نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ درخواست گزار کے الزامات قابلِ قبول ہیں اور انہوں نے اپنے مؤقف کو قابلِ اعتبار شواہد کے ذریعے ثابت کر دیا ہے۔ چنانچہ 4 فروری 2014 کو جاری کیے گئے فیصلے کے ذریعے جواب دہندگان کو قصوروار قرار دیتے ہوئے ان پر بڑی سزا عائد کی گئی اور انہیں جبری ریٹائرمنٹ کی سزا سنائی گئی۔

اس فیصلے کے خلاف جواب دہندگان نے صدرِ پاکستان کے سامنے نمائندگی دائر کی۔ درخواست گزار نے بھی اس مرحلے پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ جواب دہندگان کے خلاف سزا مزید سخت ہونی چاہیے۔ صدرِ پاکستان نے فریقین کے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد 11 نومبر 2014 کو ایک حکم جاری کیا جس کے ذریعے محتسب کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا گیا اور اس کی جگہ جواب دہندگان کے خلاف صرف سرزنش کی سزا برقرار رکھی گئی۔

صدر کے حکم میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے اپنے مختلف بیانات میں بعض ایسے واقعات کا ذکر کیا جو ابتدائی شکایت میں شامل نہیں تھے، جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مقدمے میں بعد ازاں نئے الزامات شامل کیے گئے۔

درخواست گزار نے اس حکم کو اسلام آباد ہائیکورٹ (اس) عدالت کے سامنے چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ صدر کا حکم شواہد کے غلط جائزے اور قانون کی غلط تشریح پر مبنی ہے۔ ان کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بینک نے قانون کے مطابق انکوائری کمیٹی قائم نہیں کی تھی اور اسی وجہ سے درخواست گزار کو محتسب کے سامنے براہِ راست رجوع کرنے کا حق حاصل تھا۔ مزید یہ کہ درخواست گزار کی ابتدائی شکایات محض صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے تھیں اور ان میں تمام تفصیلات شامل نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ بعد میں بیان کیے گئے واقعات جھوٹے تھے۔

دوسری جانب جواب دہندگان کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے الزامات میں اضافہ کیا اور اس طرح اپنے مقدمے کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شکایت میں جن واقعات کا ذکر نہیں تھا انہیں بعد میں بیان کرنا مقدمے کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے۔

فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد عدالت نے اس بات کا جائزہ لیا کہ آیا صدر کے حکم میں بیان کیے گئے اسباب قانونی طور پر درست تھے یا نہیں۔ عدالت نے سب سے پہلے اس امر کا جائزہ لیا کہ آیا بینک کی جانب سے کی گئی اندرونی کارروائی کو قانونی حیثیت حاصل تھی۔

ریکارڈ سے ظاہر ہوا کہ جس کمیٹی کو بینک کی جانب سے انکوائری کمیٹی قرار دیا گیا وہ دراصل قانون کے مطابق تشکیل نہیں دی گئی تھی کیونکہ قانون کے تحت ایسی کمیٹی میں تین اراکین کا ہونا لازمی ہے جبکہ مذکورہ کمیٹی میں یہ شرط پوری نہیں کی گئی تھی۔ مزید برآں اس کمیٹی کی کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب درخواست گزار پہلے ہی محتسب کے سامنے شکایت دائر کر چکی تھیں۔ اس بنا پر عدالت نے قرار دیا کہ اس کمیٹی کی کارروائی کو قانونی حیثیت حاصل نہیں تھی اور اس پر انحصار کرنا درست نہیں تھا۔

عدالت نے اس اعتراض کا بھی جائزہ لیا کہ آیا درخواست گزار نے بعد میں نئے الزامات شامل کیے تھے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی ابتدائی شکایات دراصل ادارے کے اعلیٰ حکام کو صورتحال سے آگاہ کرنے کے لیے تھیں اور انہیں باقاعدہ قانونی شکایت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید یہ کہ قانون میں یہ لازم نہیں کہ شکایت کنندہ اپنی پہلی تحریری شکایت میں تمام واقعات کی مکمل تفصیل بیان کرے۔

عدالت نے اس اصول کی طرف بھی توجہ دلائی کہ فوجداری مقدمات میں بھی ابتدائی اطلاع یعنی ایف آئی آر کو تمام تفصیلات کا مکمل ریکارڈ تصور نہیں کیا جاتا بلکہ اس کا مقصد صرف قانون کو حرکت میں لانا ہوتا ہے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ محض اس بنیاد پر کہ بعض واقعات ابتدائی شکایت میں شامل نہیں تھے، انہیں بعد میں ناقابل قبول قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ محتسب کے سامنے پیش کیے گئے شواہد کا مجموعی طور پر جائزہ لینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ درخواست گزار کے مؤقف کی تائید کرنے والے متعدد گواہ موجود تھے جبکہ جواب دہندگان کی جانب سے ان الزامات کے رد میں کوئی قابلِ اعتماد وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کیا گیا حکم شواہد کے درست جائزے کے بغیر دیا گیا اور اس میں بعض اہم قانونی نکات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس بنیاد پر عدالت نے قرار دیا کہ مذکورہ حکم قانون کے مطابق برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔

چنانچہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے صدرِ پاکستان کے 11 نومبر 2014 کے حکم کو کالعدم قرار دے دیا اور وفاقی محتسب کے 4 فروری 2014 کے فیصلے کو بحال کر دیا،اور دونوں افسروں کو جبری ریٹائرڈ کر دیا۔

یوں اس مقدمے میں عدالت نے یہ اصول واضح کیا کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کے معاملات میں قانون کی روح کے مطابق شکایات کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں اور کسی بھی ادارے کی جانب سے عورت کی حراسانی کی شکائت کو نظر انداز کرنا ، خلافِ قانون ہے۔

یہ کارروائی بنیادی طور پر “تحفظِ خواتین از ہراسانی در مقامِ کار ایکٹ 2010” کے تحت شروع ہوئی۔ اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی خاتون یا مرد ملازم کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کیا جائے اور اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آئے تو اس کے ازالے کے لیے ایک باقاعدہ قانونی طریقہ کار فراہم کیا جائے۔ اس قانون کی دفعہ 2(h) میں ہراسانی کی تعریف بیان کی گئی ہے جس کے مطابق کسی بھی شخص کا ایسا رویہ، اشارہ، جملہ یا عمل جو جنسی نوعیت کا ہو یا کسی فرد کے لیے توہین آمیز اور غیر محفوظ ماحول پیدا کرے، ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔

قانون کی دفعہ 3 کے تحت ہر ادارے کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ادارے میں ایک باقاعدہ “انکوائری کمیٹی” قائم کرے جو ہراسانی کی شکایات کی تحقیقات کرے۔ اس کمیٹی میں کم از کم تین اراکین ہونا ضروری ہیں جن میں سے ایک خاتون ہونا بھی لازمی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شکایت کی غیر جانبدارانہ اور فوری تحقیقات کی جا سکیں۔

قانون کی دفعہ 4 کے مطابق اگر کسی ملازم کو ہراسانی کا سامنا ہو تو وہ سب سے پہلے اپنے ادارے کی انکوائری کمیٹی کو تحریری شکایت پیش کرے۔ کمیٹی اس شکایت کی تحقیقات کر کے اپنی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کرتی ہے۔ اس قانون کی دفعہ 4(4) کے مطابق شکایت موصول ہونے کے بعد کمیٹی فریقین کے بیانات اور شواہد کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرتی ہے۔

اگر ادارہ اس قانون کے مطابق کمیٹی قائم نہ کرے یا شکایت پر مناسب کارروائی نہ کرے تو دفعہ 8 کے تحت متاثرہ فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ براہِ راست وفاقی محتسب برائے تحفظِ خواتین کے سامنے شکایت درج کرائے۔ اسی قانونی اختیار کے تحت درخواست گزار نے وفاقی محتسب کے سامنے اپنی شکایت پیش کی۔

وفاقی محتسب کو اس قانون کے تحت مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ شواہد کا جائزہ لے، گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرے اور اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو مناسب سزا عائد کرے۔ اس قانون کی دفعہ 4 اور دفعہ 5 کے تحت مختلف سزائیں مقرر کی گئی ہیں جن میں سرزنش (Censure)، تنبیہ (Warning)، ترقی روک دینا، تنزلی، جبری ریٹائرمنٹ، یا ملازمت سے برطرفی شامل ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here