حمید شاہد کی خود نوشت “خوشبو کی دیوار کے پیچھے” کی تقریبِ پذیرائی

0
574

محمد حمید شاہد کی آپ بیتی، اُردو ادب کی چند بڑی آپ بیتیوں میں سے ہے : افتخارعارف
خوشبو کی دیوار کے پیچھے” محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ ایک تخلیقی سفر کی روداد ہے: جلیل عالی حمید شاہد کی خود نوشت کا اسلوب قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے : پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ادارۂ فروغِ قومی زبان اور ادبی و ثقافتی تنظیم “زاویہ” کے اشتراک سے اردو کے ممتاز افسانہ نگار، ناول نگار،نقاد، محقق ، سیرت نگار اور دانشور محمد حمید شاہد کی خود نوشت “خوشبو کی دیوار کے پیچھے” کی تقریبِ پذیرائی “ایوانِ اُردو”، ادارۂ فروغِ قومی زبان، اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔

تقریب کی صدارت معروف ادیب و شاعر افتخار عارف نے کی، جب کہ مہمانِ خصوصی پروفیسر جلیل عالی تھے۔ کلماتِ تشکر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے ادا کیے۔افتتاحی کلمات ادبی و ثقافتی تنظیم” زاویہ” کے صدر محبوب ظفر نے ادا کیے اور تقریب کی بہت ہی احسن انداز میں نظامت کی۔

اظہارِ خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر حمیرا اشفاق، ڈاکٹر صنوبر الطاف اور ڈاکٹر بی بی امینہ شامل تھے جنہوں نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات اور اس خود نوشت کی فنی و فکری اہمیت پر روشنی ڈالی۔

صدارتی خطبے میں افتخار عارف نے کہا کہ محمد حمید شاہد کا شمار اُن اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے فن کو خلوص، صداقت اور فنی مہارت کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کی خود نوشت ہماری ادبی تاریخ میں ایک قیمتی اضافہ ہے جو نہ صرف قاری کو حقیقت اور تخیل کے سنگم پر لے جاتی ہے بلکہ عہدِ موجود کے سیاسی و ادبی پس منظر کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

مہمانِ خصوصی پروفیسر جلیل عالی نے کہا کہ خوشبو کی دیوار کے پیچھے محض ایک خود نوشت نہیں بلکہ ایک تخلیقی سفر کی روداد ہے، جو قاری کو ادب، فکر اور مشاہدے کی نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ محمد حمید شاہد نے اپنی زندگی کو نہایت خلوص اور ایمانداری سے منعکس کیا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

ادارۂ فروغ قومی زبان کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر نے کلماتِ تشکر میں کہا کہ محمد حمید شاہد کی خود نوشت نہ صرف اُن کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے بلکہ ہمارے عہد کے ثقافتی، سماجی اور ادبی منظرنامے کو آئینہ کی صورت میں جلوہ گر کرتی ہے۔ اس کتاب کا اسلوب قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ اُردوکے سوانحی ادب میں ایک اہم اضافہ ہے۔

صاحبِ کتاب محمدحمید شاہد نے کہا کہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا سب اس کتاب میں لکھ چکا ہوں ۔اُنھوں نے مزید کہا کہ میں نے ادب سے یہی سیکھا ہے کہ زندگی وہی ہے جو آپ کو انسانیت سے جوڑے”۔

ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے کہا کہ یہ ایک ایسی خود نوشت ہے جس میں کہیں انشائیے، کہیں خاکے اور کہیں خود نوشت یا آپ بیتی کا گمان ہوتا ہے۔

پروفیسرڈاکٹر ارشد محمود ناشاد نے کہا کہ اس خودنوشت کے لفظ سانس لیتےہیں۔ اس کتاب میں جذبہ و احساس کی ہمہ رنگی ہے اور یہ تہذیب و اخلاق کا مرقع ہے۔

ڈاکٹر صنوبر الطاف نے کہا کہ یہ کتاب حمید شاہد کے کامیاب ادیب بننے کی جدو جہد کو بیان کرتی ہے۔ ڈاکٹر بی بی امینہ نے کہا کہ یہ صرف سوانحی خاکہ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی تاریخ ہے۔

تقریب میں جڑواں شہروں اورمضافات سے علمی، ادبی و ثقافتی شخصیات نے بھرپورشرکت کی اور محمدحمید شاہد کو اُن کی تخلیقی اور فکری خدمات پر زبردست خراجِ تحسین پیش کیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here