اہلیان نورپور شاہاں بری امام کی بے دخلی عدالت عالیہ کے فیصلے کی خلافت ورزی

0
280

تجاوزات کے خلاف آپریشن سے پہلے عدالت نے کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا۔ جس پر سی ڈی اے نے عمل نہیں کیا۔

متاثرین نور پور شاہاں کی آبادکاری میں سی ڈی اے کی مجرمانہ غفلت رہی۔ اپنے ہی فیصلوں پر عمل نہیں کیا۔
تنویر حسین عباسی چئیر مین عوام دوست گروپ نورپور شاہاں

اسلام آباد 30 دسمبر- اہلیان نورپور شاہاں بری امام کے خلاف طاقت کا استعمال اور بے دخلی کا آپریشن عدالت عالیہ کے احکامات کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی، جس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار تنویر حسین عباسی چیئرمین عوام دوست گروپ نے اہل علاقہ سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اہلیان نورپور شاہاں قانون کے دائرے میں اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں مگر سی ڈی اے حکام کا رویہ آمرانہ ہے جو طاقت کے استعمال پر یقین رکھتا ہے۔ چیئرمین عوام دوست گروپ نے کہا کہ عدالت عالیہ نے نورپور شاہاں ماڈل ویلج کے قیام کے حوالے سے سی ڈی اے کے فیصلوں کی روشنی میں رٹ پٹیشن نمبر 4026/2020 تنویر حسین بنام سی ڈی اے میں 26 جون 2025 کو متاثرین نورپور شاہاں کی آبادکاری کے لئے سی ڈی اے کی پالیسی کے مطابق بورڈ کے فیصلوں پر عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے زون تھری میں ترمیم کر کے نورپور شاہاں ماڈل ویلج کے قیام کو یقینی اور محفوظ بنانے کا واضح حکم دیا ہے ۔ تنویر حسین نے کہا کہ عدالت نے سی ڈی اے کو حکم دیا ہے کہ نور پور شاہاں میں کسی بھی قسم کے آپریشن سے پہلے سی ڈی اے کے ممبر کے سطح کے افسر کی سربراہی میں نو رکنی کمیٹی جس میں مقامی نمائندگی بھی ہوگی قائم کی جائے گی۔ جس کی نگرانی میں متاثرین اور غیر متاثرین کے گھروں کی چھان بین کے بعد کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ہونا تھا مگر سی ڈی اے حکام طاقت کے زور پر دو دن کے نوٹس پر لوگوں کے مکانات گرا رہے ہیں۔

تنویر عباسی نے کہا کہ چھ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود سی ڈی اے نے عدالت کی ماڈل ویلج کے حوالے سے دی گئی گائیڈ لائن پر عمل درآمد نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کی مجرمانہ غفلت سے متاثرین نور پور شاہاں پچھلے 50 سالوں سے مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہیں راستے بند کر دئیے گئے ہیں۔ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی زمین پر وزیراعظم ہاؤس بنا ہے وہ 50 برسوں سے اپنی ہی آبادکاری کے حق لئے ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔

تنویر حسین عباسی نے صدر اور وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ سی ڈی اے کو نور پور شاہاں کے حوالے سے عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق ماڈل ویلج بنانے کے حکم کا پابند کیا جائے۔ جن سے مارشل لاء کے کالے قانون کے تحت گردن پر پاؤں رکھ کا اپنی مرضی کے ریٹ لگا کر 17 ہزار سے کنال اراضی لی گئی۔ مگر متاثرین کو ماڈل ویلج کی صورت میں آباد نہیں کیا گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here