اسلام آباد/ ماسکو (ترجمہ ڈیسک پاکستان ان دا ورلڈ + اے پی پی)
پاکستان اور روس کے سینئر سفارت کاروں اور ماہرین نے پاکستان۔روس میڈیا فورم میں اسٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے، اقتصادی و دفاعی تعاون کو وسعت دینے اور میڈیا اشتراک کو فروغ دینے پر زور دیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔
ماسکو سے فورم کے پہلے سیشن بعنوان ’’بدلتی ہوئی دنیا میں عالمی چیلنجز اور تناظرات: ماسکو اور اسلام آباد کا جائزہ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ یہ تقریب دونوں ممالک کے دانشور حلقوں کے درمیان گہری باہمی دلچسپی کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والا آئندہ سربراہی اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان پانچویں ملاقات پر ہو گا، جو اعلیٰ سطحی سفارتی روابط کا مظہر ہے۔
سفیر نے اعلان کیا کہ پاکستان، وزیر اعظم کے دورہ روس کے موقع پر پاکستان۔روس بزنس فورم کا انعقاد کر رہا ہے جس میں 100 سے زائد نمایاں پاکستانی کمپنیاں اپنے روسی ہم منصبوں سے ملاقات کریں گی۔دوطرفہ تعلقات میں تیزی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تعلیم، تجارت، زراعت اور ثقافتی تبادلوں میں مواقع کو اجاگر کیا اور عوامی سطح پر روابط کو مزیدمضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان روس میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کی تعداد 13 ہزار تک بڑھانے کا خواہاں ہے اور روسی اسکالرز کو بھی پاکستان میں تعلیمی تبادلوں کے لیے خوش آمدید کہتا ہے۔انہوں نے باقاعدہ ’’دروژبا‘‘ فوجی مشقوں اور مشترکہ بحری مشقوں کا بھی حوالہ دیا اور خطے اور دنیا میں استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے امن، مکالمے اور سفارت کاری کے عزم کا اعادہ کیا۔
روسی وزارت خارجہ کے انفارمیشن اینڈ پریس ڈیپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ماریا زاخارووا نے فورم کو دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کے فروغ کا بہترین موقع قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ معلومات ایک اسٹریٹجک وسیلہ بن چکی ہیں اور قومی طاقت اور خودمختاری کو جانچنے کا ایک اہم پیمانہ بھی ہیں تاہم اس کے ساتھ بعض چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔
ماریا زاخارووا نے کہا کہ ہائبرڈ تنازعات کی نئی شکلیں سامنے آ رہی ہیں جن میں روایتی فوجی ذرائع کے بجائے سیاسی، اقتصادی اور غیر فوجی اقدامات استعمال کیے جاتے ہیں۔انہوں نے جعلی خبروں میں خطرناک حد تک اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی میڈیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔انہوں نے ماضی میں فوجی مداخلتوں سے قبل رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تقریباً 20 برس قبل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو کس طرح گمراہ کیا گیا جس کے دنیا کے مختلف حصوں میں بھیانک نتائج برآمد ہوئے۔
انہوں نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن کے طور پر منانے کی حمایت کا اظہار کیا اور کہا کہ تمام مذاہب آزادی اظہار اور مذہبی آزادی کی تعلیم دیتے ہیں تاہم بعض ممالک اپنے دعووں اور عملی اقدامات کے تضاد کو نظر انداز کرتے ہیں۔ انہوں نے مکالمے اور تعمیری روابط کے ذریعے مل کر آگے بڑھنے پر زور دیا۔
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور سابق پارلیمنٹیرین سید مشاہد حسین نے پاکستان کے سفیر کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مارچ میں وزیر اعظم پاکستان کا دورہ روس ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان بنیادی مفادات کا کوئی تصادم نہیں۔ انہوں نے 1984 میں سوویت یونین کے اپنے پہلے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے روسی میڈیا کے ساتھ اپنی طویل وابستگی کا ذکر کیا، جن میں آر ٹی (روسیا ٹوڈے) سمیت دیگر ادارے شامل ہیں۔
سید مشاہد حسین نے میڈیا کے تاثر اور غلط معلومات کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین جیسے معاملات میں انسانی بحران کو اکثر جغرافیائی سیاسی مفادات کے باعث پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔انہوں نے شمولیت، مساوات، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں پر مبنی نئے عالمی نظام کے قیام کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان اور روس اس وژن میں ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی، غربت کے خاتمے اور علاقائی سلامتی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
روس کے پاکستان میں سفیر البرٹ خوریف نے اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان بڑھتی ہوئی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے عوامی سفارت کاری، عوامی روابط اور یوریشین خطے میں اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ روس 2010 سے فعال انداز میں تعاون کو فروغ دے رہا ہے جس کے نتیجے میں سفارت کاری، میڈیا اور ثقافتی تبادلوں سمیت مختلف شعبوں میں قریبی روابط بڑھے ہیں۔
انہوں نے افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے خطرات کے باوجود پاکستان کی علاقائی استحکام میں کردار کو سراہا اور بھارت کے ساتھ حالیہ واقعے میں کشیدگی سے گریز کو ذمہ دارانہ طرز عمل قرار دیا۔انہوں نے دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف دوطرفہ اور شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کے تحت قریبی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے نارتھ۔ساؤتھ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ کوریڈور سمیت نئے یوریشین ٹرانسپورٹ راستوں کی ترقی کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی لاجسٹک حب بن سکتا ۔