تنویر اعوان نے اطلاع دی ہے
نیشنل سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد؛ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ یاسر محمود زیرِ حراست صحافی فخر الرحمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے فوراً بعد وکیلِ صفائی بیرسٹر احد کھوکھر نے درخواستِ ضمانت دائر کی، جس پر سماعت پیر کے روز مقرر کر دی گئی ہے۔ قانون کی ان پیچیدگیوں کے بیچ، زیرِ نظر تصویر میں قید 61 سالہ فخر کی آنکھیں تیکھے سوالات لیے حرفِ صداقت کی قیمت پوچھتی نظر آتی ہیں۔
اظہر سید لکھتے ہیں۔
فخر رحمٰن فیلڈ کا ساتھی تھا ۔فیلڈ میں کسی بھی میڈیا گروپ سے ہوں سب دوست ہوتے ہیں ۔فیلڈ کے دوستوں کی زاتی زندگی کے متعلق اتنا ہی جانتے ہیں جتنا وہ بتاتے ہیں ۔تین دہائیاں رپورٹنگ کی ہو ، بے شمار چیزوں کا پتہ چل جاتا ہے ۔ایجنسیوں کا طریق کار اور کسی بھی معاملہ پر ایس او پیز کبھی نہیں بدلتے کمانڈر یا افسر بھلے کوئی بھی ہو ۔نچلی سطح پر یا کسی افسر یا کمانڈر کے خلل دماغ کی وجہ سے کچھ استثنا ہوتے ہیں لیکن عمومی طور پر ایس او پیز پر ہی عمل ہوتا ہے ۔
ہمارے متعلق اگر فیلڈ کے دوستوں کو ایک دن پتہ چلے کسی ایجنسی کا میڈیا میں پلانٹڈ بندہ تھا ۔اچانک پتہ چلے کسی ملک دشمن سوشل میڈیا پیج کا ایڈمن تھا جو اس پراپیگنڈہ مشنری کا پرزہ تھا جو فوج،ایٹمی صلاحیت یا پاکستان دشمن ایجنڈے کو آگے بڑھاتا ہے سارے دوست حیرت زدہ رہ جائیں گے ۔
ہمیں گزشتہ روز فخر رحمٰن کی پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاری کا پتہ چلا قدرتی طور پر افسوس ہوا غصہ بھی آیا ۔چند گھنٹوں بعد چند فون کال سے جو چیزیں سامنے آئیں تکلیف ہوئی معید پیرزادہ،صابر شاکر ،شاہین صہبائی ایسے ملک دشمن ایجنڈہ کو بڑھانے والوں میں ہمارا دوست بھی شامل تھا ۔
سارے زاتی تعلقات دوستیاں ایک طرف اپنی مٹی سے وفاداری اور محبت دوسرے پلڑے میں ۔
جنرل باجوہ اور جنرل فیض کے دور میں جس قدر تنقید ہم یعنی اظہر سید نے ڈٹ کر فوج کی سیاسی انجینئرنگ پر کی دعویٰ کرتے ہیں اس ملک میں رہ کر کسی نے اتنی جرآت اور دلیری کا مظاہرہ نہیں کیا ۔
بے خوفی کی وجہ صرف ایک تھی ہماری ہر تحریر ہماری اپنی تھی ،اپنے ملک کی محبت میں لکھی تھی ۔ایجنسیوں کے طریق کار کا ، ایس او پیز کا پتہ تھا ۔دامن صاف تھا ۔ہاتھ صاف تھے ۔کسی فون کال سے ،کسی بینک ٹرانزیکشن سے اور کسی ملاقات سے کچھ بھی نہیں مل سکتا تھا ۔
کسی صحافی کو اچانک نہیں اٹھایا جاتا ۔پہلے ایس او پیز فالو ہوتے ہیں ۔پھر پکڑا جاتا ہے ۔اٹھایا جاتا ہے ۔یہاں بھی بحرحال استثناء ہوتے ہیں ۔مالکان کا کمانڈ سٹرکچر کسی ایجنڈے پر چل رہا ہو اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے کو بغیر ایس او پیز کے پکڑا جا سکتا ہے ۔کوئی دماغی خلل کا افسر ،کمانڈر زاتی سطح پر خود سے کسی پر ہاتھ ڈال دیتا ہے ۔فخر رحمٰن کے متعلق جو کچھ پتہ چلا ہے افسوسناک ہے اور بس ۔
کے آر حبیب لکھتے ہیں۔
فخر رحمان کے ساتھ بیٹ رہورٹر کے طور پر کافی انٹرایکشن رہا سپریم کورٹ اکھٹے کرتے تھے پھر آج ٹی وی میں میرا کولیگ رہا بحیثیت انسان نفیس اور خوش گفتار شخصیت ہے جاب کے دوران کئی مرتبہ اندازہ ہوا اس کے سورس وہ نارمل سورس نہیں ہیں جو عام رپورٹرز کے ہوتے بلکہ بڑی ڈویلپمینٹ کا اسے ہونے سے پہلے علم ہوتا تھا۔
جیسے یہ پارٹ آف آپریشن ہو مثال نواز شریف دور میں جب سپریم کورٹ پر حکومتی پارٹی نے جسٹس سجاد علی شاہ کی کورٹ پر حملہ کیا تو ہم سب کورٹ روم میں بیٹھ ایک بڑے کیس کی سماعت رپورٹ کر رہے تھے جبکہ فخر صاحب بڑی بے چینی سے کبھی اندر کبھی باہر اور ایک مرتبہ اندر ایک خوف زدہ شخص کی طرح داخل ہوئے اور دروازے سے چلانا شروع کر دیا ٹیک دی چیف جسٹس۔ ان سیف کسٹڈی دے ہیو اٹیکڈ دی کورٹ۔
اتنے میں باہر سے توڑ پھوڑ کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں اور چیف جسٹس عدالت برخاست کر کے چلے گئے اور جانے سے پہلے انہوں نے اٹارنی جنرل سےاظہار ناراضگی بھی کیا یعنی اس حملے میں کسی نے فخر کی ذمےداری لگائی کہ اس نے چیف جسٹس کو بروقت مطلع کر کے انہیں محفوظ بنانا ہے۔
اسی طرح نصف شب والی خبریں نارمل کورٹ رپورٹرز کے بجائے رپورٹرز کے ایک اور گروپ کو ملتیں ان میں فخر صاحب شامل ہوتے سپریم کورٹ کے علاوہ دیگر بیٹس کی بھی یہ کہانی ہے ۔
ان میں اظہر سید نے اوپر جو نام لکھے ان کے علاوہ بھی کئی نام شامل ہیں جو کسی خاص ادارے کے لئے کام کرتے رہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جو اپنے ٹاوٹس پالتے ہیں وہ پھر انہیں غداری کی اجازت نہیں دیتے ان کا بندو بست کرنا وہ خوب جانتے ہیں چاہیے ان کے ساتھ کینیا میں ایک معروف صحافی کے ساتھ کئے جانے والے سلوک جیسا سلوک ہی کیوں نہ ہو۔
تزئین اختر لکھتے ہیں۔
دونوں صحافیوں، اظہر سید اور حبیب نے فخر کے بارے میں پہلے کبھی یہ نہیں بتایا جو اب انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے۔ جہاں تک پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا تعلق ہے وہ ماضی میں کئی صحافیوں کو اٹھا کر ان پر ایسے ہی الزامات لگا چکے ہیں۔ صحافی حکومتوں اور محکموں کی کارکردگی پر لکھتا اور بولتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں حکومتیں اور محکمے اسے ریاست کے خلاف دیکھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔
ویسے اگر اسے کسی خفیہ ایجنسی نے میڈیا میں پلانٹ کیا تو ایجنسی بھی اس کے غلط کام کی برابر کی ذمہ دار ہے۔ خفیہ ایجنسی کے ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی جو اس سے معلومات لے رہے تھے یا اسے ہدایات دے رہے تھے؟
پہلے فخر رحمان کے دونوں سینئر ساتھی بتائیں کہ صحافی ایجنسیوں میں جا کر اپنی سروس پیش کرتے ہیں یا ایجنسیوں کے ایجنٹ معلومات فراہم کے لیے صحافیوں کا پیچھا کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مالکان کو کارکردگی دکھا سکیں؟خفیہ ایجنسیوں کے باس جو اپنے دفاتر میں فخر سے بیٹھے ہو تے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فیلڈ میں موجود ان کا عملہ زیادہ تر یہ نہیں پہچانتا کہ ان کی بیٹ میں کون کیا ہے۔ وہ صحافیوں سے مدد مانگتے ہیں اور کچھ صحافی انہیں صرف اس لیے بتاتے ہیں کہ یہ ان کے کام کے وقار کو مجروح نہیں کرتا۔
کیا ہمیں نہیں معلوم کہ عمران حکومت میں ساہیوال میں کیا ہوا؟ کسی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس میں ایک خاندان ماں اور نابالغ بچوں کے ساتھ شادی میں شرکت کے لیے جا رہا تھا؟ اگر ایجنسی والے اتنے جاہل ہیں کہ پہچان نہیں سکتے کہ اصل دہشت گرد کون ہے اور کون صرف ایک مشتبہ ہے اور جب ایجنسیوں کو یہ نہیں معلوم کہ جب ان کے سامنے خواتین اور بچے ہوں تو ان سے کیسے نمٹا جائے اور ایجنسیوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہتھیار کب اور کہاں مارنے کے لیے استعمال کیے جائیں تو وہ صحافیوں کو کیسے اٹھا کر ان پر ریاست مخالف کا لیبل لگا سکتے ہیں؟
عمران خان کو فرشتہ اور نواز شریف کو شیطان دکھانے کے لیے انہوں نے خود صحافیوں کی شکل میں پروپیگنڈا کرنے والوں کا ایک گروپ بنایا۔ اور جب دیو/ عفریت نے تخلیق کاروں کی طرف یوٹرن لیا تو سائنسدانوں نے بھی یوٹرن لے لیا عمران کو شیطان اور نواز کو فرشتہ قرار دینے لگے۔
صحافیوں کو نہیں معلوم کہ انہوں نے ماضی قریب میں ایک دو تین سٹار جرنیلوں کو غداری اور خیانت کی سزا دی ہے۔ ایک فوجی افسر کے پاس تو دھوکہ دینے کے لیے کچھ ہو سکتا ہے کسی صحافی کے پاس کیا خفیہ معلومات ہو سکتی ہیں؟ ایک صحافی ریاست یا ریاست کے کسی محکمے کو کیا نقصان پہنچا سکتا ہے؟
صحافیوں کو خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے۔ وہ سیاسی سرگرمیوں، ریلیوں، سیمیناروں میں اور سفارتی قومی دنوں میں صحافیوں سے ملتے ہیں جہاں کچھ اسٹریٹجک بات چیت ہوتی ہے اور معلومات حاصل کرتے ہیں۔ یہاں صحافیوں کا فرض ہے کہ وہ حد سے بڑھ کر ان کے ساتھ گھل مل نہ جائیں۔ صحافیوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پولیس کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے، نہ ان کی دوستی اچھی نہ دشمنی اچھی ۔ یہی حال خفیہ ایجنسیوں کا بھی ہے۔
یہاں تو حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ ایک شخص کو صرف اس لیے بک کر لیا جاتا ہے کہ وہ ترنول پھاٹک کو ہرمز کہ دیتا ہے۔ اس صورتحال میں آپ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں اور خفیہ ایجنسیوں سے کیا توقع رکھتے ہیں۔ کسی کو بھی کسی بھی وقت بک کیا جا سکتا ہے۔ پھر فخر رحمان کیا ہے اور اظہر سید کیا کے آر حبیب کیا یا تزئین اختر کیا ؟