خلیفہ وقت کو کھا نے میں میٹھا ملا تو دریافت فرمایا یہ کہاں سے آیا؟ اہلیہ نے جواب دیا، بیت المال سے جو آٹا آیا، اس میں سے بچا کر بنا لیا – خلیفہ اسی وقت بیت المال گئے اور اپنے حصے میں سے اتنی مقدر کم کروا دی۔
یہ تھی بیت المال کے مال کے متعلق احتیاط ایک اسلامی مملکت کے نگران کی، اور اب اپنی نام نہاد اسلامی مملکت میں بیت المال کا حال ملاحظہ کیجیے
پاکستان میں بیت المال جیسا ادارہ بھی بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے
ایم ڈی کیپٹن (ر) خالد شاہین بٹ نے گریڈ 19 کے تین ڈائریکٹرز کو بدعنوانی کے الزام میں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ بدعنوانی سلائی مشینیں (جو مستحق خواتین کو روزگار کے لیے دی جانا تھیں) اور خصوصی افراد کے لیے وہیل چیئرز کی خریداری کے عمل میں کی گئی تھی۔ ظفر خان صفدر، راحیل سعید اور رضوان احمد نے تقریباً 25 کروڑ (250 ملین) روپے کے بجٹ کا غلط استعمال کیا۔
انہوں نے وینڈرز (سپلائرز) کو پیشگی ادائیگیاں جاری کیں اور بدلے میں رشوت (کک بیکس) وصول کیں، جبکہ مطلوبہ سامان کی فراہمی کبھی عمل میں نہیں آئی۔ ظفر خان صفدر رشوت کی رقم سے غیر ملکی دورے کا لطف اٹھانے بیرونِ ملک چلا گیا۔
ایم ڈی شاید انہیں کبھی ملازمت سے برطرف نہ کرتے لیکن سابق ڈی جی ذیشان دانش یہ معاملہ عدالت میں لے گئے تھے۔ انہیں اسی وجہ سے واپس ان کے بنیادی ادارے ‘پنجاب یونیورسٹی’ بھیج دیا گیا تھا تاکہ ادارے میں احتساب اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم نہ رہ سکے۔
معاملہ عدالت میں جانے کے بعد ایم ڈی کارروائی کرنے پر مجبور ہوئے۔ لیکن یہاں ایک اور پہلو بھی ہے۔ ایم ڈی نے انہیں صرف ملازمت سے ہٹایا ہے۔ اصولی طور پر، کرپٹ ڈائریکٹرز کو گرفتار کیا جانا چاہیے تھا اور ان سے لوٹی گئی رقم واپس لی جانا چاہیے تھی۔ اب ایم ڈی معاملے کو دبا دینے (یا پردہ پوشی کرنے) کے درپے ہیں۔
کچھ عرصے بعد، یہ ڈائریکٹرز اپنی برطرفی کو چیلنج کر کے دوبارہ ملازمت پر بحال ہو سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ظفر خان صفدر کو اس کا تجربہ ہے۔ اسے کچھ سال قبل بھی ہٹایا گیا تھا اور ایک سال بعد بحال کر دیا گیا تھا۔ اس سے بھی زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بدعنوانی پرایک کتاب کا مصنف بھی ہے ۔اس پر بیت المال میں مذاق اڑایا جاتا ہے کہ کتاب کرپشن کے طریقوں پر مشتمل ہو گی کیوں کہ صاحب کی شہرت ایسی ہی ہے ادارہ کے اندر۔
یہاں چوتھے ڈائریکٹر بلال انور گولڑہ کا ذکر بھی اہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان بیت المال میں بدعنوانی کے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ وہ ایم ڈی کا منظورِ نظر ہے۔ وہ اب بھی خیریت سے اپنے عہدے پر براجمان ہے۔ مستقبل میں وہی اس گروہ کے برطرف شدہ ارکان کی واپسی کی راہ ہموار کرے گا۔