مضبوط جمہوری تسلسل کے لئے ایک با اختیار اور فعال قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیت لازمی ہے

اسلام آباد: ادارہ برائے سماجی انصاف کے زیر اہتمام گول میز مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف سیاستدانوں، وکلاء، ذرائع ابلاغ، قومی و انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ،اور شرکاء نے قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیت کے قیام، افادیت اور مقاصد پر غوروخوض کیا۔
مشاورت میں شرکا ء نے متفقہ طور زور دیا گیا کہ جمہوری عمل کے تسلسل کے لیے تمام شراکت داروں کی قانون سازی کے عمل ، نئے اداروں کے قیام، اور پارلیمنٹ میں حکومتی و حزب اختلاف کی کارکردگی کی موثر نگرانی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ ملکی آئین و قوانین میں مذہب کی بنیاد پر عدم مساوات کا حل کیا جائے۔
شرکاء نے مزید کہا کہ شراکتی جمہوریت مساوی شہریت کو یقینی بناتے ہوئےحکومت اقلیتوں کے حقوق کے لیے ایک بااختیار اور فعال کمیشن کے قیام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرئے، تاکہ ریاستی نظام میں مذہبی شناخت کے حوالہ سے پیدا ہونے والے عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔
سینیٹرفرحت اللہ بابر نے کہا کہ اقلیتی کمیشن میں بیوروکریٹس کی بجائے اقلیتوں کے نمائندے ہونے چاہئیں اور کمیشن وزارت مذہبی امور کے بجائے انسانی حقوق کی وزارت کے ماتحت ہونا چاہیےکیونکہ یہ بنیادی طور پر انسانی حقوق کا مسئلہ ہے نہ کہ مذہبی مسئلہ۔مزید کمیشن کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے اقلیتی کمیشن یو این پیرس اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔
حالیہ قائم شدہ قومی کمیشن برائے سٹیٹس آف ویمن اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال یواین پیرس کے اصولوں پر مبنی نہ ہونے کی وجہ کمیشنز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سمیت کسی بھی انسانی حقوق کے بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ووٹ کا حق نہیں رکھتے۔
پیٹر جیکب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادارہ برائے سماجی انصاف نے کہا، قومی کمیشن برائے اقلیت ایکٹ کی وفاقی کابینہ سے حالیہ منظوری خوش آئند ہے،اورحکومت مجوزہ قانون سازی کو مزید موثر بنانے کے لئے ماہرین اور سول سوسائٹی تنظیموں کی رائے شامل کرے۔تاکہ “کمیشن حکومتی مداخلت کے بغیر انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت خود مختار اور بااختیار فیصلہ سازی کرے۔
ڈاکٹر اے ایچ نیئر کارکن انسانی حقوق نے زور دیا کہ مجوزہ کمیشن برائے حقوقِ اقلیت فعا ل اور نمائندہ کمیشن بنانے کے لیے کمیشن ممبران کی تعداد 15 سے زائد نہ ہو ، جس میں اقلیتی برادریوں کی نمائندگی کریں ۔ مزید برآں، کمیشن کا مینڈیٹ اقلیتی حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے اور متروکہ ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کی نمائندگی یا امور کی نگرانی کونہیں ہونی چاہیے۔
ایڈووکیٹ انیق ضیا، ڈائریکٹر قانونی امور، انٹرنیشنل مانیٹرنگ کمیشن نے کہا کہ قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیت کے کام مزید موثر بنانے کے لئے ضروری ہے کہ کمیشن اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹس، آڈٹ رپورٹس لازماً پارلیمنٹ میں پیش کرے۔
شہرازادِ امین وکیل برائے انسانی حقوق و لیگل افیرز آفیسر (کمیشن برائے حقوق اطفال) نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کمیشن کا بنیادی کام اقلیتوں کے لیے آئینی اور قانونی تحفظات کی نگرانی ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ وزارت قانون و انصاف اور وزارت انسانی حقوق سول سوسائٹی کی سفارشات کے ساتھ اس سال اس سال کمیشن کا قیام ممکن بنائے گی۔
ڈاکٹر نیلسن عظیم رکن قومی اسمبلی کمیشن برائے اقلیتی حقوق بل 2024کو قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبرز بل پیش کرنے کے بارے میں اپنی کاوشوں سے آگاہ کیا۔
Pakistan in the World – December 2024