اُڑان پاکستان کے آغاز کے لیے تیار کیا گیا حقائق نامہ

0
407

وزیراعظم نے پائیدار ترقی کے حامل پانچ سالہ قومی اقتصادی منصوبہ “اڑان پاکستان” کا افتتاح کر دیا

یہ پروگرام معاشی ترقی و خوشحالی کی منزل کی جانب ایک بڑے سفر کا آغازہے، کامیابی کیلئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، شہباز شریف
نجی شعبے سے مل کر5ایزفریم ورک کوحقیقت میں بدلیں گے،ایک سال بعدماہرین کی آراکی روشنی میں آئندہ سال وژن2047 پیش کریں گے۔احسن اقبال

جی ڈی پی کی شرح کو 6 فیصد کرنے،سالانہ 10لاکھ اضافی ملازمتیں پیداکرنے اور 60 ارب ڈالرکی برآمدات ہمارامطمع نظرہے،محمداورنگزیب

 

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کی پائیدار ترقی کے حامل پانچ سالہ قومی اقتصادی منصوبہ “اڑان پاکستان” کا افتتاح کر دیا ہے جس کا مقصد برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات، توانائی، برابری و بااختیار بنانے (فائیو ایز)کی پائیدار بنیاد پر برآمدات کے فروغ کے ذریعے اقتصادی ترقی کا حصول ہے جبکہ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ “اڑان پاکستان” اقتصادی نمو اور اقوام عالم میں کھوئے ہوئے مقام کے حصول کے لیے ایک بڑے سفر اور نئی صبح کا آغازہے، کامیابی کیلئے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی ناگزیر ہے، ہم سب مل کر قائداعظم کے خواب کی تکمیل کیلئے کام کریں گے اور پاکستان کو عظیم تر بنائیں گے، ملک کو آگے لے جانے کیلئے اشرافیہ کو کچھ قربانی دینا ہوگی، وفاق، صوبوں اور تمام شراکت داروں کے تعاون سے “اڑان پاکستان” پروگرام پر عمل درآمدکریں گے،ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے اور قومی یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

وزیراعظم نے پائیدار ترقی کے حامل پانچ سالہ قومی اقتصادی منصوبہ “اڑان پاکستان” کا افتتاح کر دیا

اُڑان پاکستان ایک انقلابی پروگرام

پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور خوشحال بنانے کی حکمت عملی فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 2035 تک پاکستان کی معیشت کو 1 کھرب ڈالر اور 2047 تک 3 کھرب ڈالر تک پہنچانا ہے۔

یہ پروگرام پانچ اہم ستونوں پر مبنی ہے:
1. برآمدات (Exports)
2. ای-پاکستان (E-Pakistan)
3. ماحولیاتی تحفظ (Environment)
4. توانائی و انفراسٹرکچر (Energy & Infrastructure)
5. مساوات، اخلاقیات و اختیار (Equity, Ethics & Empowerment)

5Es فریم ورک کے تحت اہم اہداف

1. برآمدات: ترقی کی بنیاد

منصوبہ: پاکستان کو برآمدات پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا۔
اہم اہداف:
• سالانہ برآمدات کو $60 بلین تک لے جانا۔
• آئی ٹی، زراعت، تخلیقی صنعت، معدنیات، اور بلیو اکانومی کو فروغ دینا۔
• SMEs اور کاروباری ماحول کو ترقی دینا۔
• “Made in Pakistan” کو معیار اور اعتماد کا نشان بنانا۔

متوقع اثرات:
• روپے کو مستحکم کرنا۔
• درآمدات پر انحصار کم کرنا۔
• مستقل ترقی کی راہ ہموار کرنا۔

2. ای-پاکستان: ٹیکنالوجی کی طاقت کا استعمال

منصوبہ: ڈیجیٹل انقلاب کے ذریعے معیشت میں تبدیلی لانا۔
اہم اہداف:
• آئی سی ٹی فری لانسنگ انڈسٹری کو $5 بلین تک لے جانا۔
• سالانہ 200,000 آئی ٹی گریجویٹس تیار کرنا۔
• پہلا پاکستانی اسٹارٹ اپ یونیکورن تخلیق کرنا۔
• 100 ملین موبائل سبسکرائبرز تک رسائی حاصل کرنا۔
• آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور سائبر سیکیورٹی کی صلاحیت کو بہتر بنانا۔

متوقع اثرات:
• نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع۔
• پاکستان کو عالمی ٹیکنالوجی کے مرکز کے طور پر تیار کرنا۔

3. ماحولیاتی تحفظ: پائیداری کی ضمانت

منصوبہ: ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا اور وسائل کے پائیدار استعمال کو یقینی بنانا۔
اہم اہداف:
• گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں 50% کمی۔
• پانی کے ذخائر کو 10 ملین ایکڑ فٹ تک بڑھانا۔
• قابلِ کاشت زمین میں 20.3 ملین ایکڑ کا اضافہ۔
• جنگلات کی بحالی اور ماحولیاتی آفات کے خلاف مزاحمتی انفراسٹرکچر کا فروغ۔

متوقع اثرات:

• قدرتی وسائل کا تحفظ۔
• خوراک اور پانی کی حفاظت۔
• پائیدار مستقبل کی ضمانت۔

4. توانائی و انفراسٹرکچر: ترقی کی بنیاد

منصوبہ: جدید بنیادی ڈھانچہ اور توانائی کی سستی اور قابلِ بھروسہ فراہمی۔

اہم اہداف:
• قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 10% تک بڑھانا۔
• سرکلر ڈیٹ میں کمی اور توانائی کے نظام کو بہتر بنانا۔
• ریلوے کی مسافروں میں حصہ داری کو 5% سے 15% اور مال برداری میں 8% سے 25% تک لے جانا۔
• علاقائی رابطوں کو فروغ دینا۔

متوقع اثرات:
• معاشی ترقی کو فروغ دینا۔
• علاقائی انضمام میں اضافہ۔

5. مساوات، اخلاقیات و اختیار: ایک منصفانہ معاشرہ

منصوبہ: ایک منصفانہ، جامع، اور اخلاقی اقدار پر مبنی معاشرہ تشکیل دینا۔
اہم اہداف:
• یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں 12% اضافہ۔
• شرح خواندگی کو 10% تک بڑھانا۔
• خواتین کی افرادی قوت میں شرکت کو 17% تک لے جانا۔
• نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح کو 6% کم کرنا۔
• اخلاقی حکمرانی اور سماجی تحفظ کو فروغ دینا۔

متوقع اثرات:
• محروم طبقات کو بااختیار بنانا۔
• سماجی تحفظ کو یقینی بنانا۔
• ایک ہم آہنگ اور خوشحال معاشرہ تشکیل دینا۔

حکومت کے فراہم کردہ اقدامات
• سرمایہ کاری کے مواقع:
سرمایہ کاری کے لیے سازگار قوانین اور مراعات۔
• ڈیجیٹل ترقی:
آئی ٹی انڈسٹری اور فری لانسنگ کو فروغ دینا۔
• فنڈز اور گرانٹس:
صنعتی ترقی اور اختراع کے لیے حکومتی مدد۔
• شراکت داری:
پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بڑے منصوبے۔
• انفراسٹرکچر کی ترقی:
جدید توانائی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی تعمیر۔

اُڑان پاکستان کو گیم چینجر کیوں قرار دیا جا رہا ہے؟
• معاشی استحکام:
درآمدات پر انحصار کم اور برآمدات پر مبنی معیشت کا قیام۔
• ڈیجیٹل انقلاب:
نوجوانوں کے لیے مواقع اور عالمی مارکیٹ میں رسائی۔
• ماحولیاتی تحفظ:
قدرتی وسائل کا پائیدار استعمال۔
• سماجی شمولیت:
خواتین اور نوجوانوں کو ترقی کے عمل میں شامل کرنا۔

کیا یہ پروگرام قابلِ عمل ہے؟
• حقیقت پسندی:
یہ پروگرام زمینی حقائق اور عالمی تجربات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
• نوجوانوں کا کردار:
پاکستان کی 65% نوجوان آبادی اس تبدیلی کا اہم حصہ ہو سکتی ہے۔
• عالمی مثالیں:
ملائیشیا، ترکی، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک نے ایسے ہی منصوبے کامیابی سے نافذ کیے ہیں۔

قومی اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ (2024–2029)
• 5 سالہ منصوبہ 2035 تک 1 کھرب ڈالر کی معیشت کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
• مشاورت کے عمل میں 2,000 ماہرین کی شرکت۔
• 2047 تک پاکستان کو 3 کھرب ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا۔

اجتماعی اقدام کی ضرورت
• حکومت: مؤثر پالیسیوں کا نفاذ۔
• نجی شعبہ: صنعتی ترقی میں سرمایہ کاری۔
• تعلیمی ادارے: تحقیق اور ترقی کے لیے معاونت۔

• سول سوسائٹی: عوامی شعور اجاگر کرنا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here