ایلیٹ کلاس کے دو سپوت 10 لاکھ روپے میں سی ایس ایس ٹاپر بن گئے

0
31

حجاب رندھاوا

یہ 2022ء کا ایک سرد دن تھا اور اسلام آباد میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن  کی عمارت کے ایک بند کمرے میں پاکستان کے چند انتہائی سینئر بیوروکریٹس بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے ایک نوجوان بیٹھا تھا جس نے ابھی چند روز پہلے سی ایس ایس  کے تحریری امتحان کے نتائج میں ٹاپ پوزیشن حاصل کر کے پورے پاکستان کو حیران کر دیا تھا

۔پینل میں بیٹھے ایک بزرگ افسر نے مسکرا کر عینک سیدھی کی اور انتہائی نرمی سے پوچھا: “بیٹا! انٹرنیشنل ریلیشنز میں آپ کا تھیسس کمال کا تھا۔ بس یہ بتا دیں کہ ‘بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو’  کے پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے؟

“کمرے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔ نوجوان کا چہرہ سفید پڑ گیا، ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہوئے ۔ وہ ایک جملہ بھی نہ بول سکا۔پینل نے سوال بدلا، موضوع بدلا، یہاں تک کہ انتہائی سادہ جنرل نالج کا سوال پوچھا، لیکن ملک کا وہ “سپر جینئس ٹاپر” ایسے بیٹھا تھا جیسے اسے الف بے بھی نہ آتی ہو۔

اس کے بعد دوسرا ٹاپر آیا اور اس کا حال بھی پہلے جیسا تھا

یہ کراچی کی ایک انتہائی بااثر اور کھرب پتی میمن فیملی کے دو بیٹے —ہالار احمد اور علی شیر تھے ۔ یہ دونوں تحریری امتحان میں پورے ملک کو پچھاڑ کر یہاں پہنچے تھے، پینل میں موجود اعلیٰ افسران حیران تھے کہ جو طلبہ تحریری امتحان میں پورے پاکستان میں سب سے زیادہ نمبر لے چکے ہیں، وہ پینل کے سامنے ایک لائن بولنے سے بھی قاصر کیوں ہیں؟ انٹرویو پینل کو شدید شک گزرا کہ دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔

انہوں نے اسی وقت چیئرمین ایف پی ایس سی کو ایک خفیہ نوٹ لکھا “ان لڑکوں کے نمبرز اور ان کی عقل میں زمین آسمان کا فرق ہے، دال میں کچھ کالا ہے!

“اور بس، یہیں سے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے امتحانی فراڈ کی وہ پرتیں کھلنا شروع ہوئیں

۔ میرٹ پر اٹھنے والے اس سنگین سوال پر چیئرمین نے فوری طور پر کمیشن کے انتہائی خفیہ ونگ “سیکریسی ونگ”  کو اس معاملے کی اندرونی اور شفاف انکوائری کا حکم دیا۔

چیئرمین کے حکم پر ایف پی ایس سی کے سب سے حساس شعبے “سیکریسی ونگ” نے جب ریکارڈ روم کا تالا کھولا اور دونوں بھائیوں کی جوابی کاپیاں  نکالیں، تو دیکھنے والوں کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ معلوم ہوا کہ جو کاپیاں ان لڑکوں نے امتحانی ہال میں بیٹھ کر لکھی تھیں، وہ تو سرے سے غائب تھیں! ان کی جگہ 24 کے قریب نئی اور چمکتی ہوئی امتحانی شیٹس فائل میں لگی ہوئی تھیں، جن پر بعد میں ان دونوں کو دفتر بلا کر دستخط کروائے گئے تھے

۔اب سوال یہ تھا کہ یہ سب ہوا کیسے؟ ایف پی ایس سی کی اس فول پروف سیکیورٹی میں کس نے نقب لگائی؟

جب تحقیقات آگے بڑھیں تو کہانی سال 2018ء میں جا پہنچی۔ اسلام آباد کے ایک ایف پی ایس سی کے ہی ایک بڑے افسر کے گھر شادی کی تقریب میں اس بااثر میمن خاندان اور ایف پی ایس سی کے ایک اسسٹنٹ ندیم محمد خان کے درمیان ایک “ڈیل” طے پائی۔ ڈیل یہ تھی کہ جب بھی یہ لڑکے امتحان دیں گے، ان کو حل شدہ کاپیاں دی جائیں گی ۔

تحقیات میں سامنے آیا کہ ندیم محمد خان ( اسسٹنٹ)یہ ایف پی ایس سی کا وہ ملازم تھا جو اس پورے فراڈ کا ماسٹر مائنڈ تھا اور جس نے ریکارڈ روم تک رسائی حاصل کر کے کاپیاں تبدیل کیں۔

محمد ابراہیم سہولت کار تھا جس نے بااثر میمن فیملی اور ایف پی ایس سی کے عملے کے درمیان ڈیل کی کڑی کا کام کیا۔ہالار احمد اور علی شیر (امیدواران) دو بااثر طلبہ جنہوں نے مبینہ طور پر 10 لاکھ روپے (1 ملین) کی ڈیل کے عوض اپنی کاپیاں تبدیل کروائیں۔

جب 2024 میں یہ رپورٹ مکمل ہو کر سامنے آئی تو ایف پی ایس سی کے ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن انصر حیات گوندل نے کمال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کسی دباؤ کی پرواہ کیے بغیر وفاقی تحقیقاتی ادارے  کو خط لکھا اور باقاعدہ ایف آئی آر  درج کروا دی۔

ایف آئی اے نے بغیر دباؤ میں آئے سی ایس ایس کے دونوں ٹاپرز (ہالار اور علی شیر)، ماسٹر مائنڈ ندیم محمد خان اور سہولت کار ابراہیم کو گرفتار کر لیا ۔

ایف پی ایس سی نے اپنے حاضر سروس ملازم کو نوکری سے برخاست کر دیا اور ایک ریٹائرڈ افسر کو بھی گھسیٹ کر قانون کے کٹہرے میں لے آئے۔

لوگ خوش تھے کہ چلو، دیر ہی سہی، میرٹ جیت گیا اور چور پکڑے گئے۔لیکن ٹھہریے! یہ پاکستان ہے، یہاں کہانی کا ایک ایسا موڑ ابھی باقی تھا جو ہمیشہ غریب کا دل توڑ دیتا ہے

۔یہ کیس اسلام آباد کی خصوصی عدالت  میں چلا۔ مہینوں سماعتیں ہوئیں، اخبارات میں اداریے لکھے گئے، سوشل میڈیا پر طوفان آیا۔ لیکن جب عدالت نے اپنا فائنل فیصلہ سنایا، تو وہ پورے نظام کے منہ پر ایک طمانچہ تھا

۔ عدالت نے تمام ملزمان، بشمول دونوں چیٹنگ کرنے والے طلبہ اور ایف پی ایس سی کے ملازمین کو باعزت بری (کلین چٹ) کر دیا! . اس میں قصور عدلیہ کا نہیں تفتیشی مراحل چارج شیٹ اور عدالت میں ثبوتوں کا تھا

جج نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ایف آئی اے کی تفتیش کا معیار انتہائی ناقص اور شرمناک تھا۔ تفتیشی افسران عدالت میں کوئی ایک بھی ایسا پکا اور تکنیکی شواہد پیش نہیں کر سکے جو قانون کی نظر میں جرم ثابت کر سکے۔ نہ کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج تھی، نہ ہینڈ رائٹنگ کی کوئی ایسی فرانزک رپورٹ جو شک سے بالاتر ہو، اور نہ ہی ڈیجیٹل فٹ پرنٹس۔ تفتیش میں جان بوجھ کر یا نااہلی کی وجہ سے اتنے سراغ چھوڑے گئے تھے کہ ملزمان کے مہنگے وکلاء نے اسی کمزوری کا فائدہ اٹھایا اور اپنے موکلوں کو صاف بچا کر لے گئے

ناقص تحقیقات اور شواہد کی عدم موجودگی کے باعث عدالت نے مجرم قرار پانے والے دونوں طلبہ اور ایف پی ایس سی کے سہولت کاروں کو باعزت بری (کلین چٹ) کر دیا۔

مہرین گرمانی نے اپنا تجربہ شیئر کیا۔

بالکل ایسا ہی کیس پی پی ایس سی کا بھی تھا اگر آپکو یاد ہو۔۔ نیازی کے دور کی بات ہے، بڑا سکینڈل بریک ہوا, ایک ریکٹ تھا جس میں کمیشن کے حاضر سروس ملازمین یہاں تک کہ ریجنل آفسز کے ڈائریکٹرز تک شامل تھے، اس گروہ کے ایسے لوگ تھے جن کو ایگزام میں اپئیرکروایا جاتا ثبوت کے طور پر کہ امیدوار یہ نہ کہہ سکے پرچہ کوئی اور تھا، ان امیدوران کو اپنے پاس رکھا جاتا پرچہ رٹوایا جاتا اور پھر اس گروہ کی گاڑی میں انکو لے جایا جاتا اور پیپر حل ہوتا، ایسے لوگ لاہور سنٹر سے اپئیر ہوتے تھے، لاکھوں سے لیکر کروڑوں تک ریٹ لگتے تھے۔ اس کیس میں بھی ایسے ہی سارے ثبوت ضائع کیے گئے، عدالت نے گرفتار شدہ ملزمان کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی تو ہمیں پتہ چل گیا کہ کچھ نہیں ہونے والا اس کیس کا۔

صرف پیپر ہی نہیں انٹرویو میں بھی تدبیریں ہوتیں۔ جب میرے انٹرویو کا رزلٹ آیا تو میں نے دیکھا کہ جنہیں سلیکٹ کیا گیا میرے سنٹر سے ان سب کو ہی 80 نمبر دئیے گئے، جنہیں سلیکٹ نہیں کرنا تھا میرے سمیت انکو 60 نمبر۔ کوئی ایک نمبر نہ کم نہ زیادہ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here