نادیہ زید
آج ہری پور کی چار، پانچ سالہ آیت نور کو ایک کنویں سے نکالتے دیکھا، جسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا گیا اور اوپر لکڑیاں ڈال دی گئیں۔ اس سے پہلے اسی بچی کے باپ کو ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتے دیکھا تھا۔ بلک بلک کر کہہ رہا تھا کہ میری بچی کو باعزت اور بحفاظت مجھ تک پہنچا دیں، گیارہ بارہ دن سے نیند نہیں آئی۔ پھر اسی باپ کو اپنی بچی کے جنازے پر اس قدر شکستہ دیکھا کہ جیسے دل پھٹ گیا۔
چند روز پہلے ڈیڑھ سالہ ایزل کے بارے میں پڑھا، جسے مبینہ طور پر اپنے ہی سترہ سالہ رشتہ دار نے جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ پھر اس کی ماں کو بچی کی قبر پر فیڈر لیے بلکتے دیکھا۔ ایسے مناظر صرف حافظے میں محفوظ نہیں رہتے، دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اور ان کے لگائے ہوئے زخم مدتوں رستے رہتے ہیں۔
میں ایک عرصے سے ایسے واقعات پر لکھنے سے گریز کرتی رہی کہ آئے روز کسی بچے کے اغوا، جنسی تشدد، قتل یا بوری میں بند لاش کی خبر ذہن و دل کو مضمحل کر دیتی ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ اپنے ذہنی سکون کی خاطر اس مسلسل بربریت سے نظریں چرا لینا بھی بےحسی کی ایک صورت ہے۔ سو رونا آئے تو رو لیجیے، نیند اڑتی ہے تو اڑنے دیجیے، دل بوجھل ہوتا ہے تو ہونے دیجیے، مگر بات کیجیے۔ اور محض بات نہیں، اس بربریت کی روک تھام کے لیے معلومات پھیلائیے، قانون جانیے، دوسروں کو بتائیے، آواز اٹھائیے اور یہ سب ہنگامی بنیادوں پر کیجیے۔ اسی سلسلے میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں۔ اسے آگے پہنچائیے، اس امید کے ساتھ کہ کسی ایک بچے تک پہنچنے سے پہلے کسی درندے کا ہاتھ روکا جا سکے۔
بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کو محض چند درندہ صفت افراد کی انفرادی بربریت سمجھ کر دیکھنا ہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے ہم ان واقعات کے اصل اسباب تک پہنچ نہیں پاتے۔ ہماری توجہ عموماً جرم کے بعد دی جانے والی سخت سزاؤں پر مرکوز رہتی ہے، جو بلاشبہ ضروری ہیں، مگر جرم کے وقوع سے پہلے اس کی روک تھام، اس کے پسِ پردہ سماجی رویوں اور اس ماحول پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے جو ایسے جرائم کو پنپنے، پھیلنے اور رفتہ رفتہ معمول بننے کی گنجائش دیتا ہے۔
اتنی کثرت سے رونما ہونے والی بربریت کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے پس منظر میں ایک پوری فضا، ایک بتدریج پیدا ہوتی قبولیت، ایک خاموش معاشرتی رواداری اور اب ایک وسیع ڈیجیٹل دنیا بھی کارفرما ہوتی ہے جو جرم کی قباحت کو آہستہ آہستہ ماند کر دیتی ہے۔
سب سے پہلے ایسے لوگوں کو معمول کا حصہ سمجھنا بند کرنا ہوگا جو بچوں کے بارے میں جنسی گفتگو کرتے، CSAM مانگتے، رکھتے یا آگے پھیلاتے ہیں۔ انہیں report کیا جائے، ان سے سماجی فاصلہ رکھا جائے اور ان رویوں کو ‘مردوں کی بات’ کہہ کر نظرانداز نہ کیا جائے۔ دوسری طرف چھوٹے بچوں کو بلا ضرورت اکیلا باہر بھیجنے کے بجائے بڑوں کے ساتھ رکھا جائے، اور عورتوں کی گلی، بازار، پارک اور دوسرے public spaces میں موجودگی کو زیادہ معمول بنایا جائے تاکہ بچوں کے گرد بالغ اور ذمہ دار نگاہیں موجود رہیں۔ اس کے ساتھ بچوں کو body safety، inappropriate touch، راز چھپانے کے دباؤ اور فوراً کسی trusted adult کو بتانے کی تربیت دی جائے۔ فوری reporting، محلہ اور school level vigilance، اور قانون پر حقیقی عملدرآمد سب ایک ساتھ ہوں گے تو فرق پڑے گا۔
مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال پر مشتمل مواد، جسے درست اصطلاح میں
Child Sexual Abuse Material (CSAM)
کہا جاتا ہے، بعض WhatsApp groups، Telegram channels اور private chats میں باقاعدہ طلب کیا جاتا، جمع کیا جاتا اور ایک دوسرے تک پہنچایا جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اسے “porn” کہہ دیا جاتا ہے، گویا یہ محض کسی نوع کا جنسی مواد ہو، حالانکہ یہ کسی بچے پر گزرنے والے حقیقی ظلم، خوف، بےبسی اور بےحرمتی کا محفوظ شدہ ریکارڈ ہے۔
جب کسی بچے کی چیخ، اس کی بےبسی اور اس کے جسم پر روا رکھا جانے والا ظلم ایک clip، file یا link بن کر ایک موبائل سے دوسرے موبائل تک گردش کرنے لگے، لوگ اسے تلاش کریں، مانگیں، محفوظ کریں اور دوسروں کو بھیجیں، تو معاملہ ایک مجرم کے انفرادی فعل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے ایک ایسی متوازی دنیا تشکیل پاتی ہے جہاں بچوں کا استحصال قابلِ دید، قابلِ طلب اور قابلِ تبادلہ شے بن جاتا ہے۔
اسی مسلسل مشاہدے، تبادلے اور طلب کے نتیجے میں وہ چیز جو اپنی اصل میں سفاک جرم ہے، معاشرتی شعور میں نارملائز ہونے لگتی ہے۔ اور جو شخص CSAM دیکھتا، مانگتا، جمع کرتا یا آگے پہنچاتا ہے، وہ محض “porn دیکھنے والا” انسان نہیں، بلکہ ایک مجرمانہ سلسلے کا حصہ ہے جو بچوں پر ہونے والے حقیقی ظلم کو جنسی مواد کی صورت دے کر نہ صرف اس کی قباحت کم کرتا ہے بلکہ child abuse کی قبولیت، طلب اور استمرار میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
اور یہ سب پاکستان کے نافذ قانون میں باقاعدہ جرم ہے۔
Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) Section 22
کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کے sexually explicit material کو بنانا، پیش کرنا، دوسروں کے لیے دستیاب کرنا، تقسیم کرنا، منتقل کرنا، حاصل کرنا یا بلا قانونی جواز اپنے information system میں محفوظ رکھنا جرم ہے۔
2023 کی ترمیم کے بعد اس جرم کی سزا:
کم از کم چودہ سال اور زیادہ سے زیادہ بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر ہے۔
اسی ترمیم کے تحت Section 22A میں درج ذیل افعال کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے:
Online grooming، solicitation اور cyber enticement
یعنی کسی بچے سے online اعتماد یا تعلق قائم کر کے اسے sexual گفتگو، تصاویر، ویڈیوز یا کسی اور نوع کے sexual exploitation کی طرف مائل کرنا، یا اس سے ایسا material طلب کرنا یا بنوانا، قابلِ سزا فعل ہے۔
اس جرم پر:
پانچ سے دس سال قید، اور پانچ لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
اسی قانون کا Section 22B بچوں کے commercial sexual exploitation کو جرم قرار دیتا ہے، جبکہ Section 22C online رابطے کے ذریعے کسی بچے کو اغوا، abduct یا traffic کر کے جنسی استحصال تک پہنچانے کو الگ سنگین جرم قرار دیتا ہے۔
اس جرم کی سزا:
چودہ سے بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ ہے۔
ان دفعات کا سرکاری متن 2023 کی ترمیم میں موجود ہے۔
قانون شکایت کا حق بھی صرف متاثرہ بچے یا اس کے والدین تک محدود نہیں رکھتا۔ ایسا شخص بھی شکایت کنندہ بن سکتا ہے جس کے پاس معقول بنیاد ہو کہ یہ جرم ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔
Government of Pakistan Failed in Protecting the Children from Sex Abuse ; Child Rights Movement
اس لیے اگر کسی
WhatsApp group، Telegram channel، private chat یا social-media account
میں آپ کو Child Sexual Abuse Material (CSAM) ملے تو اسے آگے forward نہ کریں، curiosity میں save نہ کریں، اور دوستوں کو دکھانے کے لیے circulate نہ کریں۔
متعلقہ:
phone number، username، account، group، message details
اور جو دوسری شناختی معلومات دستیاب ہوں، انہیں محفوظ انداز میں نوٹ کریں اور معاملہ
National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)
تک پہنچائیں۔
پاکستان میں اس وقت NCCIA سائبر جرائم کی inquiry، investigation اور prosecution کے لیے مجاز وفاقی ادارہ ہے۔
شکایت درج کروانے کے راستے یہ ہیں:
NCCIA online complaint form / Helpline: 1799 / Pakistan Citizen Portal
یا قریبی Cybercrime Reporting Centre جا کر written application، CNIC کی copy اور دستیاب evidence کے ساتھ formal complaint جمع کروائی جا سکتی ہے۔
NCCIA
کی اپنی FAQ میں یہ reporting routes اور formal investigation
کے لیے درکار بنیادی معلومات درج ہیں۔
قانون موجود ہے، سزا متعین ہے، شکایت درج کرانے کا راستہ بھی موجود ہے اور متعلقہ ادارہ بھی قائم ہے، اس کے بعد خاموش رہنے کا کوئی عذر نہیں بچتا۔ سو اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ بچوں کی ایسی videos مانگتا، جمع کرتا یا پھیلاتا ہے تو اسے محض “porn دیکھنے والا” سمجھ کر نظر انداز نہ کیجیے۔ وہ محض ایک ناپاک ذوق کا حامل تماشائی نہیں بلکہ قانوناً قابلِ گرفت عمل میں ملوث ہے۔ ایسے لوگوں کو پہچانیے، اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھیے، اور جہاں قابلِ اعتماد معلومات موجود ہوں وہاں معاملہ متعلقہ اداروں تک پہنچائیے۔ بچوں کے تحفظ کا تقاضا صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم جرم کے بعد مجرم کے لیے سخت سزا مانگیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جرم کے گرد پیدا ہونے والی قبولیت، طلب اور ترسیل کے پورے سلسلے کو توڑیں۔
قانونی حوالہ
Prevention of Electronic Crimes Act 2016 / Section 22/ Sections 22A، 22B، 22C
ترمیم 2023
رپورٹنگ حوالہ
National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) Helpline: 1799 / Online Complaint Portal/ Pakistan Citizen Portal / Cybercrime Reporting Centres
National Commission for Rights of Children Working Without Salaries & Budget in Pakistan











