برطانیہ میں پاکستانی اور آزاد کشمیر نسل کا ایک حصہ گینگسٹرز بن گیا

0
84

ذندگی کی تلاش میں موت کے کتنے قریب آگئے …

نوٹنگھم (برطانیہ) میں پولیس افسر پر فائرنگ کا معاملہ حقائق کیا ہیں؟

تحریر: شیخ حمید

برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں اتوار کے روز ایک پولیس افسر کو گولی لگنے کے واقعے کے بعد 27 سالہ خاتون، عائشہ زمان پر فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کے برعکس، عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ  نے جو حقائق پیش کیے ہیں، وہ درج ذیل ہیں

گولی کیسے چلی؟
عدالت میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق، لڑکی نے گولی خود جان بوجھ کر نہیں ماری۔ الزام ہے کہ عائشہ زمان نے اپنی جیکٹ کے اندر ایک شاٹ گن  چھپا رکھی تھی، جو نیچے زمین پر گر گئی اور گرنے کے جھٹکے سے خود بخود چل گئی نتیجے میں پی سی لین نامی پولیس افسر کے پاؤں پر گولی لگی۔

متاثرہ پولیس افسر کے کئی آپریشن ہو چکے ہیں اور وہ اس وقت ہسپتال میں مستحکم  حالت میں ہیں۔

اگرچہ فائرنگ کو حادثاتی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن خاتون پر ممنوعہ آتشیں اسلحہ رکھنے اور جرم کرنے کی نیت سے ہتھیار پاس رکھنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ عائشہ زمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور وہ 20 نومبر 2026 کو نوٹنگھم کراؤن کورٹ میں پیش ہوں گی۔

کہیں دہائیاں پہلے پاکستان اور آزاد کشمیر سے دھکے کھاتے، بحری جہازوں اور انتہائ مشکل ترین مرحلوں سے گزر کا والدین اپنی اولادوں کے بہترین مستقبل کیلئے برطانیہ آئے اور دن رات فیکٹریوں ،ٹیک اوے، ٹیکسی سمیت انتہائ مشکل ترین نوکریاں کر کے معاشرے میں اپنی بہترین پہچان بنائ جس سے برطانوی معاشرے نے دوسرے ممالک سے آئ کمیونٹی کی انتہائ سپورٹ کی اور اُن کو معاشرے میں برابری کے حقوق دہیے جس کیوجہ سے وزیر اعظم سے لیکر کونسلر تک ، لارڈز مئیرز اور سر کے خطاب تک پہنچے

مگر ہماری آنے والی نسل میں بڑھتی ہوئ گینگسٹرز سوچ نے ہمارے ارد گرد گھیرا اتنا تنگ کر دیا ہے کہ اب جگہ جگہ پر نفرت کے آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں ، برطانیہ میں ہماری نسل کا ایک مخصوص حصہ یوکے میں گینگسٹرز بننے کے چکر میں لگ گیا جس سے نہ صرف یوکے کی سلامتی بلکہ لوکل برٹش کمیونٹی اور دیگر تمام کمیونٹیز بھی خطرے کے قریب پہنچ گئیں جس میں انتہائ زیادہ تعداد پاکستانی اور آزاد کشمیروں کی ہے جو ایک دوسرے کو گینگ وار بولیں یا منشیات فروشی کا جھگڑا یا تھانیداری کا جھگڑا یا غیرت کا جھگڑا یا برادری ازم کچھ بھی بولیں ہر دوسرا قتل اپنوں کے ہی ہاتھوں ہو رہا ہے

تیز رفتار گاڑیاں سے معصوم شہریوں کو کچلنا بھی ہمارے لوگوں کے کارناموں میں ہی آ رہا ہے جس سے نفرت کی فضا اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ان تمام حالات میں وہ نسل جو انتہائ ذہین،محنتی اور کارآمد ہے وہ بھی نفرت کی بھینٹ یا ناانصافی کی بھینٹ چڑھ سکتی ہے اپنی نسل کی پہچان اور مستقبل کو بچانے کیلئے کمیونٹی کو انتہائ محنت اور فوری ایکشن لینا ہو گا نہیں تو پھر …………