بھارت کا مہمان بن کر امریکہ کے ہاتھوں ظالمانہ موت، ایرانی جہاز کی تباہی پر بھارت کو احتجاج کرنا پڑے گا

0
156

، افضل ہالی پوتہ

بھارت کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی بحری مشقوں میں شرکت کے بعد وطن واپس لوٹنے والا ایرانی جنگی جہاز آج سری لنکا کے ساحلوں سے دور نہیں، بلکہ امریکی آبدوز کے ٹارپیڈو کا نشانہ بن کر سمندر کی تہہ میں ہے۔

یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں ہے۔ یہ ایک اعلان ہے۔ امریکی وزیردفاع پِیٹ ہیگسیتھ کا فخریہ انداز میں یہ کہنا کہ دشمن کا جہاز “بغیر کسی رحم کے” ڈبویا گیا، اور یہ کہ امریکہ “فیصلہ کن اور تباہ کن طریقے سے جیت رہا ہے” ، درحقیقت خطے کی تمام غیرجانبدار قوتوں کے لیے ایک پیغام ہے: “یہ جنگ صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گی، یہ تمہارے گھر کے آنگن تک آئے گی۔”

مہمان کی واپسی کا المیہ

IRIS Dena کوئی اجنبی جہاز نہیں تھا۔ 16 فروری 2026ء کو اسے بھارتی بحریہ کی ایسٹرن کمانڈ نے وِساکھاپٹنم کے بندرگاہ پر باقاعدہ خیرمقدم کیا تھا ۔ بھارتی صدر دروپدی مرمو نے بین الاقوامی فلیٹ ریویو میں اس کا معائنہ کیا۔ ایرانی بحریہ کے سربراہ ریئر ایڈمرل شہرام ایرانی نے بھارتی بحری سربراہ سے ملاقات کی اور “سمندری سلامتی” پر بات چیت کی ۔ اس تقریب کا تھیم تھا: “ممالک کو سمندروں کے ذریعے متحد کرنا۔”

آج وہی جہاز، جس نے بھارت کی مہمان نوازی قبول کی تھی، 180 میں سے 87 ملاحوں کی لاشوں کے ساتھ سمندر کی گہرائیوں میں موجود ہے ۔ یہ وہی جہاز ہے جس کے عملے نے کل تک بھارتی پانیوں میں دوسرے ممالک کے ملاحوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا تھا۔

سوال یہ ہے کہ کیا بین الاقوامی تعلقات کی اتنی بھی حرمت نہیں؟ اگر ایک ملک کا وفد بین الاقوامی مشقوں میں شرکت کر کے واپس جا رہا ہو، تو کیا اسے راستے میں “غیر جانبدارانہ پانیوں” میں نشانہ بنانا، میزبان ملک کی اسٹریٹجک حیثیت کا مذاق اڑانے کے برابر نہیں؟

“بغیر رحم کے” جنگ اور بین الاقوامی قانون کی خاموش موت

امریکی وزیردفاع نے جس بے رحمی کا مظاہرہ کیا، وہ صرف اس حملے میں نہیں بلکہ اس کے بعد کے عمل میں بھی دیکھنے کو ملی۔

جنیوا کنونشن-II کا آرٹیکل 18 واضح ہے: “ہر مصروفیت کے بعد، بغیر کسی تاخیر کے، جہاز کے تباہ شدہ، زخمی اور بیمار افراد کو تلاش کرنے اور جمع کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے” ۔ امریکی محکمہ دفاع کی اپنی قانونی کتابچہ بھی “سمندر میں بچ جانے والوں کو قتل، زخمی یا ان کے ساتھ بدسلوکی” کو جنگی جرم قرار دیتی ہے ۔

امریکی آبدوز نے IRIS Dena کو نشانہ بنایا، اور پھر وہاں سے چلی گئی۔ اس نے نہ تو بچ جانے والوں کو تلاش کیا، نہ ہی ان کی مدد کی۔ یہ ذمہ داری سری لنکا کی چھوٹی سی بحریہ پر چھوڑ دی گئی جس نے صرف 32 زخمی ملاحوں کو بچایا جبکہ باقی 148 لاشوں کی صورت میں یا لاپتہ ہو کر سمندر کی نذر ہو گئے ۔

پروفیسر مائیکل شمٹ جیسے قانون دانوں کے مطابق، “مسلح تصادم کے دوران بھی، جہاز کے تباہ شدہ افراد کو بچانے کی ذمہ داری بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے” ۔ امریکہ کا یہ عمل نہ صرف اخلاقی طور پر قابل مذمت ہے، بلکہ قانونی طور پر بھی چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کون کرے گا؟ طاقت ہی قانون بن چکی ہے۔

بھارت کی اسٹریٹجک الجھن: بے حسی یا بے بسی؟

اس پورے واقعے پر بھارتی وزارت خارجہ اور بحریہ کی خاموشی حیران کن ہے۔ سابق بھارتی بحری سربراہ ایڈمرل ارُون پرکاش نے اس کارروائی کو “احمقانہ اور اشتعال انگیز” قرار دیا ۔ لیکن سرکاری بھارت کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

کانگریس لیڈر پون کھیرا کا سوال بجا ہے: “کیا بھارت کا اپنے ہی پڑوس میں کوئی اثر و رسوخ نہیں رہا؟ یا یہ جگہ خاموشی سے واشنگٹن اور تل ابیب کے حوالے کر دی گئی ہے؟”

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ بھارت نے ہمیشہ “ایکٹ ایسٹ” پالیسی کے تحت بحر ہند کو اپنا اثرورسوخ کا علاقہ قرار دیا ہے۔ MILAN جیسی مشقوں کا مقصد بھی یہی تھا کہ بھارت علاقائی بحری سلامتی کا مرکز بنے۔ لیکن جب اس مرکز سے نکلنے والے مہمان کو ابھی چند میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا جاتا ہے، اور بھارت خاموش رہتا ہے، تو اس سے دو پیغام جاتے ہیں:

1. علاقائی ممالک کے لیے: بھارت آپ کی حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

2. عالمی طاقتوں کے لیے: بھارت کی علاقائی حساسیتوں کی پرواہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

تھنک ٹینک “تکششیلا انسٹی ٹیوشن” کے ڈائریکٹر نتن پائے نے صورتحال کو صحیح طور پر سمجھا ہے: “یہ فکر کی بات ہے کہ ایرانی جہاز جنگ والے علاقے سے اتنے دور، سری لنکا کے پاس کیوں ڈوبا؟ یہ ہمارے مفاد میں نہیں کہ جنگ ہمارے علاقے میں آئے” ۔

بحر ہند: تجارت کی شریانیں یا جنگ کی نہریں؟

یہ واقعہ بحر ہند کی جغرافیائی سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ سکتا ہے۔ دنیا کی 80 فیصد تجارت بحر ہند سے گزرتی ہے ۔ اگر یہ پانی اب غیرمحفوظ ہو گئے، تو شپنگ کمپنیاں اپنے جہاز خطرے میں نہیں ڈالیں گی۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، جس کی تجارت اور توانائی کی فراہمی اسی سمندر سے گزرتی ہے۔ خلیج فارس سے تیل لے کر آنے والے ٹینکرز اب ہر وقت اس خوف میں رہیں گے کہ کوئی آبدوز انہیں نشانہ نہ بنا دے۔

ماہرین کے مطابق، امریکہ نے یہ حملہ جان بوجھ کر اس وقت کیا جب ایرانی جہاز سری لنکا کے سرچ اینڈ ریسکیو زون میں داخل ہوا، لیکن بین الاقوامی پانیوں میں تھا ۔ یہ ایک “ٹیکسٹ بک” حملہ تھا، جس میں آبدوز نے سطح پر آ کر واضح نشانہ لگایا ۔

بھارت کے سامنے تین راستے

اس واقعے کے بعد بھارت کے پاس تین آپشنز ہیں:

پہلا: خاموش رہنا اور صورتحال کو نظر انداز کر دینا۔ اس سے بھارت کی ساکھ بحیثیت علاقائی طاقت مزید کمزور ہوگی اور مستقبل میں مزید “IRIS Dena” واقعات پیش آئیں گے۔

دوسرا: سفارتی طور پر فعال ہو کر امریکہ اور ایران دونوں سے بات چیت کرنا اور علاقائی پانیوں کو غیرجانبدار رکھنے کی ضمانت لینا۔ اس کے لیے بھارت کو واشنگٹن کے سامنے سخت مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔

تیسرا: چین اور روس کے ساتھ مل کر بحر ہند میں آزادانہ تجارت اور بحری تحفظ کے لیے ایک نیا علاقائی فورم بنانا۔

IRIS Dena

کا ڈوبنا محض ایک جہاز کا ڈوبنا نہیں ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کا ڈوبنا ہے، سفارتی آداب کا ڈوبنا ہے، اور ایک غیرجانبدار خطے کی نیوٹرل حیثیت کا ڈوبنا ہے۔

امریکی وزیردفاع نے اسے “Quiet Death” (خاموش موت) کا نام دیا۔ لیکن اس کی بازگشت آنے والے برسوں تک بحر ہند کے کنارے بسنے والے ممالک کے ایوانوں میں سنائی دیتی رہے گی۔ بھارت کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس خاموشی کا حصہ بنے گا، یا اس خاموشی کو توڑنے والی آواز۔

وِساکھاپٹنم میں جس جہاز کا استقبال کیا گیا تھا، اس کا آخری استقبال سری لنکا کے ساحلوں پر لاشوں کے طور پر ہوا۔ کل کسی اور مہمان جہاز کے ساتھ ایسا نہ ہو، اس کے لیے بھارت کو ابھی بولنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here