تھک نالے میں، بابوسر کے قریب گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں آنے والا تباہ کن سیلاب کوئی قدرتی حادثہ نہیں تھا۔ یہ ایک نا خوشگوار تنبیہ تھی کہ کیسے بے لگام لالچ، سیاسی گٹھ جوڑ اور اداراتی ناکامی، ماحولیاتی تبدیلی کو انسانی المیے میں بدل سکتی ہے۔ تھک نالے کا سانحہ — جہاں تندوتیز پانی نے گاڑیاں، سیاحوں اور پوری پوری زندگیاں بہا دیں — محض بارش یا موسمی تغیر کا نتیجہ نہ تھا۔ یہ دانستہ اور مسلسل جنگلات کی کٹائی کا شاخسانہ تھا، جہاں ایک مخصوص طبقہ قدرتی ماحول کو انسانی بقاء کا ضامن نہیں بلکہ منافع کمانے کی ایک دکان سمجھتا ہے۔
دیامر ڈویژن، جو کبھی پاکستان کے چند بچے ہوءے مقامی صنوبری اور جنیپر کے جنگلات کا گھر تھا، گزشتہ دو دہائیوں سے منظم طریقے سے لٹتا چلا آیا ہے۔ وہ جنگلات جو ماحول کے تحفظ اور زمین کے کٹاوکو روکنے اور قدرتی افات کے سامنے صف اول دستے کی طرح کھڑے تھے، پہاڑی در پہاڑی، درخت در درخت، افسر شاہی، سیاسی خاندانوں اور کاروباری اتحادیوں کی عیاشی کی بھوک مٹانے کے لیے کاٹ ڈالے گئے۔
گلوبل فاریسٹ واچ کے سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق 2001ء سے 2022ء تک پاکستان میں 1,46,000 ہیکٹر سے زائد درختوں پر مشتمل رقبہ بے دردی کے ساتھ کاٹ کر ختم کر دیا گیا — اور دیامر اس تباہی میں سرِ فہرست ہے۔ صرف تھک نالے میں گزشتہ چھ سالوں میں جنگلاتی رقبے میں 28 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ اعداد و شمار محض کتابی حقائق نہیں؛ یہ بڑھتے ہوئے آبی خطرات کے براہِ راست مظہر ہیں۔
سائنسی لحاظ سے، جنگلات کی کٹائی اور سیلاب کے درمیان تعلق ناقابلِ تردید ہے۔ جنگلات بارش کے پانی کو جذب کرتے، زمین کو مستحکم رکھتے اور موسلا دھار بارشوں کے دوران بہاؤ کی شدت کم کرتے ہیں۔ جب درختوں کا سایہ اٹھ جاتا ہے، بارش بے درخت اور بنجر زمین پر براہِ راست گرتی ہے، جس سے زمین کھسکتی ہے، اچانک سیلاب آتے ہیں اور دریا گدلے ہو جاتے ہیں۔
پہاڑی ماحولیات پر متعدد تحقیقی مطالعات ثابت کرتے ہیں کہ جنگلات سے محروم علاقوں میں پانی کے بہاؤ کا ردِعمل جنگلاتی علاقوں کے مقابلے میں دو سے تین گنا زیادہ تباہ کن ہوتا ہے۔ بابوسر میں ابرِ باراں کا واقعہ، جو عام حالات میں جنگلاتی ڈھال کے تحت قابو کیا جا سکتا تھا، مہلک اس لیے بنا کہ ڈھلانیں ننگی تھیں اور مٹی پانی جذب کرنے کا وصف کھو چکی تھی۔
اور پھر سب سے زیادہ مجرمانہ ثبوت تھا: لکڑی کے تختے۔ سیلاب کا پانی جڑوں سے اکھڑے درختوں کو بہا لے جائے، یہ قدرتی جنگلات میں عام بات ہے۔ لیکن تھک نالے کے سیلاب میں تیرتی ہوئی جو لکڑی نظر آئی، وہ مختلف تھی۔ ویڈیو فوٹیج اور چشم دید گواہوں کے بیانات میں تازہ کٹی ہوئی لکڑی نظر آئی، جس پر اکثر انسانی بنائے ہوئے نشانات تھے۔ یہ طوفان سے گرائے گئے درخت نہہں تھے۔ یہ لالچ کے زخم تھے — وہ لکڑی جو ایک مافیا نے کاٹی، بیچی اور ذخیرہ کی تھی، اور ستم ظریفی دیکھیے یہ سب اُنہی اداروں کے سرپرستانہ سائے میں ہوا جو دراصل جنگلات کے محافظ سمجھے جاتے ہیں۔
یہاں گلگت بلتستان حکومت کی کا ذکر ہمارے شہ سرخیاں دینے والے صحافیوں کی طرح محض اتفاقی نہیں؛ یہ سارے المیے کا مرکزی محور ہے۔ 2024ء میں موجودہ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ نے لکڑی کی کٹائی کے لیے سرکاری کوٹے کا ایک عجیب اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع پالیسی متعارف کرایا۔ اسے “دیہی معاش کو سہارا دینے” کے غریب نواز اقدام کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت میں یہ پالیسی صنعتی پیمانے پر درخت کاٹنے کے لیے قانونی چھتری بن گئی۔ نہ کوئی معتبر ماحولیاتی منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا، نہ آزاد نگران کمیٹیاں بنائی گئیں۔ بلکہ، جنگلات کی نیلامی ان پالیسی ساز کمروں میں ہوئی جو ان جنگلات پر انحصار کرنے والی مقامی ابادی سے کوسوں دور تھے۔
زخم پر نمک چھڑکنے والی بات ریاستی مشینری کا منافرانہ رویہ ہے۔ جہاں سرکاری مہمات میں غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے جنگلات کے تحفظ کی تبلیغ کرجاتی ہے۔ وہیں موجودہ اور سابقہ اسمبلی ارکان، اعلیٰ بیوروکریٹس اور سیاسی تعلقات رکھنے والے تاجروں کے محلات نما گھروں میں تراشیدہ دیودار کی چھتیں، لکڑی سے چلنے والی انگیٹھیاں اور پر تعیش لکڑی کے اندرونی نقش و نگار کی دھوم ہے۔
اعلیٰ طبقے کے رہائشی منصوبوں میں لکڑی کے استعمال کا کوئی عوامی حساب کتاب نہیں۔ کوئی جوابدہی کا نظام نہیں جو سرکاری گیسٹ ہاؤسز اور وزرا کے لیے مخصوص رہائش گاہوں میں ایندھن کی لکڑی کے ماخذ کو ٹریک کرے۔ یہ افراد کی ذاتی بدانتظامی کے الگ تھلگ واقعات نہیں — یہ ریاستی ڈھانچے کی سرپرستی میں عوامی قدرتی وسائل کی اجتماعی لوٹ ہے۔
محکمہ جنگلات، جس کو ماحول کا محافظ ہونا چاہیے، اس ماحولیاتی لوٹ میں ایک سہولت کار دلال بن کر رہ گیا ہے۔ یہ اجازت نامے جاری کرتا ہے، غیر قانونی کٹائی کی رپورٹ ہونے پر آنکھیں بند کر لیتا ہے، اور اکثر صورتوں میں اسمگل شدہ لکڑی کی نقل و حرکت کو بڑے تپاک کے ساتھ ط آسان بناتا ہے۔ جو فیلڈ افسر مزاحمت کرتے ہیں، انہیں سیاسی طور پر تبادلہ کر دیا جاتا ہے یا اس سے بھی بدتر سلوک ہوتا ہے۔ جو لوگ تعاون کرتے ہیں، انہیں ترقیوں اور سیاسی پشت پناہی سے نوازا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ایک ایسا ماحول پیدا ہوا ہے جہاں ماحولیاتی جرائم نہ صرف نظر انداز کیے جاتے ہیں بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
اس سارے المیے کا سب سے المناک پہلو انسانی جانوں کا ضیاں ہے۔ تھک نالے کے سیلاب میں جو لوگ ہلاک ہوئے، وہ عام شہری اور بے خبر سیاح تھے۔ وہ فیصلہ سازی کرنے والی اشرافیہ کا حصہ نہ تھے، نہ ہی جنگلات کی تباہی سے انہیں کوئی منافع پہنچا۔ پھر بھی، یہ انہی کی جانیں گئیں، انہی کے خاندان تباہ ہوئے، اور انہی کا مستقبل اس سیلاب کی گار اور ملبے میں دفن ہو گیا جو روکا جا سکتا تھا۔ یہ مبالغہ نہ ہو گا کہ جنگلات کی کٹائی کی اجازت دینے، اسے ممکن بنانے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے افراد، قانونی طور پر نہ سہی مگر اخلاقی طور پر بابوسر کی اموات کے ذمہ دار ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ فوری احتساب ہو۔ گلگت بلتستان بھر میں نجی اور سرکاری دونوں طرح کی جائیدادوں میں لکڑی کے استعمال کا جامع اور آزادانہ حساب کتاب یا اڈٹ ہونا چاہیے۔ جنہوں نے چوری کے جنگلات سے شاہانہ گھر بنائے ہیں، ان کے نام نشر ہونے چاہئیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ کو نہ صرف اپنی ناکام پالیسیوں بلکہ اس آفت کے سامنے خاموش رہنے پر بھی جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ اسی طرح ان طاقتور حلقوں کا کردار بھی اہم ہے — جو گلگت بلتستان کے اندر اور باہر سے — ایسے لوگوں کو سرپرستی کے ذریعے اقتدار تک لائے۔ اس ماحولیاتی تباہی میں ان کی معاونت کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
ماحولیاتی تباہی غیر سیاسی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ ایک گھناونی اور گہری سیاست ہے۔ دیامر کے جنگلات حادثاتی طور پر نہیں کاٹے گئے؛ انہیں پالیسی، طاقت اور منافع کی بھٹی میں جھونکا گیا۔ بابوسر کے سیلاب قدرت کا بے ترتیب مظاہرہ نہیں ہیں۔ یہ قدرتی وسائل پر اشرافیہ کے قبضے کا براہِ راست نتیجہ ہیں۔ جب تک ہم ان جالوں کو نہیں توڑتے جو درختوں کو سکے اور آفتوں کو بھلائے جانے والے سرخیوں میں بدلتے ہیں، بابوسر جیسے المیے بار بار دہرائے جاتے رہیں گے۔
گلگت بلتستان ایشیا کا ماحولیاتی اعتبار سے نازک ترین اور جغرافیائی سیاسی لحاظ سے اہم ترین خطہ ہے۔ یہاں کے دریاؤں، گلیشیئرز اور جنگلات پر جو گزرتی ہے، وہ اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا اثر سارے وسیع و عریض دریائے سندھ کے طاس پر پڑتا ہے، لاکھوں افراد کی خوراک اور پانی کی سلامتی متاثر ہوتی ہے، اور برصغیر کے موسمی مستقبل پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ یہ محض ایک مقامی مسئلہ نہیں — یہ ایک بین ریاستی مسئلہ ہے۔ اور اس کے لیے ہمدردی سے کہیں زیادہ ضرورت انصاف کی ہے.