ریاستی اداروں اور خودمختاری کی بحالی میں یمنی حکومت کی حمایت کریں، اور حوثی ملیشیا کو یمنی سرزمین، جزائر اور ساحلی پٹی کو بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت کے لیے خطرہ بننے سے روکیں۔حکومت جمہوریہ یمن
اسلام آباد (پاکستان اِن دی ورلڈ) جمہوریہ یمن کی حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ مغربی ساحل پر جاری کارروائیاں محض محدود مقامات پر قبضے کی جنگ نہیں ہیں، بلکہ یہ ریاستی اداروں کی بحالی، پورے قومی علاقے پر خودمختاری کے قیام، بغاوت کے خاتمے اور یمن کے اتحاد و سالمیت نیز اس کی ارضی و آبی حدود کے تحفظ کی قومی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے نام اپنے پیغام میں حکومت نے مزید واضح کیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے طاقت کے ذریعے حاصل کی جانے والی کوئی بھی عارضی علاقائی پیش قدمی انہیں مستقل سیاسی یا جغرافیائی حقیقت مسلط کرنے کا حق نہیں دیتی؛ اور یہ کہ یمنی ریاست بین الاقوامی انسانی قانون اور عسکری کارروائیوں کے اصولوں کے مطابق اپنی خودمختاری اور اداروں کا دفاع جاری رکھے گی نیز اپنے علاقے اور عوام کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے گی۔
یمن کی حکومت اس بات کی توثیق کرتی ہے کہ باب المندب اور بحیرہ احمر کی سلامتی کا آغاز خود یمن سے ہوتا ہے۔ المخا، جزیرہ میون اور اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے ساتھ واقع یمنی ساحلی پٹی محض جغرافیائی مقامات نہیں ہیں؛ بلکہ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی نقل و حمل کے ایک بڑے راستے پر واقع ہیں۔ لہٰذا، ان علاقوں کو تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ بننے والے مراکز میں تبدیل کرنا ایک ایسا خطرہ ہے جو یمن کی سرحدوں سے آگے تک پھیلا ہوا ہے اور علاقائی سلامتی نیز عالمی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے میزائلوں، ڈرونز اور بارود سے لدی کشتیوں کے ذریعے کیے جانے والے مسلسل حملوں نے بین الاقوامی بحری نقل و حمل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے یمنی سرزمین اور ساحلی پٹی کے مسلسل استعمال کے خطرے کو واضح کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے، جہاز رانی اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے، سپلائی چین (رسد کے نظام) میں خلل پڑا ہے، اور بحری جہازوں کا رخ طویل اور زیادہ مہنگے بحری راستوں کی جانب موڑنا پڑا ہے۔
جمہوریہ یمن کی حکومت مزید اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بحیرہ احمر کی سلامتی بین الاقوامی توانائی اور تجارت کی سلامتی سے اٹوٹ تعلق رکھتی ہے، اور باب المندب میں جہاز رانی کو درپیش کسی بھی مسلسل خطرے کے عالمی تجارت، توانائی کی منڈیوں اور سپلائی چینز پر براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے؛ ان میں وہ ایشیائی ممالک بھی شامل ہیں جو بحیرہ احمر اور بحر ہند سے گزرنے والے بحری راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں، یمن کی حکومت اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سیکیورٹی کا پائیدار حل حملوں کے بعد محض ردعمل ظاہر کرنے میں نہیں، بلکہ یمنی ریاست کو اس قابل بنانے میں مضمر ہے کہ وہ اپنی خودمختاری بحال کرے اور اپنے تمام علاقوں، ساحلی پٹی اور علاقائی سمندری حدود پر اختیار قائم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بحری راستوں کے تحفظ، اسمگلنگ کی روک تھام اور خطرات کے مختلف ذرائع کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے یمنی بحریہ، کوسٹ گارڈ اور سیکیورٹی اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔
یمن کی حکومت عالمی برادری، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بحیرہ احمر کے ساحلی ممالک، دوست ممالک اور بین الاقوامی شراکت داروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس خطرے کا مقابلہ کرنے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، بین الاقوامی قراردادوں پر عمل درآمد کریں، ریاستی اداروں اور خودمختاری کی بحالی میں یمنی حکومت کی حمایت کریں، اور حوثی ملیشیا کو یمنی سرزمین، جزائر اور ساحلی پٹی کو بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت کے لیے خطرہ بننے کی غرض سے استعمال کرنے سے روکیں۔
یمن کی حکومت اس بات کی بھی توثیق کرتی ہے کہ یمنی ریاست کی بحالی میں معاونت بین الاقوامی سمندری تحفظ، علاقائی استحکام اور تجارت و توانائی کے تحفظ میں ایک سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک ایسی یمنی ریاست کا وجود جو اپنی ساحلی پٹی اور علاقائی سمندری حدود کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، باب المندب اور بحیرہ احمر کے تحفظ کے لیے دفاع کی سب سے پائیدار لائن ثابت ہوگا۔
جمہوریہ یمن کی حکومت برادر ملک مملکتِ سعودی عرب کے خلاف حوثی دہشت گرد ملیشیا کے حملوں کی مذمت کا اعادہ کرتی ہے، اور مملکت کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اپنی سلامتی، شہریوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے اس کے جائز حق کی تائید کرتی ہے۔ حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ پڑوسی ممالک کے خلاف حملوں کے لیے یمنی سرزمین کا استعمال یمن کے مفادات اور مجموعی طور پر خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
جمہوریہ یمن کی حکومت ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ یمنی ریاست کی خودمختاری محض یمن کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ بحیرہ احمر اور باب المندب کی سلامتی، بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ، توانائی اور تجارت کی حفاظت، نیز علاقائی اور بین الاقوامی استحکام کا ایک لازمی جزو ہے۔
باب المندب کا معاملہ صرف یمن کا نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے : سفیر محمد مطہر العشبی










