باب المندب کا معاملہ صرف یمن کا نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے : سفیر محمد مطہر العشبی

0
18

یمن کسی بھی غیر ملکی حمایت یافتہ ملیشیا کو ملک کے کسی بھی حصے پر حکمرانی نہیں کرنے دے گا 

رپورٹ: تزئین اختر | کیمرا: راجہ غلام فرید

جمہوریہ یمن کے سفیر، جناب محمد مطہر العشبی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ملیشیا کو ریاست کے کسی بھی حصے پر حکمرانی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ریاست اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھے گی۔ کچھ علاقائی طاقتیں حوثیوں کو ہتھیار، میزائل اور ڈرون فراہم کر رہی ہیں۔ یمن کو توقع ہے کہ عالمی برادری امن کی بحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے یہ بات آج اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے بحران کی تفصیلات اور اس مسئلے پر اپنی حکومت کے مؤقف سے آگاہ کیا۔

سفیر نے نشاندہی کی کہ یمن کو ایسے مسلح گروہوں کی جانب سے چیلنجز کا سامنا ہے جو مختلف ذرائع سے ہتھیار اور رقوم حاصل کر رہے ہیں۔

سفیر نے کہا کہ یہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک چیلنج ہے۔ ہماری قومی سلامتی خطرے میں ہے، لیکن اگر باب المندب کی آبنائے کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ عالمی برادری کے لیے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی 60 فیصد سمندری تجارت باب المندب کے راستے ہوتی ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کا ذکر کیا (نہ کہ باب المندب کے حوالے سے) اور بتایا کہ پیٹرولیم کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں اور عوام کے لیے ان کا بوجھ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔

سفیر العشبی نے نشاندہی کی کہ یمن کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مسلح ملیشیا کی حمایت میں غیر ملکی مداخلت ہے، جو انسانی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

Houthis Not for Peace, Their Regional Master wants to Destabilize Arabic Peninsula, Threaten Maritime Trade in Red Sea. Ambassador of Yemen

انہوں نے (کسی مخصوص گروہ کا نام لیے بغیر) کہا کہ وہ مہلک ہتھیاروں سے لیس کرائے کے جنگجوؤں کو بھیج رہے ہیں اور انہیں جنت کی بشارت دیتے ہیں؛ انہیں کہا جاتا ہے کہ اگر وہ ریاست کے خلاف لڑیں گے تو جنت میں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر باب المندب حوثیوں کے قبضے میں چلا جاتا ہے، تو یہ صرف یمن کا مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہرمز کے بعد باب المندب کی ناکہ بندی ایک بہت بڑا تنازعہ اور سب کے لیے زیادہ خطرناک صورتحال ہوگی۔

سفیر نے مزید کہا کہ یمن امن کا خواہاں ہے اور گزشتہ 12 سالوں سے اس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے؛ یمنی ریاست کے پاس وہ میزائل اور ڈرونز موجود نہیں ہیں جو حوثیوں کے پاس ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ انہیں یہ ہتھیار کہاں سے مل رہے ہیں؟

جناب الاشبابی نے کہا کہ یمن نے ملک میں امن اور اتحاد کی بحالی کے لیے کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے لیکن حوثی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پاکستان کے کردار کے حوالے سے سفیر نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ ہمارے مفادات مشترک ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے تناظر میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں امن کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔

H.E Mohammed Motahar Alashabi , Ambassador of Yemen : ” Some Regional Powers are Supporting Houthis | Pakistan may Convince them to Lessen it | Coalition Force can’t becasue Rebels are not Declared as Terrorists”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here