گل جی کے گھر کا پراسرار سانحہ — ایک فنکار کی زندگی کا المناک اختتام

0
12

کراچی کے کلفٹن میں ایک ایسا گھر تھا جہاں رنگ، فن اور خوبصورت تخلیقات ہر طرف بکھری رہتی تھیں۔ یہ گھر پاکستان کے معروف مصور اور خطاط اسماعیل گل جی کا تھا۔

گل جی اپنی منفرد مصوری اور خطاطی کے باعث پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرونِ ملک بھی پہچانے جاتے تھے۔ ان کا گھر اور اسٹوڈیو ان کی زندگی بھر کی محنت اور فن کا مرکز تھا۔

لیکن دسمبر 2007 میں اس گھر میں ایک ایسا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔

کئی دن تک گھر سے معمول کے مطابق کوئی سرگرمی نظر نہ آئی۔ جب گھر کا دروازہ کھولا گیا تو اندر گل جی، ان کی اہلیہ زریں گل جی اور ایک گھریلو ملازمہ مردہ حالت میں پائے گئے۔

یہ خبر پھیلتے ہی کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ آخر گھر کے اندر کیا ہوا تھا؟

ابتدائی تفتیش میں پولیس کو ایسا کوئی واضح نشان نہیں ملا جس سے فوراً یہ معلوم ہو سکے کہ باہر سے زبردستی داخل ہو کر واردات کی گئی تھی۔ اس وجہ سے تفتیش کا رخ ان لوگوں کی طرف بھی گیا جو گھر اور وہاں کے معمولات سے واقف تھے۔

بعد میں پولیس نے گل جی کے ڈرائیور اکرم علی اور ایک ملازم محمد انور کو گرفتار کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق واقعے کا تعلق مبینہ طور پر قیمتی سامان حاصل کرنے کی کوشش سے تھا۔ پولیس نے مختلف اشیا اور دیگر شواہد کو بھی کیس کا حصہ بنایا۔

مگر قانونی کارروائی آسان نہیں تھی۔ یہ مقدمہ کئی سال تک چلتا رہا۔ آخرکار 2017 میں عدالت نے دونوں ملزمان کو تین افراد کے قتل میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ یوں ایک طویل قانونی سفر کے بعد عدالت نے اس مقدمے کا فیصلہ سنا دیا۔

لیکن گل جی کے قتل نے ایک اور وجہ سے بھی لوگوں کی توجہ حاصل کی۔ان دنوں یہی مشہور تھا کہ ماں باپ سے لڑائی جھگڑے کے بعد بیٹے ایمی گل نے ان دونوں کو قتل کر دیا تھا ( ملازمین کی مدد سے).

ان کی شہرت، ان کا قیمتی فن، گھر کا ماحول اور ابتدائی تفتیش کی بعض تفصیلات نے عوام میں مختلف سوالات اور قیاس آرائیوں کو جنم دیا۔ وقت کے ساتھ اس واقعے کے بارے میں مختلف سازشی نظریات بھی گردش کرتے رہے۔

تاہم ایک اہم بات یاد رکھنا ضروری ہے:

قیاس آرائی اور ثابت شدہ حقیقت ایک چیز نہیں۔

عدالتی ریکارڈ میں جن افراد کو مجرم قرار دیا گیا، ان کے خلاف فیصلہ موجود ہے، جبکہ کسی بڑے خفیہ منصوبے یا وسیع تر سازش کا معتبر عدالتی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

اور پھر وقت نے اس گھر کو ایک نئی کہانی دے دی۔

گل جی کی وفات کے بعد ان کا گھر طویل عرصے تک محفوظ رہا۔ برسوں بعد اسی جگہ کو ان کے فن اور یادوں سے منسلک گل جی میوزیم میں تبدیل کیا گیا۔

ایک ایسا گھر جہاں کبھی برش کینوس پر رنگ بکھیرتا تھا…

جہاں خطاطی کے شاہکار تخلیق ہوتے تھے…

وہی جگہ ایک دن ایک المناک واقعے کی گواہ بن گئی۔

آج وہاں گل جی کا فن موجود ہے، مگر اس گھر کی تاریخ پڑھتے ہوئے ایک سوال پھر بھی ذہن میں آتا ہے:

ایک عظیم فنکار کی زندگی کا اختتام اتنا پراسرار اور افسوسناک کیوں ہوا؟

اللہ اس واقعہ میں جان کی بازی ہارنے والے سب افراد کی مغفرت فرمائے۔ اور اصل ذمہ داران کو دنیا و آخرت میں بدترین انجام سے دوچار فرمائے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here