
تحریر و تحقیق: ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری (یونیورسٹی آف گجرات)
ہم سب نے سکول میں دنیا کے 7 براعظم اور 195 ملک پڑھے۔ لیکن استاد نے کبھی یہ نہیں بتایا کہ ان 195 میں سے 50 ایسے ملک ہیں جن کی کل آبادی لاہور کے ایک محلے جتنی بھی نہیں، اور جن کا رقبہ اسلام آباد سے بھی چھوٹا ہے۔ پھر بھی یہ اقوام متحدہ میں بیٹھے ہیں، ان کا جھنڈا ہے، وزیراعظم ہے، اور ان کا ایک ووٹ امریکہ، چین اور روس کروڑوں ڈالر میں خریدتے ہیں۔
یہ مضمون انہی کرائے کے ملکوں کی کہانی ہے۔
*یہ 50 ملک ہیں کون؟*
یہ تین جگہوں پر بکھرے ہوئے ہیں۔
پہلا گروہ:
پہلا گروہ کیریبین کا ہے۔ آپ نے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کا نام سنا ہوگا، یہ دراصل کوئی ایک ملک نہیں۔ یہ 15 الگ الگ ملکوں کا جتھہ ہے۔ جیسے سینٹ کٹس اینڈ نیوس (رقبہ 261 کلومیٹر، آبادی 53 ہزار)، انٹیگوا و باربوڈا (رقبہ 440 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ)، ڈومینیکا (رقبہ 750 کلومیٹر، آبادی 72 ہزار)، سینٹ لوشیا (رقبہ 616 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 80 ہزار)، گریناڈا (رقبہ 344 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 12 ہزار)۔
دوسرا گروہ:
دوسرا گروہ بحرالکاہل کا ہے، جہاں دنیا کے سب سے چھوٹے ملک ہیں۔ ناورو (رقبہ صرف 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار)، تووالو (رقبہ 26 کلومیٹر، آبادی 11 ہزار)، پالاؤ (رقبہ 466 کلومیٹر، آبادی 18 ہزار)، مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار)، مائیکرونیشیا (رقبہ 702 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 15 ہزار)۔
تیسرا گروہ:
تیسرا گروہ یورپ کے اندر ہے۔ ویٹیکن سٹی (رقبہ 0.44 کلومیٹر، آبادی 800 افراد)، موناکو (رقبہ 2 کلومیٹر، آبادی 39 ہزار)، لیختنسٹائن (رقبہ 160 کلومیٹر، آبادی 38 ہزار)، سان مارینو (رقبہ 61 کلومیٹر، آبادی 33 ہزار)، انڈورا (رقبہ 468 کلومیٹر، آبادی 77 ہزار)۔
سوال یہ ہے کہ یہ کیسے زندہ ہیں؟ ان کے پاس فوج نہیں، زراعت نہیں، صنعت نہیں۔
*یہ ختم کیوں نہیں ہوتے؟ اس ظالم دنیا نے انہیں کیوں زندہ رکھا ہوا ہے؟*
نیپال کے سشیل پرساد کوئرالا – دنیا کے سب سے غریب وزیراعظم
1945 سے پہلے دنیا کا قانون تھا کہ جو طاقتور ہے وہ کمزور کو کھا جائے گا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے بعد نیا قانون بنا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی سرحد ختم نہیں کرے گا۔ اس ایک قانون نے ان 50 ملکوں کو ہمیشہ کی زندگی دے دی۔
اب ان کو ختم کرنا بہت مہنگا اور زندہ رکھنا بہت سستا ہے۔ ان کو زندہ رکھنے کی چار بڑی وجوہات ہیں۔
پہلی وجہ، یہ بڑی طاقتوں کے لیے ٹیکس چوری کا بینک ہیں۔ آپ نے کیمن آئی لینڈ (رقبہ 264 کلومیٹر، آبادی 68 ہزار) کا نام سنا ہوگا۔ یہ برطانیہ کی کالونی ہے۔ دنیا کی 100 بڑی کمپنیوں میں سے 90 کا دفتر یہاں کاغذ پر موجود ہے۔ دنیا کا تقریباً 2 ہزار ارب ڈالر کا کالا پیسہ یہیں پڑا ہے۔ برطانیہ اور امریکہ کبھی نہیں چاہیں گے یہ جزیرے ختم ہوں۔
دوسری وجہ، یہ سیاحت کے ہوٹل ہیں۔ انٹیگوا میں 365 ساحل ہیں۔ ہر ساحل پر امریکی اور برطانوی سیاح آتے ہیں۔ ایک لاکھ کی آبادی والے ملک میں ہر سال 10 لاکھ سیاح آتے ہیں۔ اگر یہاں بدامنی ہوئی تو امریکی سیاحت کی انڈسٹری کو نقصان ہوگا۔ اس لیے امریکہ خود ان کی حفاظت کرتا ہے۔
تیسری وجہ، یہ پاسپورٹ کی دکان ہیں۔ ان میں سے اکثر ملک اپنا پاسپورٹ بیچتے ہیں۔ 2 لاکھ ڈالر دو اور سینٹ کٹس یا انٹیگوا کا پاسپورٹ لو، جس پر 150 ملکوں میں بغیر ویزے جا سکتے ہو۔ یہ کاروبار ہر سال ان چھوٹے ملکوں کو 500 ملین ڈالر سے زیادہ دیتا ہے۔
اور چوتھی اور سب سے اہم وجہ، جو ہمارے عنوان کی اصل ہے، وہ ہے ووٹ۔
جعلی ممالک کو امریکہ، یورپ، آسٹریلیا نے قائم کیوں رکھا ہوا ہے اور یہ اپنا جھنڈا کیسے بیچتے ہیں؟:
ان 50 ملکوں کے زندہ رہنے کی دو قیمتیں ہیں، ایک جھنڈا اور دوسرا ووٹ، اور دونوں ہی بڑی طاقتوں کے لیے سستا سودا ہے۔
پہلا سودا جھنڈے کا ہے جسے Flag of Convenience کہتے ہیں۔ فرض کریں آپ یورپ کے ایک بڑے بحری جہاز کے مالک ہیں۔ اگر آپ اپنے جہاز پر جرمنی یا فرانس کا جھنڈا لگائیں گے تو آپ کو یورپ کا بھاری ٹیکس، مہنگے یورپی ملازم اور سخت قانون برداشت کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ اسی جہاز پر پاناما (رقبہ 75 ہزار کلومیٹر، آبادی 44 لاکھ)، لائبیریا (رقبہ 1 لاکھ 11 ہزار کلومیٹر، آبادی 53 لاکھ) یا مارشل آئی لینڈ (رقبہ 181 کلومیٹر، آبادی 42 ہزار) کا جھنڈا لگا لیں تو نہ ٹیکس دینا پڑے گا نہ کوئی پوچھے گا۔ اسی لیے آج دنیا کے 70 فیصد تجارتی جہازوں پر ان چھوٹے ملکوں کا جھنڈا لہراتا ہے۔ یہ ملک ہر جہاز سے سالانہ 10 سے 20 ہزار ڈالر فیس لے کر اپنی حکومت چلاتے ہیں، اور امریکہ و یورپ کی کمپنیاں اسی سے اربوں کا ٹیکس بچاتی ہیں۔
دوسرا اور اس سے بھی بڑا سودا اقوام متحدہ میں ووٹ کا ہے۔ وہاں امریکہ کی 34 کروڑ آبادی کا بھی ایک ووٹ ہے اور ناورو (رقبہ 21 کلومیٹر، آبادی 12 ہزار) کا بھی ایک ووٹ ہے۔ تو 20 چھوٹے ملک خرید لو تو 20 بڑے ملکوں کے برابر طاقت مل جاتی ہے۔ اسی لیے چین، امریکہ اور آسٹریلیا انہیں سالانہ 50 سے 100 ملین ڈالر کی امداد، ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک دے کر ان کا ووٹ خرید لیتے ہیں۔
اب حساب لگائیں، ان پر قبضہ کرنے کا مطلب ہے وہاں فوج رکھنا، انتظامیہ چلانا، اقوام متحدہ میں بدنامی لینا جس کا خرچہ اربوں ڈالر ہے۔ جبکہ انہیں آزاد رکھ کر ان کا جھنڈا اور ووٹ کرائے پر لینے کا خرچہ صرف چند کروڑ ڈالر ہے۔ اسی لیے اس ظالم دنیا نے ہوشیاری سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انہیں ختم کرنا مہنگا ہے، زندہ رکھنا سستا ہے۔
*ایک ووٹ کی منڈی کیسے لگتی ہے؟*
اقوام متحدہ میں ایک عجیب جمہوریت ہے۔ امریکہ کی آبادی 34 کروڑ ہے، اس کا ووٹ ایک۔ اور ناورو کی آبادی 12 ہزار ہے، اس کا ووٹ بھی ایک۔
یعنی 20 چھوٹے جزیرہ ممالک مل جائیں تو وہ جرمنی، فرانس، برطانیہ اور جاپان جیسے 20 بڑے ملکوں کے ووٹوں کے برابر ہو گئے۔
لاہور کے اینگلو انڈین کہاں گئے؟
اب یہاں منڈی لگتی ہے۔
کہانی نمبر 1: چین بمقابلہ تائیوان
تائیوان چاہتا ہے دنیا اسے ملک مانے، چین کہتا ہے کوئی نہ مانے۔ دونوں ان چھوٹے ملکوں کے پاس جاتے ہیں۔ پچھلے 10 سال میں چین نے وانواتو (رقبہ 12 ہزار کلومیٹر، آبادی 3 لاکھ)، سولومن آئی لینڈ (رقبہ 28 ہزار کلومیٹر، آبادی 7 لاکھ) اور کیریباتی (رقبہ 811 کلومیٹر، آبادی 1 لاکھ 20 ہزار) کو اربوں ڈالر کی سڑکیں اور پارلیمنٹ بنا کر دی، اور انہوں نے بدلے میں تائیوان کو چھوڑ کر چین کو اپنا باپ مان لیا۔ تائیوان کے پاس اب صرف 12 ملک رہ گئے ہیں جن میں سے 5 اسی 50 کی فہرست میں سے ہیں۔
کہانی نمبر 2: امریکہ اور اسرائیل
جب اقوام متحدہ میں فلسطین پر ووٹ ہوتا ہے تو پوری دنیا فلسطین کے حق میں ووٹ دیتی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے حق میں صرف 8 یا 9 ووٹ آتے ہیں۔ ان 9 میں ہمیشہ مائیکرونیشیا، مارشل آئی لینڈ، پالاؤ، ناورو جیسے ملک ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا سارا بجٹ ہی امریکی امداد پر چلتا ہے۔ امریکہ ان کو سال کا 100 ملین ڈالر دیتا ہے اور بدلے میں ان کا ووٹ لے لیتا ہے۔
کہانی نمبر 3: موسمیاتی تبدیلی کا ڈرامہ
تووالو اور مالدیپ (رقبہ 300 کلومیٹر، آبادی 5 لاکھ) جیسے ملک کہتے ہیں ہم سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔ یورپ کہتا ہے ہم تمہیں بچانے کے لیے فنڈ دیں گے، لیکن تم ہمارے حق میں ووٹ دو۔
تو یہ جمہوریت نہیں، یہ منڈی ہے۔ پاکستان میں ایک برادری کا ووٹ 5 ہزار میں بکتا ہے، عالمی سطح پر ایک ملک کا ووٹ ایک اسٹیڈیم یا ایک سڑک کے بدلے بکتا ہے۔
*آخر میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک بے وقوف ہیں؟*
نہیں، یہ بہت ہوشیار ہیں۔ ان کے حکمران جانتے ہیں کہ ان کے پاس نہ تیل ہے نہ فوج۔ ان کے پاس صرف تین چیزیں ہیں، اپنا جھنڈا، اپنا ساحل، اور اقوام متحدہ میں اپنی کرسی۔ وہ اسی کرسی کو بیچ کر 100 سال سے زندہ ہیں۔
انہیں ختم کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہ ختم ہو گئے تو امریکہ اور چین اپنے سستے ووٹ کہاں سے خریدیں گے، یورپ کے ارب پتی اپنا پیسہ کہاں چھپائیں گے، اور دنیا کے سیاح سردیوں میں سستے ساحل پر کہاں جائیں گے؟
اس لیے یہ 50 جعلی ملک، اصل دنیا کی سیاست کے سب سے اصلی ستون ہیں۔
بالکل اسی طرح ہمارے ملک چھوٹی چھوٹی جعلی و مصنوعی، نا اہل قیادتیں پیدا کی جاتی ہیں، ان کی تانگہ پارٹیاں رجسٹرڈ کروائی جاتی ہیں، نہ ان کا کوئی تنظیمی اسٹرکچر ہوتا ہے، نہ کوئی قومی خدمت۔ مگر ان کو اتحادوں کے جوڑ توڑ کی سیاست کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ آخر میں نعرہ لگتا 9 ستاہ، 18 ستارہ اتحاد ۔۔ اس اتحاد کی بدولت ان کو ایک ایک، دو دو سیٹیں پارلیمینٹ میں دے دی جاتی ہیں اور جوڑ توڑ کی سیاست جاری رہتی ہے۔۔
*اور ہمارا پاکستان اس سے کیا سیکھے؟*
یہ 50 جعلی ملک ہم پاکستانیوں کے لیے آئینہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں ایک چھوٹا جزیرہ اپنا جھنڈا اور ووٹ بیچ کر اپنی عوام کو پالتا ہے، اور یہاں ہماری بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اپنا جھنڈا اور اپنا ووٹ بیچ کر اپنی جیبیں بھرتی ہیں۔ ناورو (12 ہزار آبادی) جیسا ملک جب امریکہ سے 100 ملین ڈالر لیتا ہے تو وہ اپنے ہر شہری کے لیے اسکول اور ہسپتال بناتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں اربوں ڈالر کی امداد، IMF کے قرضے اور بیرونی آقاؤں کی حمایت کا سودا صرف اقتدار کی کرسی بچانے کے لیے کیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ میں ایک چھوٹے جزیرے کے ووٹ کی بھی قیمت ہے کیونکہ وہ اپنے ملک کے مفاد میں بکتا ہے، لیکن ہمارے پارلیمنٹ میں ہمارے اپنے نمائندے کا ووٹ جس دن بکتا ہے اس دن وہ ملک کے نہیں، لندن، دبئی یا واشنگٹن میں بیٹھے آقاؤں کے مفاد میں بکتا ہے۔ اس لیے وہ 50 ملک جنہیں ہم جعلی کہہ رہے ہیں وہ کم از کم اپنے کرائے سے زندہ تو ہیں، جبکہ ہم اصل ملک ہو کر بھی کرائے پر چل رہے ہیں۔
Pakistan in the World – March / April 2026