بہت سال پہلے ریلوے کی آبادیوں میں گھرا ناچ گھر دیکھا۔ناچ تو جانے کب کا متروک ہوچکا لیکن لاہور کے لوگ آج بھی اسے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔یہ اینگلو انڈین کمیونٹی کی یادگار ہے۔ایک دن سوچا یہ لوگ کہاں گئے؟لاہور کی تاریخ میں اینگلو انڈین کمیونٹی صرف ایک نسلی یا مذہبی گروہ نہیں تھی بلکہ ریلوے، تعلیم، سرکاری محکموں، موسیقی، کھیل اور شہری ثقافت کا ایک اہم حصہ تھی۔
اینگلو انڈین، مقامی پاکستانی مسیحی اور یورپی برادری کو ایک ہی گروہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ تاریخی طور پر یہ الگ شناختیں تھیں، اگرچہ لاہور میں ان کے سماجی اور ادارہ جاتی روابط بہت گہرے تھے۔کبھی لاہور کی گلیوں، ریلوے کالونیوں، مال روڈ کے آس پاس اور گڑھی شاہو کی بستیوں میں ایک ایسی کمیونٹی آباد تھی جس کے بغیر لاہور کی جدید شہری زندگی کی کہانی شاید مکمل نہ ہو۔ یہ تھے اینگلو انڈین۔
آج اگر آپ لاہور میں اینگلو انڈین کمیونٹی کو تلاش کریں تو شاید آپ کو چند خاندانوں کے علاوہ ان کی کوئی واضح اجتماعی موجودگی نظر نہ آئے۔ لیکن ایک وقت تھا جب انگریزی بولنے والے یہ خوش مزاج، ملنسار اور زندہ دل لوگ لاہور کے شہری کلچر کا ایک نمایاں حصہ تھے۔ ان کے گھروں سے موسیقی کی آوازیں آتی تھیں، کرسمس اور دوسرے تہوار پورے جوش سے منائے جاتے تھے، نوجوان کھیلوں اور رقص کی محفلوں میں شریک ہوتے تھے اور ریلوے ان کی زندگی کا ایک بڑا حوالہ تھا۔
اصل میں لاہور اور اینگلو انڈین کمیونٹی کا رشتہ بہت حد تک ریلوے کی وجہ سے مضبوط ہوا۔ جب برطانوی دور میں لاہور شمالی ہندوستان اور شمال مغربی علاقوں کو ملانے والا ایک بڑا ریلوے جنکشن اور نارتھ ویسٹرن ریلوے کا اہم مرکز بنا تو یہاں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ ہنرمند اور نیم ہنرمند ملازمین میں یورپیوں کے ساتھ بڑی تعداد میں اینگلو انڈین بھی شامل تھے۔یہ لوگ صرف کلرک نہیں تھے۔ ان میں انجن ڈرائیور، فائر مین، مکینک، سگنل مین، گارڈ، ٹیکنیکل سٹاف، ریلوے کلرک، سپروائزر اور مختلف دفتری ملازمین شامل تھے۔ لاہور ریلوے اسٹیشن سے لے کر مغل پورہ کے ورکشاپس تک ایک پوری دنیا آباد تھی۔
اس دنیا میں ملازمت صرف روزگار نہیں تھی بلکہ خاندانوں کی شناخت بھی تھی۔ کئی خاندانوں کی کئی نسلیں ریلوے سے وابستہ رہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ گڑھی شاہو لاہور کی اینگلو انڈین تاریخ کا ایک انتہائی اہم حوالہ بن جاتا ہے۔ پرانے لاہور کو یاد کرنے والے بعض لوگوں کے مطابق اینگلو انڈین خواتین سائیکلوں پر بازار جایا کرتی تھیں اور ریلوے کے آس پاس ان کی موجودگی عام منظر تھا۔ اس کے علاوہ میسن روڈ، بیڈن روڈ، کوپر روڈ اور مال روڈ کے آس پاس کے علاقے بھی اینگلو انڈین خاندانوں کی رہائش اور سماجی زندگی سے وابستہ رہے۔میسن روڈ کے ایک احاطے میں اینگلو انڈین خاندانوں کے بارہ گھروں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ ان خاندانوں کے ناموں میں ڈی سلوا، ڈی سوزا، المیڈا، ڈی میلو اور ڈی اولیویرا جیسے پرتگالی اثر والے نام بھی ملتے تھے، جبکہ اوبرائن، او سلیوان، او نیل اور برک جیسے آئرش نام بھی عام تھے۔
لیکن ان کی زندگی صرف ملازمت تک محدود نہیں تھی۔ لاہور میں ان کی اپنی سماجی دنیا بھی تھی۔ برٹ انسٹی ٹیوٹ اور لیڈی گرفن جیسے کلب اور ادارے ان کی اجتماعی زندگی کا حصہ تھے۔ان کی ایک بڑی یادگار لاہور کے چرچ بھی ہیں۔ ریلوے کے پھیلاؤ کے ساتھ لاہور میں ایسے چرچ وجود میں آئے جنہیں ریلوے سے وابستہ عیسائی آبادی کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔ سینٹ اینڈریوز چرچ، ایمپریس روڈ اور سینٹ انتھونی چرچ اس تاریخی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ لاہور کیتھیڈرل، جو انیسویں صدی کے آخر میں قائم ہوا، اس پورے عیسائی تعلیمی اور سماجی ماحول کا ایک اہم مرکز تھا۔
تعلیم کے میدان میں بھی اس کمیونٹی کا کردار نمایاں تھا۔ لاہور کے کئی مشنری اور انگریزی میڈیم اداروں میں اینگلو انڈین اساتذہ اور ملازمین کام کرتے تھے۔ بعض تعلیمی اداروں میں اینگلو انڈین طلبہ کی باقاعدہ بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ مثال کے طور پر انیسویں صدی کے آخر میں کیتھیڈرل سے وابستہ بعض تعلیمی اداروں میں یورپی اور اینگلو انڈین طلبہ زیر تعلیم تھے۔ اور پھر سیاست میں بھی اس کمیونٹی کی آواز موجود تھی۔
یہاں ایک بہت اہم نام آتا ہے: سیسل ایڈورڈ گبن۔سیسل گبن اینگلو انڈین رہنما تھے، پنجاب میں اینگلو انڈین ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور 1946 میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔انہوں نے اینگلو پاکستان ایسوسی ایشن کے قیام میں کردار ادا کیا۔ 23 جون 1947 کو پنجاب اسمبلی کے اس اہم اجلاس میں گبن ان ارکان میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان کی نئی دستور ساز اسمبلی کے ساتھ جانے کے حق میں ووٹ دیا۔ بعد میں وہ پاکستان کی قومی سیاست میں بھی نمایاں ہوئے اور 1955 سے 1958 تک قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رہے۔
یہاں ایک تاریخی وضاحت بھی ضروری ہے۔ اکثر 1947 کے واقعات میں ایس پی سنگھا اور فضل الٰہی کا نام بھی اینگلو انڈین نمائندوں کے ساتھ لیا جاتا ہے، لیکن تحقیقی حوالوں کے مطابق ایس پی سنگھا اور فضل الٰہی مقامی عیسائی نمائندے تھے جبکہ سیسل گبن اینگلو انڈین نمائندے تھے۔ اس لیے تاریخ بیان کرتے وقت ان شناختوں کو الگ رکھنا زیادہ درست ہے۔
تقسیم کے بعد بہت سے اینگلو انڈین خاندانوں نے ہندوستان، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا کا رخ کیا۔ کچھ خاندان پاکستان میں رہے، لیکن وقت کے ساتھ ان کی نئی نسلوں نے بھی بیرون ملک مواقع تلاش کیے۔ پھر ریلوے کی پرانی نوکریوں کا نظام بدل گیا، نئی ٹیکنالوجی آئی، پرانے ریلوے محلے بدلتے گئے، گھروں کی تقسیم ہوئی، آبادی بڑھی اور لاہور کی شہری ساخت بھی تبدیل ہوتی گئی۔ یوں وہ پورا سماجی ماحول جس میں اینگلو انڈین کمیونٹی پھلی پھولی تھی، آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔
آج بھی لاہور اور پاکستان کے مختلف شہروں میں اینگلو انڈین خاندان موجود ہیں، لیکن اب وہ اس طرح کسی ایک علاقے میں اجتماعی طور پر نظر نہیں آتے جیسے کبھی گڑھی شاہو اور ریلوے کالونیوں میں نظر آتے تھے۔ شہر صرف عمارتوں سے نہیں بنتے، شہر لوگوں سے بنتے ہیں۔ کچھ لوگ آتے ہیں، بستے ہیں، اپنی زبان، لباس، موسیقی، کھانے، ملازمتیں، ادارے اور یادیں اس شہر میں چھوڑ جاتے ہیں، اور پھر کسی دن خود کہیں اور چلے جاتے ہیں۔
آج جب ہم لاہور ریلوے سٹیشن دیکھتے ہیں، گڑھی شاہو سے گزرتے ہیں، مغل پورہ کے پرانے ریلوے ورکشاپس کا ذکر سنتے ہیں، ایمپریس روڈ کے پرانے چرچ دیکھتے ہیں یا مال روڈ کے نوآبادیاتی لاہور کو یاد کرتے ہیں تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس لاہور کی تشکیل میں اینگلو انڈین کمیونٹی کا بھی ایک حصہ تھا۔ شاید اس کمیونٹی کی سب سے بڑی یادگار کوئی ایک عمارت نہیں، بلکہ لاہور کا وہ زندہ دل، کثیر الثقافتی مزاج ہے جس میں مختلف زبانیں، مذاہب اور ثقافتیں ایک ہی شہر میں سانس لیا کرتی تھیں۔
شاید ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم ان بکھرے ہوئے خاندانوں، پرانے گھروں، چرچوں، ریلوے کالونیوں اور بزرگوں کی یادوں کو دوبارہ جمع کریں۔ مجھے لگتا ہے کہ کسی شہر کی سب سے قیمتی تاریخ وہ ہوتی ہے جو لوگوں کی یادوں میں زندہ رہ جاتی ہے۔