بوسنیا کے لوگوں کی پاکستانیوں سے محبتیں

0
40

برگیڈیئربشیرآرائیں(ریٹائرڈ)

1994 میں یوناٸیٹڈ نیشنز نے بوسنیا ہرزوگووینا میں یو این پروٹیکشن فورس اتاری تو پاکستان آرمی بھی اسکا حصہ تھی ۔ ہمارے آفیسرز اور جوانوں نے بوسنیا میں جس طرح فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اسکے بدلے بوسنیا کے لوگوں کی پاکستانیوں سے محبتیں آج بھی زندہ ہیں اور رہتی دنیا تک تذکرے ہوتے رہینگے ۔ میں 15 جولاٸی 1995 کو وسچا کیمپ تزلا پہنچا اور پاک بٹالین کے فیلڈ ہاسپیٹل کی کمانڈ سنبھالی ۔ اب تک بوسنیا کے شہروں کے شہر اجڑ چکے تھے ۔ جگہ جگہ بےگھر لوگ سڑک کے کنارے شامیانے لگاٸے بیٹھے یونیسیف ۔ این جی اوز اور یوناٸیٹڈ نیشن کے رحم و کرم پر تھے ۔

کسی بھی شامیانے یا ٹینٹ میں جاکر پوچھتے تو اس میں چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی اس خاندان کی بیٹی بہو اور خود ماں یا تو بیوہ تھیں یا انکے خاوند باپ یا بیٹے بوسنین آرمی میں قومی بقا کی جنگ لڑنے جاچکے تھے ۔ کسی کیمپ میں 12 سال سے بڑے لڑکے نظر نہیں آرہے تھے بڑے لڑکوں کو یا تو سربوں اور کروٹس نے قتل کردیا گیا تھا یا وہ اپنی فوج میں شامل ہوگٸے تھے ۔ ننھی خوبصورت بچیوں اور بچوں کی حالت زار دیکھ کر ایسے لگتا جیسے پھول کلیوں کو مسل کر کیچڑ میں پھینک دیا گیا ہو۔

ان دنوں پاکستان سے یو این مشن میں ہماری لیڈی ڈاکٹرز اور نرسز نہیں جاتی تھیں ۔ ہمارے ہاسپیٹل میں جو بوسنین لڑکیاں کام کررہی تھیں وہ سب تعلیم یافتہ اور زیادہ تر میڈیکل کی طالبہ تھیں جو پچھلے دوسال سے تعلیمی ادارے بند ہونے کی وجہ سے رل گٸی تھیں ۔ ہم پاکستانی لوگ یورپین لڑکیوں کو انکے لباس اور کلچر کی وجہ سے اچھا نہیں سمجھتے مگر یہاں تو یہ سب مسلمان تھیں اور اکثر نماز بھی پڑھتیں ۔ میں نے ایک آدھ دفعہ کہا تو انہوں نے اپنے لباس بھی بہتر کرلیے ۔

5 فٹ 8 انچ لمبی میڈیکل کی ایک طالبہ لیلیٰ کسی بھی کام سے میرے آفس آتی تو بات کرتے کرتے اسکی آنکھیں نم ہو جاتیں اور وہ بات ختم کرتے ہی فوراً اٹھ کر چلی جاتی ۔ میں نے اپنی ترجمان لڑکی سے پوچھا تو پتہ چلا کہ لیلیٰ کا باپ اور واحد بڑا بھاٸی جنگ میں شہید ہو چکے ہیں اور اب یہ اپنی ماں کے ساتھ اکیلی رہتی ہے ۔ اسکا منگیتر بھی میڈیکل کا طالبعلم تھا مگر اب یونیسیف میں الیکٹریشن کا کام کرتا ہے ۔ میں نے لیلیٰ سے اس کی فیملی کے بارے میں خود بھی پوچھا تو روتے ہوٸے یہی کچھ بتایا ۔ کہنے لگی آپ ہاسپیٹل چیف ہوتے ہوئے ہم سب سے محبت اور شفقت سے بات کرتے ہیں تو اچھا محسوس ہوتا ہے ۔ بس ایک اجازت اور دے دیں کہ میں آپکو چیف کی بجاٸے ماٸی برادر کہہ لیا کروں تاکہ اپنے شہید بھاٸی کی یاد کم آیا کرے اور میں خود کو تنہا محسوس نہ کروں ۔ میں نے خوشی سے اجازت دیدی کہ ٹھیک ہے آج سے تم مجھے بگ برادر کہہ کر پکار سکتی ہو مگر مجھے اپنے منگیتر سے بھی جلد از جلد ملواٶ ۔

اب لیلیٰ کی آنکھوں میں آنسو ذرا کم نظر آتے تھے ۔ ایک دن اسکا منگیتر مجھے ملنے آگیا ۔ المیر بہت اسمارٹ قدآور اور نفیس نوجوان تھا دونوں کو اکٹھا دیکھ کر لگا جیسے اللہ تعالیٰ نے انکو ایک دوسرے کے لٸے ہی بنایا ہو ۔ میں نے المیر سے کہا کہ آپ اب شادی کرلو ماں بیٹی کو سہارا مل جاٸے گا ۔

المیر نے کہا نہیں ابھی نہیں کیونکہ میرے پاس نہ تو شادی کے اخراجات کیلٸے رقم ہے نہ میں کوٸی دعوت کرنے کے انتظامات کرسکتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں زرا حالات بہتر ہو جاٸیں تو یہ شادی کولونگا ۔ میں نے کہا یہ لڑکی مجھے بگ برادر کہتی ہے تو بڑے بھاٸی کی طرح سب انتظامات میں کردیتا ہوں ۔ دونوں کی خوشی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔ لیلیٰ کہنے لگی ٹھیک ہے اگر آپ پاکستانی خاکی یونیفارم میں اور دوردا کیمپ والے پاکستانی فوجی بینڈ کے ساتھ انتظام کریں تو مجھے اور کچھ بھی نہیں چاہیے ۔ نہ کوٸی دعوت نہ کوٸی فنکشن ۔

The Statehood Day of Bosnia & Herzegovina Celebrated with Students in Islamabad ! Iqra University Screens President’s Message and ” Quo Vadis, Aida? “

ہمارے ہاسپیٹل میں راشن کے ڈھیر تھے ۔ ہم کھانا پکا کر لوگوں میں تقسیم کرتے تھے ۔ دوچار سو لوگوں کے کھانے کا بندوبست کرنا کوٸی مشکل کام نہ تھا ۔ کسی ہوٹل یا کلب میں جگہ بھی مجھے بلامعاوضہ مل سکتی تھی کیونکہ سب خالی پڑے تھے ۔ بس لیلیٰ کے مطالبات پورے کرنا خاصا مشکل کام تھا ۔ یوناٸیٹڈ نیشن مشن میں ہوتے ہوٸے پاک آرمی کی یونیفارم پہن کر کسی بوسنین لڑکی کی شادی میں شرکت اور 18 پنجاب رجمنٹ کے بینڈ کا تزلا شہر میں کسی کی شادی پر پرفارم کرنے کیلئے ہائر کمانڈ کی اجازت چاہئیے تھی ۔ ہمارے گروپ کمانڈر کرنل سید قاسم عباس انتہاٸی دیندار اور نفیس افسر تھے جو بعد میں برگیڈیئر رینک میں ریٹاٸر ہوٸے ۔ انسانی قدروں کو خوب سمجھتے تھے ۔

میں دوسرے دن ہیڈکوارٹر دوردا کیمپ میں ان سے جا ملا اور انہیں ساری بپتا سناٸی ۔ کچھ دیر سوچا اور کہا جاٶ تمہیں ہر چیز کی اجازت ہے ۔ دوسرے افسر بھی شریک ہوسکتے ہیں مگر خاکی یونیفارم صرف تم پہنو گے ۔ باقی سب افسر یو این مشن والی یونیفارم میں ہونگے ۔ آرمی بینڈ کی بھی اجازت ہے ۔

میں نے صبح ہاسپیٹل کے کاریڈور میں لیلیٰ کو سب لڑکیوں کی موجودگی میں بتایا کہ تم جب چاہو اپنی شادی کی تاریخ رکھ لو ۔ انتظام بگ برادر کے ذمے ہے ۔ پاکستانی بینڈ اور ہاسپیٹل کے باقی تمام افسر بھی شریک ہونگے اور میں خاکی وردی میں بڑا بھائی بن کر ساتھ بھی رہونگا ۔ تمام لڑکیاں یہ سب بہت حیرانگی سے سن رہی تھیں ۔ لیلیٰ پہلے تو چہک چہک کر سب لڑکیوں سے گلے ملتی رہی مگر اچانک ہی کاریڈور میں زمین پر بیٹھ کر رونے لگی ۔ سب لڑکیاں بھی اسکے ارد گرد بیٹھ گئیں تو میں چپ چاپ اپنے آفس میں واپس آ گیا ۔ کسی کا خوشی میں رونا اپنی آنکھوں سے دیکھ کر رنجیدہ بھی تھا اور خوش بھی ۔

آفس میں دیر تک بیٹھا سوچتا رہا کہ رب کریم نے عورت ذات کو شاید ایک ہی مٹی سے گوندھا ہے ۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں جنم لے ۔ جو بھی زباں بولے ۔ رنگ و روپ جیسا بھی ہو ۔ شکل و صورت کیسی بھی ہو ۔ دل ایک جیسا ہی پاتی ہے ۔ ماں ہو ۔ بیٹی ہو ۔ بہن ہو یا بیوی ۔ مرد سے ہر رشتے میں محبت اور وفا کا پیکر ۔ مجھے اندازہ تھا کہ خوشی کے اس موقع پر لیلیٰ اپنے شہید بھاٸی اور باپ کو یاد کرکے رونے بیٹھ گٸی تھی ۔ 15 منٹ بعد میں دوبارہ باہر آیا تو وہ وہیں کاریڈور میں میری ترجمان لڑکی عامرہ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ مجھے دیکھا تو آنسو صاف کرکے مسکراتی ہوٸی صرف تھینک یو کہہ کر وارڈ کی طرف چلی گٸی۔

دوسرے دن اس نے بتایا کہ نکاح اور شادی کیلٸے 15 دن بعد کی تاریخ رکھی ہے ۔ میں نے اپنے ہیڈ کلرک کو بتا دیا کہ لیلیٰ کو 20 دن کی چھٹی کا لیٹر دے دو ۔ میجر سرفراز جنجوعہ (برگیڈیر بن کر ریٹائر ہوا ہے) کے ساتھ تزلا جاکر دعوت کی جگہ کا انتخاب کیا ۔ ہاسپیٹل کے راشن اسٹور سے ضرورت کے سامان کا حساب لگوایا ۔ 18 پنجاب رجمنٹ کے بینڈ ماسٹر کو سارے راستے اور دعوت کی جگہ دیکھنے کو بھجوا دیا ۔ شرکت کرنے والے پاک آرمی کے افسروں کی لسٹ تیار ہوٸی تو میں کرنل سید قاسم عباس سے اجازت لینے پہنچا ۔ میری خوشی اس وقت دوبالا ہو گٸی جب انہوں نے کہا کہ بشیر تم لسٹ میں میرا نام بھی شامل کرلو ۔ میں بھی اپنے کسی اسٹاف آفیسر کیساتھ شرکت کرنے آونگا ۔

میری جیپ پر دو جھنڈے لہراتے تھے ۔ایک یوناٸٹیڈ نیشن کا اور دوسرا ریڈکراس کا ۔ شادی والے دن میں نے ریڈکراس کے جھنڈے کی جگہ پاکستان کا جھنڈا لہرایا اور خاکی یونیفارم پہنی ۔ باقی سب آفیسرز یو این مشن کی یونیفارم میں رہے ۔ سب لوگ تین جیپوں میں ڈھیروں پھول لٸے تزلہ کینٹ میونسپل آفس پہنچے ۔ بلڈنگ کے باہر بن بلاٸے لوگوں کا جم غفیر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا ۔ 18 پنجاب رجمنٹ کا بینڈ پاکستانی دھنیں بجا رھا تھا اور لوگ پاکستان دوبھرو ۔ پاکستان دوبھرو (پاکستان زندہ آباد) کے نعرے لگا رہے تھے ۔

ہم جیپوں سے اترے تو ہمارا استقبال تالیوں سے ہوا ۔ یہ سب وہ لوگ تھے جنکا اس شادی سے کوٸی تعلق نہ تھا بس پاکستانیوں کو خراج تحسین کیلٸے جمع ہوٸے تھے ۔ میں بلڈنگ کے اندر پہنچ کر دلہن بنی لیلیٰ کے قریب گیا اور آہستہ سے کہا کہ دیکھ لو بگ برادر نے خاکی وردی بھی پہنی ھے اور باہر دلہا دلہن کے استقبال کیلیے پاکستانی بینڈ بھی بج رہا ہے ۔آج رونا نہیں ہے ورنہ خیر نہیں تمہاری ۔

دعوت کی جگہ اس بلڈنگ سے صرف دو فرلانگ دور تھی ۔ نکاح کے رجسٹر پر دستخط ہوچکے تو ہم سب مبارک باد دیتے نٸے شادی شدہ جوڑے کے ساتھ باہر نکلے ۔ دلہا دلہن کی کار کے آگے پیچھے ہماری فوجی جیپیں تھیں اور سب سے آگے فوجی بینڈ چل رہا تھا ۔ رات کے وقت بھی جنگ سے لٹے پٹے افسردہ چہروں پر خوشیاں واضح نظر آرہی تھیں ۔ ہم نے یہ دو فرلانگ کا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا ۔ پورا بازار روشن تھا دلہن کے قافلے کے علاوہ تمام ٹریفک رک چکی تھی ۔ لوگ دوکانوں اور ہوٹلوں سے باہر نکل کر تالیاں بجا رہے تھے اور جگہ جگہ گاڑیوں پر پھول پھینکے جارہے تھے ۔ بلند و بالا عمارتوں کی بالکونیوں سے پاکستان دوبھرو ۔ پاکستان دوبھرو کی آوازیں ہمیں حیران کر رہی تھیں ۔

دعوت کی جگہ جاکر رکے ۔ میں جیپ سے اتر کر سب کے ساتھ دولہا دلہن کے ہال میں داخل ہونے کا انتظار کر رہا تھا تو میرے ہاسپیٹل میں کام کرنے والی تین چار لڑکیوں نے آ گھیرا ۔ آنکھوں میں آنسو لٸے سب نے یک زبان کہا تھینک یو بگ برادر ۔ میں نے ہنستے ہوٸے پوچھا کہ اب کیا ہوا رونا کس بات کا ہے ۔ کہنے لگیں سر لیلیٰ جیسی ہماری قسمت کہاں ۔ جب ہماری شادیاں ہونگی تو نہ کوٸی خاکی وردی والا بگ برادر ہوگا اور نہ یہ دھنیں بجیں گی ۔ یہ سب سوچ کر روٸیں نہ تو کیا کریں ۔ اب میں انکو کیسے سمجھاتا کہ لیلیٰ تو شہید کی بیٹی اور بہن ہے اور ہم خاکی وردی والے اپنے شہیدوں کی بیٹیوں کو اسی طرح عزت دیتے ہیں ۔ یقین نہ آٸے تو پاکستان آکر دیکھ لینا ۔

International Day of Reflection and Commemoration of Victims of Srebrenica Genocide & Movie Screening in Islamabad

ہم دلہا دلہن کے ساتھ ہال میں داخل ہوٸے ۔ میجر سرفراز جنجوعہ اور کیپٹن لطیف خٹک نے بہت خوبصورتی سے ہال میں ایک ہی لمبی ٹیبل پر 100 لوگوں کے بیٹھنے کا بندوبست کیا تھا ۔ ایک طرف نٸے جوڑے اور دلہا کے خاندان اور دوست احباب کو بٹھایا ۔ میز کی دوسری طرف لیلیٰ کی ماں کے ساتھ انکے کچھ رشتے دار ۔ ہمارے ہاسپیٹل میں کام کرنے والی بوسنین لڑکیاں اور ہم پاک آرمی کے آفیسرز دلہن کا میکہ بن کر بیٹھ گٸے ۔ مجھے لیلیٰ بار بار اشارے سے ٹیبل کی دوسری طرف بلاتی اور اپنے نٸے آنے والے دوستوں اور سسرالیوں سے ایسے فخر سے ماٸی بگ برادر کہہ کر تعارف کرواتی جیسے اس کا شہید بھاٸی قبر سے اٹھ کر اسے رخصت کرنے آ گیا ہو۔

باہر بینڈ کی دھن تیز ہوٸی تو میرا اردلی بھاگتا ہوا اندر آیا اور اطلاع دی کہ کرنل سید قاسم عباس بھی پہنچ گٸے ہیں ۔ میں نے باہر جاکر انکا استقبال کیا اور ہال تک رہنماٸی کی ۔ فوجی زندگی میں اچھے کمانڈر کے زیر سایہ نوکری کرنا ہمیشہ خوش قسمتی سمجھا جاتا ہے ۔ کمانڈر ایس ایس جی کا تربیت یافتہ جنگجو افسر ہو مگر آپکے لٸے شفقت کا مینار ۔ آپ پردیس میں جنگی محاذ پر ہوں مگر آپکو گھر جیسا ماحول مہیا رہے ۔ اس تصور کو آپ نے سچ ہوتے دیکھنا ہو تو آپکو کرنل سید قاسم عباس کے ساتھ بوسنیا میں نوکری کرنی چاہیے تھی ۔

مجھے ان سے ملے 41 سال گزر گٸے ہیں مگر انکا اپنے اسٹاف آفیسرز کے ساتھ ہال میں داخل ہونا ۔ بوسنین جوڑے کو پھول اور پاکستانی شال دیکر دعاٸی کلمات کہنا اور بوسنین قوم کے لٸے نیک خواہشات کا اظہار کرنے کا طلسماتی انداز آج بھی کل کی بات لگتی ہے ۔ انکی انگریزی میں کی گٸی باتیں شاید ہال میں موجود تمام بوسنین مہمانوں کی سمجھ میں نہ آٸی ہوں مگر انکے پراثر جادوٸی انداز کی وجہ سے سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں ۔ آنکھوں میں آنسو اور چہروں پر شکرانے کے تاثرات صاف دکھاٸی دے رہے تھے ۔ اصل میں خاکی وردی والے پاکستانی کمانڈر ایسے ہی ہوتے تھے ۔ پبلک میں آٸے ۔ چند الفاظ بولے ۔ لوگوں کے دل جیتے اور آگے نکل گٸے ۔

اب مجھے ریٹاٸر ہوٸے 15 سال ہوگٸے ہیں ۔ نہیں پتہ اب ہماری قوم کی ماٸیں ایسے بیٹے پال پوس کر خاکی وردی پہننے کو قوم کے حوالے کیوں نہیں کر رہیں ۔ سب کچھ بدلا دیکھ کر رونا آتا ہے اور میرا تو کچھ بس بھی نہیں چلتا ۔

بوسنیا کے لوگ پچھلے چار پانچ سالوں سے ہنسنا مسکرانا بھول گٸے تھے ۔ ہم بھی 6 مہینوں سے انکےخوبصورت چہروں پر صرف افسردگی دیکھ رہے تھے ۔ بازاروں سے گزرتے تو جنگی اثرات کے تحت تباہ شدہ بلند وبالا عمارتوں کو دیکھ کر لگتا کہ وہ اپنے جواں سال بیٹوں کی لاشوں اور معصوم بچیوں کی عزتوں کی پامالی پر بین کر رہی ہیں ۔ میں آج بھی اکیلا بیٹھ کر اس چھوٹی سی تقریب کے بارے میں سوچ کر خوش ہوتا رہتا ہوں کہ کیسے میں نے خاکی وردی پہن کر اور 18 پنجاب رجمنٹ کے بینڈ نے پاکستانی دھنیں بجا کر دعوت والے ہال تو کیا باہر سڑک پر گزرتے ہوٸے لوگوں کو بھی خوشی سے جھومنے اور ایک دوسرے کو گلے لگا کر اپنے غموں اور دکھوں سے باہر نکلنے کا موقع فراہم کر دیا تھا ۔ اس وقت میں فوجی آفیسر ہونے کے ناطے اپنے جذبات پر بہت قابو پاتا رہا مگر پھر بھی کوٸی نیا مہمان آ کر میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بغیر کسی تمہید کے “تھینک یو” کہتا تو میں دوسری طرف مونہہ کرکے ٹشو سے اپنی آنکھیں صاف کرنے پر مجبور ہو جاتا تھا ۔

سوچتا ہوں یہ کیسی شادی تھی جس میں ہر شخص آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لٸے دلہا دلہن کو مبارکباد دے رہا تھا ۔ مجھے نہیں معلوم اس دعوت میں کس نے کیا کھایا تھا یا میرے ساتھی آفیسرز نے مہمانوں کی کیسے مہمان نوازی کی ہو گی مگر آنے والا ہر شخص حیران تھا کہ یہ خاکی وردی والے کیسے پیس کیپرز ہیں جو ہماری بیٹی کو اپنی بیٹی کی طرح رخصت کر رہے ہیں ۔

رات کے 9 بج رہے تھے ۔ باہر گاڑیاں فوجی طریقے سے قطار میں لگ چکی تھیں ۔ بینڈ پر پاکستانی دھنیں بج رہی تھیں اور ہم دلہا دلہن کو لے کر باہر نکل آٸے ۔ لیلیٰ اپنے دلہا المیر کا ہاتھ پکڑے مجھے تشکر بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی مگر میں اسے بڑے بھاٸی کی رعب دار آنکھیں دکھا رہا تھا کہ خبردار جو کوٸی رونے والا سین بنایا ۔ وہ میرے ڈر سے مسلسل مسکراتی رہی مگر آنکھوں سے گرتے آنسو اسکا میک اپ بھی خراب کرتے رہے ۔ کار میں بٹھانے کے لٸے میں نے دروازہ کھولا تو کہنے لگی

‏Big Bro I believe Shaheeds never die. Today I felt my father and brother are alive. Thank you for being my big brother and thank you Pak Army

دلہا دلہن کی کار روانہ ہوٸی تو ہم پاک فیلڈ ہاسپیٹل کے آفیسرز اور ہمارے ساتھ کام کرنے والی تمام بوسنین لڑکیاں بہت دیر تک اکٹھے کھڑے رہے ۔ دلہن کی روانگی کے بعد کوٸی کسی سے بات ہی نہ کر رہا تھا ۔ ہال کے باہر کم روشنی نے سب ہی کے چہروں پر خوشی یا غم کے تاثرات کو مکمل چھپا رکھا تھا ۔ میں نے بلاوجہ تالی بجانی شروع کردی اور پھر ہر طرف روڈ پر بھی پوری طاقت سے تالیاں بج رہی تھیں ۔

موقع غنیمت جان کر میں نے بوسنین مہمانوں کو ہاتھ ہلا کر خدا حافظ کہا اور اپنے آفیسرز کو جیپوں میں بیٹھنے کا اشارہ کرکے وسچا کیمپ کی طرف چل نکلا ۔

” BOSNIA & HERZEGOVIA IS GATEWAY FOR PAKISTAN TO EUROPE ” Ambassador Emin Cohodarevic Looks Forward to Strengthen Bilateral Cooperation in All Sectors

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here