نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ایوارڈز! ادیبوں کی سلیکشن کا طریقہ کار کیا تھا !جڑواں شہروں کے لکھاریوں کےتحفظات

0
640

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) نیشنل بک فاؤنڈیشن نے گزشتہ ہفتے وزیر اور ارکان پارلیمنٹ کی موجودگی میں منتخب ادیبوں میں ایوارڈز تقسیم کیے لیکن ادارے نے پریس کو یہ نہیں بتایا کہ ایوارڈز کے لیے ادیبوں کی سلیکشن کا طریقہ کار کیا تھا اور سلیکشن کمیٹی کے ممبران کون تھے۔ یا یہ صرف تنظیم کے اندر انتظامیہ کے ذریعہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔ جڑواں شہروں کے کچھ لکھاریوں نے انتخاب کے عمل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گورنمنٹ آف پاکستان کے تمام ادبی شعبوں بشمول نیشنل بک فاؤنڈیشن، اکیڈمی آف لیٹرز، اردو پروموشن بورڈ اور دیگر میں ایوارڈز اور دیگر انتخاب کے لیے تقریباً ایک ہی چہرے نظر آتے ہیں۔

 نیشنل بُک فاؤنڈیشن وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے زیرِ اہتمام نیشنل بک فاؤنڈیشن کے لیے کتب لکھنے والے مصنفین اور ادیبوں کی خدمات کے اعتراف میں تقسیم ایوارڈ اور اعترافی سرٹیفکیٹ کی تقریب کا انعقاد اسلام آباد کلب میں کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی تھے ۔

مہمانانِ اعزاز محترمہ وجیہہ قمر وزیر مملکت وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت،محترمہ فرح ناز اکبر پارلیمانی سیکرٹری،حسن ثقلین ایڈیشنل وفاقی سیکرٹری وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت تھے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا کے موجودہ دور میں کتاب کلچر کو فروغ دینا اور لوگوں کو کتاب سے منسلک کرنا ایک بہت اہم اور مشکل کام ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ یہ کام ہماری وزارت نیشنل بک فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ہو رہا ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن ایسی علمی ادبی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جس سے لوگوں کو کتاب کی طرف مائل رکھا جا رہا ہے اور خصوصی طور پر نئی نسل کو کتاب کے قریب کرنے کی اشد ضرورت ہے اس مقصد کے نئے جدید نظریات اور فکری منصوبے دینے کی ضرورت ہے ۔

دنیا بہت تیزی سے ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے ، ہم بہت پیچھے ہیں ہمیں اپنے کام کی رفتار کو بہت آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ آنے والے تیس برسوں میں وقت ایسا بدل جائے گا کہ ہم تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ جدید دور کے ساتھ چلنا اور مستقبل میں دنیاکے ساتھ رہنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے ادیبوں، شاعروں ، محققین اور سائنسدانوں کی خدمات کی اشد ضرورت ہے ۔

نیشنل بک فاؤنڈیشن یہ خدمات بہ خوبی سرانجام دے رہا ہے ۔ آج کی یہ تقریب ادیب کی حوصلہ افزائی ایک بڑا اقدام ہے ۔ اس سے نئی تحریک جنم لیتی ہے، نئے نظریات وقوع پذیر ہوتے ہیں اور نئی ایجادات ہوتی ہیں۔ایسے اقدام کرنا اور ملکی سطح پر فن اور فنکار کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے ۔

یہ سارے مصنفین ادیب اور دانشور اپنی اپنی فیلڈ میں ماہرین ہیں۔ میں ان سب کو مبارک باد دیتا ہوں۔ انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کی ایسی علمی اور ادبی سرگرمیوں کو سراہا اور خوشی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ادیبوں ، شاعروں اور مصنفین کو ایوارڈ دئیے۔

اس موقع پر محترمہ وجیہہ قمر وزیر مملکت،محترمہ فرح ناز اکبر پارلیمانی سیکرٹری، وفاقی سیکرٹری ندیم محبوب اور ڈاکٹر کامران جہانگیر مینیجنگ ڈائریکٹر نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ایوارڈ اور اعزازی سرٹیفکیٹ تقسیم کیے۔

ڈاکٹر کامران جہانگیر نےمہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں خصوصی طور پر مہمانِ خصوصی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت محترمہ وجیہہ قمر اور پارلیمانی سیکرٹری فرح نازکا شکرگزار ہوں ۔ ہماری ساری ادبی سرگرمیاں انہی کے تعاون اور ذاتی دلچسپی کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس تقریب میں نیشنل بک فاؤنڈیشن کے سابقہ مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر انعام الحق جاوید، اور راؤ محمد اسلم نے شرکت کی ۔

جن شعراء اور ادیبوں کو ایوارڈ دیے گئے ، اُن میں ڈاکٹر مقصود جعفری، محبوب ظفر، ڈاکٹر نثار ترابی ، ڈاکٹر آصف محمود جاہ ، ابو احمد عاکف، جنرل محمد طاہر، کوکب خواجہ ، نعیم فاطمہ علوی ، ڈاکٹر امجد بھٹی ، عبدالواجد تبسم ، محمدعارف، محمد شعیب خان ، راج محمد آفریدی، ڈاکٹر سلیم اللہ، پروفیسر جاوید محسن اور دیگر شامل تھے ۔

اس تقریب میں وزارت تعلیم سے سید جنید اخلاق کے سینئر جوائنٹ سیکرٹری کے علاوہ علمی ادبی اداروں کے اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی ۔

Pakistan in the World – June 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here