وطن کا ایک عظیم بیٹا،میجرسیدمعیزعباس شاہ شہید

0
14


تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی

بعض شخصیات اپنی زندگی کے دنوں اور سالوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کردار، اپنے عزم، اپنی قربانی اور اپنے نظریے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتی ہیں۔ وہ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتی ہیں مگر ان کا نام، ان کی یادیں اور ان کی قربانیاں قوموں کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن جاتی ہیں۔ میجر سید معیز عباس شاہ شہید بھی انہی عظیم انسانوں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، استحکام اور دفاع کے لیے وقف کیا اور بالآخر اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے شہادت کے عظیم منصب پر فائز ہوئے۔

31 مئی سید معیز عباس شاہ شہید کی سالگرہ کا دن ہے۔ گزشتہ برسوں میں یہ دن ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے خوشی، محبت اور دعاؤں کا دن ہوا کرتا تھا، لیکن آج یہ دن ایک منفرد کیفیت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ آج وہ دنیا میں موجود نہیں ہیں، لیکن ایمان رکھنے والوں کے نزدیک شہداء کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنے رب کے حضور زندہ ہوتے ہیں اور رزق پاتے ہیں۔ اسی لیے آج ان کی پہلی سالگرہ جنت الفردوس میں منائی جا رہی ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے جو دنیا کے ہر انسان کے نصیب میں نہیں آتا۔

 میجر سید معیز عباس شاہ کا تعلق ضلع چکوال کی اس سرزمین سے تھا جس نے پاکستان کو بے شمار بہادر سپوت دیے ہیں۔ چکوال کی دھرتی ویسے بھی فوجی روایات، حب الوطنی اور قربانیوں کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ اسی سرزمین کے ایک عظیم فرزند نے 1988 میں آنکھ کھولی اور پھر اپنی پوری زندگی پاکستان کے دفاع کے لیے وقف کر دی۔ بچپن سے جوانی تک اور جوانی سے شہادت تک ان کا سفر فرض شناسی، محنت، دیانت اور قومی خدمت سے عبارت رہا۔

پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد میجر معیز عباس شاہ نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کو ہمیشہ اولین ترجیح دی۔ وہ ان افسران میں شامل تھے جو صرف حکم دینے پر یقین نہیں رکھتے بلکہ اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر قیادت کا حق ادا کرتے ہیں۔ ان کے ساتھی افسران اور ماتحت جوان انہیں ایک بہادر، باوقار، نرم گفتار اور انتہائی پیشہ ور سپاہی کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں جرات اور انکساری کا ایسا حسین امتزاج موجود تھا جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ رہا ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج نے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔ ہزاروں فوجی جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس وطن کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ میجر معیز عباس شاہ بھی اسی روشن قافلے کے ایک درخشاں ستارے تھے۔24 جون 2025 کو جنوبی وزیرستان کے علاقے سرا روغہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ایک آپریشن کا آغاز کیا۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا اور علاقے میں امن کو یقینی بنانا تھا۔ اس کارروائی کی قیادت میجر سید معیز عباس شاہ کر رہے تھے۔ میدانِ جنگ میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت، قائدانہ صلاحیتوں اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کیا۔ دشمن کے ساتھ شدید جھڑپ کے دوران انہوں نے اپنے ساتھیوں کی رہنمائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا۔

   آپریشن کامیاب رہا اور متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے، لیکن وطن کے اس عظیم بیٹے نے اپنے فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کر لیا۔ ان کے ساتھ لانس نائیک جبران اللہ نے بھی شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا۔ یوں پاکستان کی سرزمین ایک اور عظیم قربانی کی امین بن گئی۔شہادت دراصل موت نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ عام انسان اپنی زندگی اپنے لیے جیتا ہے، جبکہ شہید اپنی زندگی دوسروں کے لیے قربان کرتا ہے۔ اسی لیے قومیں اپنے شہداء کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔ میجر معیز عباس شاہ کی شہادت بھی محض ایک فرد کی جدائی نہیں بلکہ ایک ایسے چراغ کا روشن ہونا ہے جس کی روشنی نسلوں تک راہنمائی کرتی رہے گی۔میجر معیز عباس شاہ کے بارے میں مختلف ذرائع یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ 2019 میں بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ابھینندن ورتھمان کی گرفتاری سے متعلق کارروائیوں میں بھی ان کا کردار اہمیت کا حامل رہا۔ اگرچہ تاریخ ان واقعات کی تفصیلات کو اپنے انداز میں محفوظ کرتی ہے، لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ میجر معیز عباس شاہ ان افسران میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان کی عسکری تاریخ میں اپنے کردار اور خدمات کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

  ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حب الوطنی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عملی ذمہ داری ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا صرف الفاظ ادا کرنا نہیں بلکہ وقت آنے پر قربانی دینا بھی ہے۔ میجر معیز عباس شاہ نے اپنی پوری زندگی سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان ان کے لیے محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایمان، شناخت اور وقار کا نام تھا۔شہید کی سالگرہ کے موقع پر انہیں یاد کر رہے ہیں تو ذہن میں ایک سوال ابھرتا ہے کہ آخر ایسی کون سی قوت ہوتی ہے جو ایک انسان کو اپنی جان قربان کرنے پر آمادہ کرتی ہے؟ اس کا جواب صرف ایک لفظ میں موجود ہے: ”عقیدہ”۔ وہ عقیدہ جو انسان کو اپنی ذات سے بلند کر دیتا ہے۔ وہ عقیدہ جو قوم، وطن اور نظریے کے لیے ہر قربانی کو آسان بنا دیتا ہے۔شہداء کے اہلِ خانہ بھی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ ایک ماں جو اپنے بیٹے کو وطن کے سپرد کرتی ہے، ایک باپ جو اپنے بیٹے کی شہادت پر سر فخر سے بلند رکھتا ہے، ایک بیوی جو اپنے شریکِ حیات کی جدائی کا صدمہ برداشت کرتی ہے اور وہ بچے جو اپنے والد کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں، دراصل وہ بھی اس قربانی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ قوم پر لازم ہے کہ وہ ایسے خاندانوں کے احسانات کو ہمیشہ یاد رکھے۔

 میجر معیز عباس شاہ کی نماز جنازہ چکلالہ گیریژن راولپنڈی میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔ اعلیٰ عسکری و سول قیادت نے ان کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بعد ازاں انہیں ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی مگر ہر دل فخر سے معمور تھا۔ کیونکہ یہ جدائی اگرچہ دردناک تھی مگر اس کے ساتھ شہادت کا وہ عظیم اعزاز بھی وابستہ تھا جو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو عطا فرماتا ہے۔بعد ازاں ان کی شجاعت، جرات اور قومی خدمات کے اعتراف میں انہیں تمغ? بسالت سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کو نہیں ملا بلکہ اس نظریے کو ملا جس کے لیے انہوں نے اپنی جان قربان کی۔ یہ اعزاز ان تمام شہداء کے نام بھی ہے جنہوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا۔

  پاکستان کی تاریخ دراصل قربانیوں کی تاریخ ہے۔ یہ ملک لاکھوں جانوں کی قربانی کے بعد وجود میں آیا اور اس کی بقا بھی انہی قربانیوں کی مرہونِ منت ہے جو ہمارے شہداء مسلسل پیش کرتے آ رہے ہیں۔ جب بھی دشمن نے اس وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، ہمارے بہادر سپوت سیسہ پلائی دیوار بن کر سامنے کھڑے ہو گئے۔ میجر معیز عباس شاہ انہی محافظوں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی جان دے کر قوم کے مستقبل کو محفوظ بنایا۔ ہم ان کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہیں، ان کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، ان کے کردار کو سلام پیش کرتے ہیں اور ان کے اس عزم کو سلام پیش کرتے ہیں جس نے انہیں شہادت جیسے عظیم مقام تک پہنچایا۔

ان کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام ہے کہ کامیابی صرف ذاتی مفادات کے حصول کا نام نہیں بلکہ اپنے وطن، اپنی قوم اور اپنے نظریے کے لیے کچھ کر گزرنے کا نام ہے۔ اگر قوموں کے نوجوان اپنے شہداء کے کردار کو مشعلِ راہ بنا لیں تو کوئی طاقت انہیں ترقی اور کامیابی کے سفر سے نہیں روک سکتی۔
یہاں شہیدکاتذکرہ درحقیقت یہ صرف ایک فرد کا ذکر نہیں بلکہ پاکستان کے ان تمام شہداء کو خراجِ عقیدت ہے جنہوں نے اپنے خون سے اس دھرتی کی آبیاری کی۔ ان کے لہو کی خوشبو آج بھی اس سرزمین کے ذرے ذرے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

   میجر سید معیز عباس شاہ شہید! آپ دنیا کی نظروں سے اوجھل ضرور ہو گئے ہیں لیکن قوم کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ آپ کی مسکراہٹ، آپ کا عزم، آپ کی جرات اور آپ کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ پاکستان کے پرچم کی سربلندی میں آپ کا خون شامل ہے اور جب تک یہ سبز ہلالی پرچم فضا میں لہراتا رہے گا، آپ جیسے شہداء کی یادیں بھی زندہ رہیں گی۔

 جنت الفردوس میں آپ کی پہلی سالگرہ مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ آپ کے درجات مزید بلند فرمائے، آپ کی قربان کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں بھی اپنے وطن سے ایسی ہی سچی محبت اور وفاداری  نصیب فرمائے۔آپ قوم کا فخر تھے، قوم کا فخر ہیں اور قوم کا فخر ہمیشہ رہیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here