وارچہ راک سالٹ کان کا تنازع: 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں، پی ایم ڈی سی یونینز کا انتباہ

0
19

اسلام آباد: سرکاری ادارے پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کی نمائندہ تنظیم (سی بی اے) نے خبردار کیا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے وارچہ راک سالٹ کان کی لیز منسوخ کیے جانے سے مجوزہ 20 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہے، جبکہ ہزاروں ملازمین کی ملازمتیں اور ملک کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ر

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان سی بی اے یونینز آف پی ایم ڈی سی کے سیکریٹری جنرل حاجی رائے مظہر اقبال کھرل نے کہا کہ وارچہ کان کی لیز قانون کے مطابق تجدید کی جا چکی تھی اور مارچ 2032 تک مؤثر ہے، تاہم حکومت پنجاب نے اسے منسوخ کرکے اسی معدنی علاقے کی لیز ایک پرائیویٹ کمپنی سیفائر کیمیکلز کو 10 سال کے لیے نیلام کی گئی ہے جن سے ماہانہ پنجاب حکومت کو 1 کروڑ 50 لاکھ روپے ملنے ہیں جبکہ 10 سالوں میں ٹوٹل 2 ارب 58 کروڑ ملنے ہیں جبکہ پی ایم ڈی سی یہ رقم 2 سے 3 سالوں میں دے سکتا ہے

رائے مظہر اقبال کھرل نے کہا کہ سیفائر کیمیکلز کے پاس راک سالٹ کی کان کنی کا وہ تجربہ موجود نہیں جو پی ایم ڈی سی کو معدنیات کی تلاش، کان کنی، پروسیسنگ اور وسائل کے انتظام میں کئی دہائیوں سے حاصل ہے۔

رائے مظہر اقبال کھرل کے مطابق مجوزہ 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کے تحت راک سالٹ کی پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے جدید منصوبے قائم کیے جانے تھے، جن سے جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوتی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے، برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوتا اور پاکستان عالمی منڈی میں پروسیس شدہ راک سالٹ کی تجارت میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر سکتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اس وقت لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس تنازع کے باعث پاکستان میں ویلیو ایڈڈ معدنی مصنوعات کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کے لیے قانونی طور پر دی گئی مائننگ لیز کے تسلسل پر سوالات کھڑے ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر وارچہ یونین کے رہنما میاں آفتاب الحسن نے بھی خبردار کیا کہ لیز کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال مستقبل میں معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی سی کئی دہائیوں سے وارچہ کان کو پاکستان کے ایک اہم معدنی اثاثے کے طور پر چلا رہی ہے، جس کے ذریعے پنجاب کو خاطر خواہ آمدن حاصل ہوئی، کان کنی کا بنیادی ڈھانچہ ترقی پایا اور راک سالٹ کی بڑے پیمانے پر کان کنی میں مہارت بھی فروغ پائی۔

سی بی اے یونینز بشمول سی بی اے ہیڈ آفس کے صدر صفدر مرتضی، مرزا عمران مرزا ضمیر حیدر جنرل سیکرٹری وڑچھہ آلہ بخش سنگھا سرپرست اعلی میاں آفتابِ الحسن جنرل سیکرٹری کالاباغ عطا رسول صدر عمران اور بلوچستان کی تمام یونین سیوریج ڈیکاڑی شارگ یونین کے صدر اور جنرل سیکرٹری برانچ آفس کوہٹہ کے محمد اسحاق اور بخت نواب کے عہدیداروں نے لاہور ہائی کورٹ میں پی ایم ڈی سی کی قانونی درخواست کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی حکومت، پنجاب حکومت، چیف جسٹس اور ارمی چیف سے مطالبہ کیا کہ ملازمین کے روزگار، معاہدوں کے تحفظ اور قومی معدنی وسائل کے مفادات کو یقینی بنایا جائے تاکہ معدنی شعبے میں سرمایہ کاری اور طویل المدتی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔

واضح رہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پی ایم ڈی سی کی وارچہ کان کی لیز منسوخ کرنے اور بعد ازاں اسی علاقے کی لیز نجی کمپنی کو نیلام کیے جانے کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ پی ایم ڈی سی نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی لیز مارچ 2032 تک مؤثر ہے، جبکہ اس تنازع کے باعث ادارے کے مجوزہ پروسیسنگ منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here