اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اٹلی کے شہر میلان میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان دعوؤں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں اطالوی شہریوں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے نوے کی دہائی میں جنگ کے دوران ’سنائپر سفاری‘ کے لیے بوسنیا ہرزیگووینا کا سفر کیا۔ اطالوی شہریوں اور بعض دیگر پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے محاصرہ زدہ شہر سارایوو میں شہریوں پر گولی چلانے کے لیے بڑی رقم ادا کی۔
30 سال پہلے 8000 بوسنیائی مسلمانوں کو کیسے قتل کیا گیا؟