بنگلہ دیش میں سیاستدان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل پر حاضر سروس بریگیڈیئر گرفتار

0
21

سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، سابق پولیس چیف اور فوجی افسران سمیت 11 افراد مقدمے میں نامزد

ڈھاکہ(صباح نیوز) بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دور حکومت میں ہونے والے ایک ہائی پروفائل مبینہ ماورائے عدالت قتل کے مقدمے میں حاضر سروس بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد کو گرفتار کر کے فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

بنگلہ دیشی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بھی بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے فوجی تحویل میں رکھا گیا ہے۔

یہ مقدمہ 2018 میں حسینہ واجد حکومت کی جانب سے شروع کی گئی متنازع انسداد منشیات مہم کے دوران کاکس بازار کے مقامی سیاستدان اور کونسلر اکرم الحق کی ہلاکت سے متعلق ہے۔

اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ اکرم الحق منشیات کا بڑا سرغنہ تھا اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ تاہم ان کی اہلیہ عائشہ اختر کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی ایک آڈیو ریکارڈنگ نے اس سرکاری مؤقف پر سوالات اٹھا دیے تھے۔

آڈیو میں اکرم الحق کو ہلاکت سے چند لمحے قبل اپنی اہلیہ اور بیٹی سے فون پر بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ گفتگو کے دوران فائرنگ کی آوازیں آتی ہیں اور اس کے بعد فون منقطع ہو جاتا ہے۔

ریکارڈنگ سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش میں شدید ردعمل سامنے آیا اور سکیورٹی فورسز پر جعلی مقابلوں کے ذریعے شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔

اب بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے اکرم الحق کی ہلاکت سے متعلق شکایت منظور کرتے ہوئے مقدمے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ کیس میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، ایک سابق پولیس چیف، بریگیڈیئر جنرل مفتاح الدین احمد سمیت چھ حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران سمیت مجموعی طور پر 11 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 2018 کی انسداد منشیات مہم کے دوران سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 466 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ان میں سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے جعلی مقابلوں کا نتیجہ تھیں۔

مہم کے دوران مبینہ ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے الزامات کے باعث امریکہ نے 2021 میں بنگلہ دیش کی ایلیٹ فورس ریپڈ ایکشن بٹالین اور اس کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

بنگلہ دیش میں اسے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ ماضی کے مبینہ جعلی مقابلوں کے مقدمے میں فوج کے ایک سینئر حاضر سروس افسر کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here