پاکستان  نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی میں  اصلاحات 

0
314

ثاقب مشتاق: اسلام آباد

گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان کا ڈیجیٹل منظرنامہ تیزی سے بدل گیا ہے۔ یہ محض اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم نہیں رہا بلکہ طاقت، اثر و رسوخ اور بعض اوقات خوف کا ذریعہ بھی بن گیا ہے۔ سوشل میڈیا، جو کبھی شہری شمولیت اور جمہوری اظہار کے لیے ایک اہم ذریعہ تھا، اب کردار کشی، مالی فراڈ، آن لائن ہراسانی اور جعلی خبریں پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ یہ مسائل پاکستان تک محدود نہیں؛ دنیا بھر میں آن لائن جرائم میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ عالمی بینک کی رپورٹس کے مطابق، ہر سال تقریباً چھ ارب ڈالر کا نقصان آن لائن فراڈ اور شناختی چوری کے باعث ہوتا ہے۔ شمالی امریکہ، یورپ اور ایشیا کے ممالک نے بھی سائبر کرائم کے تیز رفتار بڑھاؤ پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔

پاکستان میں شہریوں کے ڈیجیٹل حقوق کی حفاظت کی بنیادی ذمہ داری نیشنل سائبر کرائم انوسٹیگیشن ایجنسی (NCCIA) پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم، عوام کا اعتماد اس ادارے میں ہمیشہ کمزور رہا ہے۔ ماضی میں بدانتظامی، کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات نے ایجنسی کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ متاثرین اکثر رپورٹ کرتے تھے کہ شکایت درج کرنے کے لیے ذاتی تعلقات، سفارش یا رشوت درکار ہوتی تھی۔ آن لائن ہراسانی یا بلیک میلنگ کے شکار خواتین کو انصاف تلاش کرنے میں کئی مرتبہ ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مالی فراڈ کے متاثرین بھی طویل اور پیچیدہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرتے تھے۔

یہ رجحانات عالمی سطح پر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 2023 میں یورپ میں تقریباً 60 فیصد نوجوان آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے، جبکہ امریکہ میں ہر پانچواں شخص آن لائن فراڈ یا شناختی چوری سے متاثر ہوا۔ پاکستان میں قانونی اور تکنیکی مدد کی کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا۔ سوشل میڈیا، یوں کہا جائے تو، ایک “بے لگام گھوڑا” بن چکا تھا طاقتور، غیر متوقع اور اخلاقیات یا قانون کے خوف سے آزاد۔

ایسے میں NCCIA میں حالیہ قیادت کی تبدیلی ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس سید خرم علی کی بطور ڈائریکٹر جنرل تعیناتی، صرف انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ ادارے کی سمت بدلنے کی ایک کوشش ہے۔ پولیس سروس آف پاکستان میں تجربہ کار اور دیانتدار افسر کی شہرت رکھنے والے سید خرم علی، ایک ایسے وقت میں ایجنسی کی قیادت سنبھالے، جب ادارے کو پیشہ ورانہ معیار، شفافیت اور عوامی اعتماد کی شدید ضرورت تھی۔

Foreign Secretary Inaugurates Cyber Capacity-Building and Policy Training in Islamabad

عہدہ سنبھالتے ہی سید خرم علی نے ایجنسی کے اندرونی نظام اور عمل کا جامع جائزہ لیا۔ ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف سائبر جرائم نہیں بلکہ اندرونی بدعنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات کا سامنا کرنے والے اہلکار تھے۔ ذرائع کے مطابق، ایسے افسران جن پر کرپشن یا غیر قانونی کارروائی کے الزامات تھے، انہیں یا تو حساس ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا یا ان کے اصل محکموں میں واپس بھیج دیا گیا۔ اس میں وہ افسران بھی شامل تھے جو فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی (FIA) سے ڈیپوٹیشن پر آئے تھے۔

یہ اقدامات صرف ذاتی نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھے بلکہ ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کو بحال کرنے کے لیے کیے گئے۔ نتیجتاً، NCCIA میں خواتین متاثرین کے لیے ماحول بہتر ہوا ہے۔ آن لائن بلیک میلنگ، جعلی ویڈیوز، ہراسانی اور شناختی چوری کے کیسز میں خواتین اب زیادہ اعتماد کے ساتھ ایجنسی سے رجوع کر رہی ہیں۔

لاہور کی ایک متاثرہ خاتون کہتی ہیں کہ پہلے ہمیں شکایت درج کروانے میں خوف محسوس ہوتا تھا، کہیں ہمیں ہی مورد الزام نہ ٹھہرا دیا جائے۔ اب ماحول بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے اور ہماری بات توجہ سے سنی جاتی ہے۔

ایجنسی کی جانب سے خواتین شکایت کنندگان کے لیے خصوصی طریقۂ کار، رازداری اور تیز تر کارروائی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے عالمی پس منظر میں بھی اہم اثرات ہیں، کیونکہ محفوظ شکایتی ماحول جرم کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

مالی فراڈ پاکستان میں ایک خاموش مگر تیز رفتار وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جعلی کالز، فشنگ لنکس اور آن لائن خرید و فروخت کے نام پر شہریوں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ NCCIA کی موجودہ قیادت نے فوری ردعمل کو ترجیح دی ہے اور متاثرین کو ہدایت دی ہے کہ وہ مکمل شواہد کے ساتھ قریبی دفاتر سے رجوع کریں۔

سید خرم علی نہ صرف تکنیکی مہارت رکھنے والے اہلکاروں کو ایجنسی میں شامل کر رہے ہیں بلکہ شفاف اور خودمختار ٹیم کی تشکیل پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ عالمی تجربہ بتاتا ہے کہ صرف تکنیکی مہارت کافی نہیں، بلکہ مؤثر اور آزاد ٹیم کے ذریعے ہی سائبر کرائم کا کامیاب مقابلہ ممکن ہے۔

ایجنسی کی سابق قیادت پر بھی حالیہ خبریں بن رہی ہیں کہ سابق ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے ڈی آئی جی سید وقار کو معطل کیا گیا ہے چار ماہ کے لیے اور ان پر کرپشن تقریباً دو ارب روپے سے زائد بینگلور وغیرہ کی خریداری اور اختیارات سے تجاوز کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا اور ہر فرد کو بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک الزامات ثابت نہ ہوں۔

CASS-PISA Joint Seminar: Cyber Security – Pakistan Vision 2047

ڈائریکٹر جنرل سید خرم علی کی قیادت میں ایجنسی میں شفاف احتساب اور اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ سب سے نمایاں تبدیلی خواتین متاثرین کے تجربات میں دیکھی جا رہی ہے۔ وہ اب زیادہ محفوظ اور باوقار ماحول میں اپنی شکایات درج کروا سکتی ہیں، جو ادارے کے اعتماد کو بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

NCCIA

ملک بھر میں اپنی ریجنل سطح پر موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور پولیس سروس آف پاکستان کے ایسے افسران کو شامل کر رہا ہے جن کی دیانتداری اور پیشہ ورانہ صلاحیت عالمی معیار کی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اصل امتحان اصلاحات کے تسلسل اور مستقل مزاجی کا ہوگا، کیونکہ سائبر جرائم کی نوعیت تیزی سے بدلتی رہتی ہے۔

پاکستان میں 75 ملین سے زائد لوگ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، اور زیادہ تر نوجوان موبائل ایپس، فیس بک، ٹک ٹاک اور واٹس ایپ پر سرگرم ہیں۔ آن لائن ہراسانی، مالی فراڈ اور جعلی خبریں روکنے کے لیے مؤثر قانون سازی، شفاف ادارہ جاتی عمل اور عوامی آگاہی ناگزیر ہیں۔

ڈیجیٹل ماہرین کہتے ہیں کہ یہ محض چند افسران کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں، بلکہ اصل کامیابی اس بات میں ہے کہ آیا نظام خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے اگر NCCIA شفافیت، احتساب اور غیر جانبداری پر قائم رہتی ہے تو یہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سائبر کرائم کی روک تھام میں ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔

موبائل فون ہر ہاتھ میں ہے اور ہر ہاتھ کے ساتھ طاقت بھی۔ یہ طاقت معاشرے کو جوڑ بھی سکتی ہے اور توڑ بھی۔ ایسے میں NCCIA کا کردار صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کا نہیں بلکہ ڈیجیٹل معاشرت کے نگہبان کا بھی ہے۔

سید خرم علی کی قیادت میں ادارہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر اصلاحاتی سمت برقرار رہی تو پاکستان میں سائبر کرائم کے خلاف NCCIA مستقبل میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔

ادارے کی خاموش مگر فیصلہ کن اصلاحات ایک اہم سبق دیتی ہیں کہ حقیقی تبدیلی اکثر شہ سرخیوں کے بغیر آتی ہے، اور اس کے لیے اصولی قیادت، شفافیت اور مستقل مزاجی ناگزیر ہے۔

Pakistan in the World – January 2026

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here