امریکی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) کا پاکستان سے انخلا – پاکستان کے اندرونی حالات یا کمپنیوں کے اندرونی مسائل اور ری اسٹرکچرنگ
2022 سے اب تک پاکستان سے کئی بڑی غیر ملکی کمپنیاں نکل چکی ہیں جن میں شیل پاکستان، ٹیلی نار پاکستان، مائیکروسافٹ، کریم، اوبر، ٹوٹل انرجیز (ٹوٹل پارکو)، فائزَر پاکستان، سانوفی، بایر، ایلی لِلی، لوٹے کیمیکل، ویاترس وغیرہ شامل ہیں
پچھلے تین سالوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں، جن میں ایلی لِلی، شیل، مائیکروسافٹ، اوبر اور یاماہا شامل ہیں
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)
روزنامہ ڈان نے آج اپنی اشاعت میں ایک جامع رپورٹ شائع کی ہے جس میں مشہور امریکی کمپنی پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) کے پاکستان سے اپنا کاروبار لپیٹنے کے اعلان کا تذکرہ اور تفصیل بیان کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پروکٹر اینڈ گیمبل پاکستان میں اپنی پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں بند کر رہی ہے تاہم کمپنی صارفین کو اپنی مصنوعات کی فراہمی جاری رکھے گی اور اس کے لیے مقامی طور پر تقسیم کار کمپنی (تھرڈ پارٹی ڈسٹری بیوٹرز) ڈھونڈی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ کمپنی کے عالمی ری اسٹرکچرنگ پروگرام کا حصہ ہے۔
کمپنی کے اعلان کے مطابق “جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہوتا، جو ممکنہ طور پر کئی ماہ لے سکتا ہے، پاکستان میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہے گا۔” کمپنی کے فیصلے سے متاثرہ ملازمین کو یا تو P&G کے بیرونِ ملک آپریشنز میں مواقع دیے جائیں گے یا پھر انہیں مقامی قوانین اور کمپنی کی پالیسیوں کے مطابق علیحدگی پیکجز کی پیشکش کی جائے گی۔ پاکستان میں P&G کے تحت کئی بڑے برانڈز آتے ہیں جن میں پیمپرز، ایریل، آلویز، سیف گارڈ، ہیڈ اینڈ شولڈرز، پینٹین، اولے اور وِکس شامل ہیں۔
دریں اثنا P&G کی ذیلی کمپنی جِلٹ پاکستان نے بھی اعلان کہا ہے کہ اپنی پیرنٹ کمپنی کے پاکستان میں کاروبار ختم کرنے کے فیصلے کے بعد جِلٹ پاکستان بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے ممکنہ ڈیلِسٹنگ پر غور کرے گی اور اس مقصد کے لیے جلد بورڈ میٹنگ بلائی جائے گی۔
پروکٹر اینڈ گیمبل پاکستان کے اس فیصلے مپر قدرتی طور پر پاکستان میں مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے ایک اور منفی اشارہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب بڑی عالمی کمپنیاں ملک چھوڑتی ہیں تو یہ پیغام جاتا ہے کہ پالیسیوں کی غیر یقینی، کرنسی کے خطرات اور ریگولیٹری مسائل مارکیٹ کی کشش پر حاوی ہو گئے ہیں۔
مثال کے طور پر انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (ICAP) کے سابق صدر اسد علی شاہ کے مطابق P&G کا پاکستان سے نکل جانا ’’سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے ایک اور خطرے کی گھنٹی‘‘ ہے۔ ان کے مطابق جب عالمی بڑی کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹنے لگیں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک میں پالیسی کی غیر یقینی صورتحال، کرنسی رسک اور ریگولیٹری مسائل نے مارکیٹ پوٹینشل پر سبقت حاصل کر لی ہے۔
دیکھا جائے تو2022 سے اب تک پاکستان سے کئی بڑی غیر ملکی کمپنیاں نکل چکی ہیں جن میں شیل پاکستان،ٹیلی نار پاکستان، مائیکروسافٹ، کریم، اوبر، ٹوٹل انرجیز (ٹوٹل پارکو)، فائزَر پاکستان، سانوفی، بایر، ایلی لِلی، لوٹے کیمیکل، ویاترس وغیرہ شامل ہیں۔
لیکن یہ تصویر حتمی نہیں ہے بلکہ یہ معاملات کے دیکھنے کا صرف ایک زاویہ ہے۔ڈان ہی میں آج ایک اور رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ہے “ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے کیوں جا رہی ہیں؟ ماہرین کی رائے”۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین سالوں میں کئی ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ چکی ہیں، جن میں ایلی لِلی، شیل، مائیکروسافٹ، اوبر اور یاماہا شامل ہیں۔
کیا یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کا معاشی ماحول ملٹی نیشنلز کے لیے غیر موزوں ہے یا اس کے دیگر اسباب ہیں؟ اخبار نے اس حوالے سے ماہرین کی رائے لی جن میں مشہور اکنامک جرنلسٹ اور تجزیہ نگار خُرم حسین کا کہنا تھا ان کمپنیوں کے انخلا کی اپنی وجوہات ہیں اوراس کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ ملک سے جانا ان کی اپنی ری اسٹرکچرنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے اپنی بات سمجھانے کے لیے شیل کی مثال دی کہ جس نے میکسیکو اور انڈونیشیا سمیت پاکستان میں ریٹیل فیول بزنس سے انخلا کیا ہے اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں بھی ریٹیل انرجی سے نکل رہی ہے۔‘خرم حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ شیل زیادہ منافع والے شعبوں جیسے ایل این جی پر توجہ مرکوز کرنے کی کوشش میں تھی اور پاکستان سے ان کا انخلا بھی اسی عالمی ری اسٹرکچرنگ کا حصہ تھا۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے سی ای او احسان ملک نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے ملٹی نیشنلز کمپنیوں کے انخلا کی متعدد وجوہات ہیں اور ان کی نوعیت ہر شعبے میں مختلف ہے۔انہوں نے کہا کہ دواسازی کے شعبے میں ایم این سیز قیمتوں میں تبدیلی کی منظوری میں تاخیر اور کچھ مقامی کمپنیوں کی ناقص پروموشنل پالیسیوں کی وجہ سے ملک چھوڑ دیتی ہیں، جبکہ شیل اور پی این جی جیسی کمپنیاں عالمی سطح پر ’کٹیگریز اور جغرافیوں‘ پر فوکس میں تبدیلی کے باعث نکلیں، دیگر وجوہات میں دانشورانہ املاک کے حقوق کے کمزور نفاذ کو بھی شامل کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنیاں اکثر ’سیکیورٹی صورتحال‘ کا بھی حوالہ دیتی ہیں، لیکن کم غیر ملکی افراد کے ساتھ مقامی انتظامیہ نے حالات سے نمٹنا سیکھ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ’یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ جانے کا مطلب ہمیشہ یہ نہیں ہوتا کہ مصنوعات اور برانڈز کی پیداوار بند کی جا رہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ’ڈسٹری بیوٹر ماڈل ان کی موجودگی برقرار رکھ سکتا ہے اور ایم این سیز اپنے برانڈز کو فروغ دینے کے لیے تھرڈ پارٹی مارکیٹ ریسرچ اور ایڈورٹائزنگ ایجنسیز پر انحصار کر سکتی ہیں۔‘
علاوہ ازیں ڈان کی رپورٹ میں سٹریٹجک تبدیلیوں کا بھی ذکر ہے، اے کے ڈی سیکیورٹیز کے ریسرچ ڈائریکٹر اویس اشرف کے مطابق’ہر ملک میں مینوفیکچرنگ سہولت قائم رکھنے کے بجائے کئی کمپنیاں اسٹریٹجک تبدیلی کے تحت اپنے آپریشنز کو علاقائی مراکز میں منتقل کر رہی ہیں تاکہ وہ اکانومیز آف اسکیل سے فائدہ اٹھا سکیں۔انہوں نے کہا کہ ’مقامی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی بڑھتی صلاحیت، زیادہ ہنر مند ورک فورس اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال‘ نے یہ سہولت دی ہے کہ ’فزیکل موجودگی کے بغیر بھی مصنوعات کی ہموار تقسیم ممکن ہو سکے۔‘
ڈان کی مندرجہ بالا رپورٹ کافی چشم کشا ہے۔جہاں تک پاکستان میں کاروبار کی فضا کا تعلق ہے تو حقیقت یہ ہے کہ ملک میں کاروبار جم رہا ہے، کاروباری فضا پہلے سے بہتر ہوئی ہے، بزنس سروے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں اور اس کا بڑا ثبوت پچھلے دو تین سالوں کے دوران پاکستان میں کئی نئے عالمی اداروں اور کمپنیوں کی سرمایہ کاری ہے
جن میں آرامکو، سام سنگ، بی وائے ڈی (چین – الیکٹرک گاڑیوں کی اسمبلی 2026 تک)، گن وور، ابوظہبی پورٹس گروپ، مشرق بینک (مزید سرمایہ کاری برائے توسیع)، رس سوفٹ – سائنرکون، مائنڈ ہائیو اے آئی، میڈ آئی کیو – رامسال وینچر، اینگرو – دیودار (جاز)، وافی پیٹرولیم، چیری آٹوموبائل، بیریک گولڈ، آئی ایف سی (سالانہ 2 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا عزم)، عالمی بینک(20 ارب ڈالر کا کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک)، ٹبا گروپ + این آر ایل (معدنیات)، امریکی دلچسپی (تیل، گیس، معدنیات)، ریلیشنل (یورپ – فِن ٹیک معاہدہ 2024)، آئس وارپ (چیک ریپبلک – ڈیٹا سینٹر/ریجنل آفس)، پرو ڈیوائس (عالمی ادارہ – 2025 میں انٹری)، این ڈبلیو ٹی این انک (یو اے ای – الیکٹرک کمرشل گاڑیاں)، چین – 1.5 ارب ڈالر کے مشترکہ منصوبے (زرعی، توانائی، صحت وغیرہ)، چین – 7 ارب ڈالر کے مختلف معاہدے (زراعت، آئی ٹی، معدنیات، صنعتی زون، سی پیک 2.0) جیسے بڑے ادارے اور ان کی سرمایہ کاری شامل ہیں۔
ان کمپنیوں کی پاکستان میں آمد یہ بتاتی ہے کہ پاکستان سے چاہے کچھ کمپنیاں اپنے حالات اور کاروباری مجبوریوں کے تحت ضرور باہر گئی ہیں لیکن انہی وجوہات کے باعث پاکستان میں نئی عالمی سرمایہ کاری اور شراکت داریاں تیزی سے سامنے آ رہی ہیں اور اصلاحات کے ساتھ معیشت میں استحکام، مالیات کی بہتری اور بیرونی شعبوں میں مضبوطی کے نتیجے میں پاکستان دوبارہ عالمی سرمایہ کاروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
جہاں تک پروکٹر اینڈ گیمبل (P&G) کی جانب سے پاکستان میں اپنے کاروباری آپریشنز کو سمیٹنے کی بات ہے تو اس حوالے سے کچھ سابق P&G اہلکاروں اور ماہرین کی آراء بھی قابل توجہ اور دلچسپی کی حامل ہیں۔
ایک سابق اعلیٰ اہلکار فیصل، جنہوں نے 2015 تک پاکستان میں P&G کا کاروبار چلایا، کہتے ہیں کہ پی اینڈ جی کا پاکستان سے انخلا بظاہر مکمل محسوس ہوتا ہے لیکن کمپنی کا اصل مسئلہ مقامی مارکیٹ شیئر کا ان کے ہاتھ سے نکل جانا تھا اور ایسا P&G کی اپنی پالیسیوں اور مارکیٹنگ کے فیصلوں کے نتیجے میں ہوا۔انہوں نے اس حوالے سے پیمپرز کی مثال دی کہ جو ماضی میں کمپنی کے کاروبار کا 25 فیصد تھا اور کمپنی کو مقامی مارکیٹ میں اس حوالے سے 80 فیصد مارکیٹ شیئر حاصل تھا لیکن اب اس کا تناسب سنگل ڈیجٹ میں رہ گیا ہے۔
دلچسپ طور پرP&G کے سابق عالمی سربراہ فلپ بووے جنہوں نے کمپنی میں 33 برس گزارے،نے بھی طویل لنکڈ اِن پوسٹ میں کمپنی کے پاکستان سے نکلنے کے فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کے مطابق پاکستان جیسے بڑے اور ابھرتے ہوئے ملک سے نکلنا کمپنی کی طویل مدتی حکمتِ عملی کے خلاف ہے اور مستقبل میں یہ فیصلہ نقصان دہ ثابت ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب حریف کمپنیاں جیسے یونی لیور اور ریکٹ بنکیزر ملک میں موجود رہیں۔ذیل میں ان کی طویل پوسٹ کا اردو ترجمہ پیش ہے۔
“یہ ہماری کمپنی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟! کیا ہم اب طویل المدتی سوچنا چھوڑ چکے ہیں؟
ہمیں برانڈز اور کاروبار تعمیر کرنے چاہییں، نہ کہ ملک چھوڑنے چاہییں۔ نائیجیریا، مشرقی افریقہ، بنگلہ دیش اور کل اعلان ہوا—اب پاکستان۔
میں یہ امید کر رہا تھا کہ مارکیٹنگ کے پس منظر سے آنے والے ایک سی ای او ابھرتی ہوئی منڈیوں کے لیے کوئی مختلف راستہ اختیار کریں گے۔ ترقی اور طویل المدتی حکمتِ عملی پر توجہ دیں گے، محض ہار مان کر نکل نہیں جائیں گے۔
اب پاکستان۔ 24 کروڑ کی آبادی۔ ایک دن یہ آج سے زیادہ خوشحال ملک ہوگا۔ لیکن ہم اُس وقت کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ ہمارے پاس ایک مضبوط مقامی تنظیم نہیں ہوگی… جسے بنانے میں برسوں لگتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک مضبوط کاروباری بنیاد نہیں ہوگی، چاہے چند برانڈز تک محدود ہو۔ ہماری حکومت کے ساتھ کوئی لابنگ ساکھ نہیں ہوگی کیونکہ ہم نے مشکل وقت میں ملک چھوڑ دیا، جبکہ یونیلور اور ریکٹ بینکائزر جیسے ادارے مشکل وقت میں بھی موجود رہے۔ حکومتیں یہ باتیں بھولتی نہیں۔
ہم نے 1990 کی دہائی کے وسط میں پاکستان میں کامیابی کا ہنر سیکھا تھا۔ میں جانتا ہوں کیونکہ میں خود وہاں تھا۔ میرے چار سالوں میں ہماری زیادہ تر پاکستانی ٹیم نے اوسطاً 30 فیصد سالانہ ترقی کی۔ ہم نے اپنے تمام برانڈز کا مارکیٹ شیئر بڑھایا۔ ہر ایک برانڈ منافع بخش بنا۔ ہم نے کئی برس تک یہ راستہ جاری رکھا اُن قیادتوں کے تحت جنہیں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کا تجربہ تھا۔ ہانس ڈوالے، فیصل سبزواری، ال راجوانی اور دوسرے۔
یقیناً اُس وقت ہم ابھی نسبتاً چھوٹے تھے۔ لیکن ہم ترقی کر رہے تھے، منافع کما رہے تھے اور کمپنی پر مالی بوجھ نہیں تھے۔ اور دیگر پی اینڈ جی سبسڈیریز خوشی سے پاکستانی ٹیم کے لوگوں کو اپنے ساتھ لے رہی تھیں۔
تو پھر کیا ہوا؟ ہماری کمپنی ضرورت سے زیادہ مالیات کے شکنجے میں آگئی۔ ہم مقامی صارف سے کٹ گئے۔ ٹیکس کی غرض سے مرکزیت، اخراجات میں ایسی کٹوتیاں جنہوں نے صرف غیر ضروری نہیں بلکہ ضروری حصہ بھی کاٹ دیا۔ براہ کرم میرا دو ماہ پہلے کا لنکڈاِن مضمون پڑھیں: “P&G in 2025: دنیا کے صارفین کی نہیں بلکہ وال اسٹریٹ کی خدمت میں۔”
یقیناً فیصلے لینا رہنماؤں اور سی ای اوز کی سب سے اہم ذمہ داری ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ کن ملکوں میں کاروبار کریں اور کن میں نہیں۔لیکن پاکستان سے نکلنے کا یہ فیصلہ غلط ہے۔
کاروبار اب ویسا نہیں رہا جیسا تھا۔ لیکن آج کے مسائل زیادہ تر خود ساختہ ہیں، جیسا کہ میرے 5 اگست کے مضمون میں واضح کیا گیا ہے۔ یونیلور اور دیگر ملٹی نیشنلز اب بھی پاکستان میں کامیابی سے کام کر رہی ہیں (یونیلور نے پچھلے سال 14 فیصد منافع ظاہر کیا ہے)۔
ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم پاکستان میں جیت سکتے ہیں۔ کرنسی کی گراوٹ، بلند افراطِ زر، ہم سے کئی گنا بڑے حریف، مقامی پیداوار نہ کرنے والوں کے خلاف جارحانہ لابنگ، مقامی صنعت کے حق میں حکومتی ٹیکس، فوجی قبضہ، جعلی مصنوعات کی بھرمار—سب کے باوجود۔ درست قیادت کے ساتھ ہم یہ دوبارہ کر سکتے ہیں۔
کمپنی انتظامیہ کے لیے یہ درست ہے کہ کچھ ممالک سے نکلنے کا فیصلہ کرے، جیسے بعض برانڈز بیچنے کا فیصلہ درست ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں ابھرتی ہوئی منڈیوں کو یکسر چھوڑ دینا نہیں چاہیے۔ چین اور بھارت کو “فوکس مارکیٹ” بنانا اپنی جگہ درست ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نائیجیریا (23 کروڑ صارفین)، بنگلہ دیش (17.5 کروڑ) اور اب پاکستان (24 کروڑ) سے ہار مان جائیں۔
پیارے پی اینڈ جی، آگے کا راستہ یہ ہے: وہ ملک چُنو جن میں ہم نے ماضی میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وہاں ایسے سی ای اوز لگاؤ جنہیں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کا تجربہ ہو۔ ان ملکوں کو مکمل طور پر مقامی عملے سے چلنے دو تاکہ صارف کے قریب رہ سکیں (مارکیٹنگ، مارکیٹ ریسرچ)۔ انہیں پانچ سال دو تاکہ وہ معاملات درست کریں اور مالی طور پر مضبوط بنیں، کمپنی پر بوجھ نہ رہیں۔ اگر کوئی ملک کامیاب نہ ہو تو پھر کٹ لگانا درست ہوگا۔ لیکن ممکن ہے کہ اس حکمتِ عملی پر چل کر ہم زیادہ ملکوں میں کامیاب ہوں بجائے ناکام ہونے کے۔
پاکستان سے نکلنے کا فیصلہ مجھے بہت دکھی کرتا ہے۔ بہت۔ ہم میں سے کئی لوگوں نے برسوں محنت کرکے ایک ناکام کاروبار کو ترقی یافتہ اور منافع بخش بنایا تھا۔ اُن سب لوگوں کے لیے مجھے دکھ ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس میں لگائیں۔ کیا ضیاع ہے۔ مجھے سب سے زیادہ افسوس اُن پاکستانی ملازمین کے لیے ہے جو اب بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اور مجھے اپنی کمپنی کی فکر ہے: 10، 20، 30 سال بعد جب یہ ابھرتی ہوئی منڈیاں تیزی سے ترقی کریں گی تو ہم کھیل سے باہر ہوں گے، یا اپنے ان حریفوں سے بہت پیچھے ہوں گے جو مشکل وقتوں میں ڈٹے رہے، برانڈز اور مضبوط تنظیمیں تعمیر کیں۔
پی ایس: مجھے تنبیہ کی گئی ہے کہ میں پی اینڈ جی پر ایسی تنقیدیں عوامی پلیٹ فارمز جیسے لنکڈاِن پر نہ لکھوں۔ کہا گیا ہے کہ یہ “گندے کپڑے” عوام میں دھونا ہے (کوئی طنز مقصود نہیں!)۔
یقیناً میں پی اینڈ جی کا بہت مقروض ہوں۔ انہوں نے میری تربیت پر بہت سرمایہ کاری کی۔ انہوں نے مجھے یہ سکھایا کہ کیسے ترقی کرنی ہے اور انسان کے طور پر بہتر ہونا ہے۔ انہوں نے مجھے موقع دیا کہ میں کارکردگی کی بنیاد پر خود کو ثابت کروں، سیاست کی بنیاد پر نہیں۔ انہوں نے مجھے مالی انعامات دیے جو میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتا تھا جب میں 22 سال کی عمر میں صفر کاروباری تجربے کے ساتھ شامل ہوا تھا۔
میں یہ سب اس لیے لکھتا ہوں کیونکہ میں اس کمپنی سے محبت کرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ آگے بھی کامیاب رہے۔ میں خلوصِ دل سے مانتا ہوں کہ ہم صارفین کی زندگی بہتر بناتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ دوسروں کو بھی وہی مواقع دے جو مجھے ملے، تاکہ وہ کاروبار اور مالی طور پر کامیاب ہو سکیں۔
لیکن میرا یقین ہے کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے معاملے میں ہم غلط سمت پر ہیں۔ اگر میں خاموش رہتا یا صرف اندرونی نوٹ لکھتا تو ہم اسی غلط سمت پر چلتے رہتے۔ میں نے یہ خیالات عوامی طور پر اس لیے لکھے تاکہ میں اُن بہت سے لوگوں میں شامل ہو سکوں جو انتظامیہ کو یہ فیڈ بیک دے رہے ہیں۔ اُمید ہے دوسرے بھی انہی خیالات کے ساتھ شامل ہوں گے، بورڈ سوال اٹھائے گا اور شاید، شاید ہی سہی، پی اینڈ جی کو دوبارہ درست سمت پر لایا جا سکے۔
اور آپ جو پی اینڈ جی کے ملازم نہیں ہیں اور یہ نوٹ یا میرے دیگر مضامین پڑھ رہے ہیں، میری اُمید ہے کہ یہ آپ کی اپنی سوچ اور فیصلہ سازی کو بہتر کرے گا۔ مقابلہ سب کے لیے اچھا ہے!”
چلتے چلتے پی اینڈ جی کے پاکستان میں کاروبار بند کرنے پر معروف عالمی کاروباری رہنما اور کارپوریٹ ایگزیکٹو جیمز مائیکل لیفرٹی جو چار مرتبہ فوربز ٹاپ 100 سی ای اوز کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں، کی رائے بھی پڑھ لیں۔وہ پاکستان سے پی اینڈ جی کے انخلا پر بڑی دردناک سوشل میڈیا پوسٹ لکھتے ہوئے کہتے ہیں
“میں معذرت چاہتا ہوں لیکن یہ کیا ہو رہا ہے؟ پہلے نائیجیریا سے انخلا اور کاروبار بند کیا گیا، جو 2050 تک دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ملک بننے جا رہا ہے۔ اور اب پاکستان سے واپسی، جو اُسی سال تک دنیا کا چوتھا سب سے بڑا ملک بننے کی پیش گوئی ہے! یہ کسی بڑی اور قیادت کرنے والی کمپنی کا انداز نہیں ہوتا۔ آپ طویل مدتی اسٹریٹجک مارکیٹس کو نظر انداز نہیں کرتے۔ یہ صرف ’’فنانشل ریویو‘‘ کی بات نہیں ہے۔ بعض اوقات صحیح فیصلے پر قائم رہنا پڑتا ہے۔ یہی وہ پی اینڈ جی تھی جسے میں جانتا تھا۔
ہم نے کبھی ہار نہیں مانی جب معاملہ اسٹریٹجک تھا۔ ہم نے لمبے عرصے کی حکمت عملی اپنائی۔ ہم روس اور چین میں اس وقت بھی ڈٹے رہے جب وہاں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ہم نے پرنگلز کے ساتھ بھی بڑے نقصان برداشت کیے جب تک سب ٹھیک نہیں ہو گیا۔صحیح لوگوں کو صحیح جگہ پر لگانا ضروری ہے۔ جب میرے دوست فیلیپ بووے پاکستان میں قیادت کر رہے تھے تو یہ ایک ترقی کرتی ہوئی اور منافع بخش مارکیٹ تھی۔ انہوں نے ثابت کیا کہ یہاں سرمایہ کاری بہترین موقع ہے۔ تو پھر اب پیچھے ہٹنے کی کیا وجہ ہے؟
یہ مارکیٹ کی نہیں بلکہ قیادت کی ناکامی ہے۔جی ہاں، ہم کاروباری ماحول کو الزام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دوسرے بھی جا رہے ہیں۔ لیکن سب تو نہیں جا رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یونی لیور خوش ہے اور شاید جشن منا رہا ہے! وہ اپنے شیئرز بڑھائیں گے اور پی اینڈ جی کے بہترین ٹیلنٹ حاصل کریں گے۔نہیں، سب لوگ نہیں جاتے۔ کمزور کمپنیاں شاید نکل جاتی ہیں اور بہانے بناتی ہیں۔ مگر بہترین کمپنیاں ٹکتی ہیں اور اپنے شیئرز کو مضبوط کرتی ہیں۔”
ان دو عالمی ماہرین نے عالمی کمپنیوں کے کاروبار کو عالمی تناظر میں رکھنے اور دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں تک عالمی تناظر کی بات ہے تو حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بیشتر بڑی FMCG کمپنیاں دباؤ کا شکار ہیں۔ نیسلے کو لے لیں جسے قیادت کے بحران، حصص کی گراوٹ اور بڑے پیمانے پر ملازمین کی چھانٹی کا سامنا ہے۔اسی طرح یونی لیور ہے جو اپنے اصل کاروبار کی بجائے ہوم کیئر پر توجہ کیے ہوئے ہے،اس کے علاوہ کمپنی کو مارجنز میں کمی اور اخراجات کے دباؤ کا سامنا ہے۔دلچسپ طور پر یہ کمپنی پاکستان میں بھرپور کاروبار کر رہی ہے۔
اس طرح P&G کو بھی منافع کی گراوٹ، مسابقت میں اضافہ، برانڈز کی مارکیٹ شیئر میں کمی کا سامنا ہے اور کمپنی کا پاکستان میں آپریشنز بند کرنے کا فیصلہ صرف پاکستان کے معاشی حالات کی بجائے ان عالمی رجحانات اور کمپنی کے اندرونی مسائل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جن کا اوپر ذکر ہوا ہے۔