جانوروں پر ظلم سے متعلق کمیٹی کا پہلا اجلاس | جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال

0
32

اسلام آباد، 29 اپریل 2026: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، ڈاکٹر مصدق ملک نے آج اسلام آباد میں جانوروں پر ظلم سے متعلق قائم کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔

وزیرِ اعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی اس کمیٹی کا مقصد پاکستان میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے فروغ کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنا، جانوروں پر ظلم و ستم کے واقعات کا جائزہ لینا اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات تجویز کرنا ہے۔ کمیٹی کو قانونی ڈھانچے کا جائزہ لے کر اسے مزید مؤثر بنانے، غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کی روک تھام کے لیے نگرانی اور نفاذ کے نظام کو مضبوط بنانے، اور متعلقہ سہولیات میں اصلاحات کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

اجلاس کے دوران جانوروں کی فلاح و بہبود اور جنگلی حیات کے تحفظ سے متعلق موجودہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان میں اداروں کے درمیان کمزور رابطہ کاری، اختیارات کا باہمی تداخل، ناکافی ویٹرنری ڈھانچہ، جانوروں پر ظلم سے متعلق موجودہ قوانین میں کمزور سزائیں، موجودہ قوانین پر ناقص عملدرآمد، مرکزی نگرانی و رپورٹنگ نظام کا فقدان، مالی و انسانی وسائل کی کمی، اور عوامی آگاہی کی کمی شامل ہیں۔

کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ پاکستان غیر قانونی جنگلی حیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے ایک حساس ملک ہے، جہاں باز، میٹھے پانی کے کچھوے، بڑی بلیوں کی اقسام، مگرمچھ، پرندے اور بندر سمیت مختلف انواع کی غیر قانونی تجارت کی جاتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کی جانب سے اسلام آباد کے مختلف سیکٹرز میں آوارہ کتوں کے انسانی بنیادوں پر انتظام کے لیے (پکڑنا، نس بندی، ویکسینیشن اور دوبارہ چھوڑنا) مہم شروع کی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ رضاکاروں پر مشتمل ایک نظام پہلے سے موجود ہے جو ان جانوروں کی خوراک اور دیکھ بھال میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ تاہم ان اقدامات کو مؤثر انداز میں وسعت دینے کے لیے مزید رضاکاروں اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں جانوروں کی لڑائی کے غیر قانونی اڈوں، سوشل میڈیا پر تشدد پر مبنی ویڈیوز بنا کر انہیں تشہیر اور مقبولیت کے لیے پھیلانے کے رجحان، اور ان سماجی روایات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جو جانوروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس سے قبل نہ صرف اسلام آباد بلکہ تمام صوبوں سے بنیادی اعدادوشمار جمع کیے جائیں تاکہ مسئلے کی شدت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نس بندی اور ویکسینیشن پروگرامز کے لیے درکار سہولیات اور مالی وسائل کا تخمینہ لگایا جائے اور ان اقدامات کو قومی سطح پر وسعت دینے کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ جانوروں پر ظلم و ستم انسانیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے موجودہ قانونی ڈھانچے کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی تاکہ ان خلاوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں جانوروں پر ظلم اور جنگلی حیات سے متعلق جرائم کو مناسب طور پر قابلِ سزا نہیں بنایا گیا یا ان پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے آوارہ کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے بعد بھی کئی آبادیاں انہیں واپس اپنے علاقوں میں آنے نہیں دیتیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی آگاہی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ جانوروں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنان اور ماہرین کو یکجا کیا جائے تاکہ ان کی آراء اور سفارشات کو پالیسی سازی میں شامل کیا جا سکے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے صوبائی حکومتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بامعنی پیش رفت صرف باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔

اجلاس میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی، وزارتِ داخلہ، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد، نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن ، اور سول سوسائٹی و جانوروں کے تحفظ کے شعبے سے وابستہ نمائندگان نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here