یہ کس طرح کی نئی نسل تیارہوئی ہے؟ تزئین اختر

0
22

ٹک ٹوکرثنا یوسف کے قاتل کو بالآخر سزائے موت سنادی گئی۔ قاتل کو سزا ملنی چاہیے لیکن یہاں سوال یہ بھی ہے کہ لڑکیاں اور خواتین سوشل میڈیا پر لوگوں کو رغبت دلانے، ان کے ساتھ گپ شپ لگانے اور ان کے جذبات سے کھیلنے میں آزاد ہیں؟ ٹک ٹوکروں نے جو جو واہیاتی پھیلائی ہوئی ہے اس کو روکنے والا بھی کوئی ہے یا نہیں؟دوسری طرف اس منڈے کا انداز دیکھیں ۔ اس کا ابا محنت کش ہے اور اس کو دیکھو -اس نے ایسا انداز اختیار کیا ہے جیسے وہ تیس مار خان ہو۔

یہ کس طرح کی نئی نسل تیارہوئی ہے؟ تزئین اختر

اسلام آباد کی ایک عدالت نے ثنا یوسف کے مقدمہ قتل میں مجرم عمر حیات کو سزائے موت سنائی ہے، مجرم کو 20 لاکھ روپے بطور زرِ تلافی ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق ثنا یوسف کی انسٹاگرام پر پہلی ریل اکتوبر 2023 میں وائرل ہوئی تھی جس میں وہ اپنی ماں فرزانہ یوسف سے مزاحیہ انداز میں کہتی ہیں “پڑھائی ایک نشہ ہے اور ہم شریف لوگ ہیں، ہم نشہ نہیں کرتے۔”

 ثنا کی والدہ فرزانہ یوسف بتاتی ہیں کہ ابتدا میں وہ اپنی بیٹی کو منع کرتی تھیں کہ اپنے والد سے پوچھے پر کچھ نہیں کرنا۔ مگر اس پہلی وائرل ریل کی کہانی یہ تھی کہ اس وقت ثنا یوسف کے انٹرمیڈیٹ کے امتحانات چل رہے تھے۔

فرزانہ کہتی ہیں کہ “اس نے رات بھر پڑھائی کی تھی۔ پڑھ پڑھ کو بور ہو گئی تو اس کے ذہن میں پڑھائی ایک نشہ ہے کا آئیڈیا آیا۔” اس نے وہ ویڈیو بنائی اور پوچھا کہ کیا میں اسے پبلک کر دوں۔ اس نے وہ ویڈیو لگائی جو وائرل ہو گئی۔ ان کے مطابق امتحانات کے بعد ثنا کے والد نے انھیں ویڈیوز لگانے کی اجازت دی تھی۔

ثنا کے والد یوسف حسن نے بتایا کہ “ہم اسے تربیت دیا کرتے تھے، یہی بتاتے تھے کہ سوشل میڈیا کا کوئی سر پیر نہیں۔ گاؤں اور شہر کی دشمنی میں فرق ہے۔ وہ چھوٹی بھی تھی اور جذباتی بھی۔ وہ کہتی تھی کہ پاپا کچھ نہیں ہو گا۔”

یوسف کہتے ہیں کہ مرنے سے ایک دن پہلے ثنا نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ “اپنی جان دے دوں گی لیکن آپ کی عزت کا خیال رکھوں گی۔” اس نے کہا تھا کہ پاپا آپ کو سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ نہیں۔ اگر میرے ساتھ کچھ بھی ہوا تو آپ کو سوشل میڈیا کی طاقت کا اندازہ ہو گا۔

ثنا کے والد انھیں سی ایس ایس افسر بننے کا مشورہ دیتے تھے مگر وہ خود ڈاکٹر بننا چاہتی تھیں۔

فرزانہ کہتی ہیں کہ ثنا نے والد سے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ وہ سوشل میڈیا پر کام کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی تعلیم بھی حاصل کریں گی۔ فرزانہ یوسف یاد کرتی ہیں کہ “درمیانے قد کا حملہ آور قریب شام پانچ بجے گھر میں داخل ہوا اور آتے ہی ثنا کے کمرے میں آ کر اس پر گولی چلا دی۔”

فرزانہ کہتی ہیں کہ میں ٹی وی لاؤنج میں موجود تھی، ثنا کی پھپھو بھی گھر پر موجود تھیں۔ ثنا اپنے کمرے میں تھی، اسے دو گولیاں ماری گئیں۔

یوسف حسن کا کہنا تھا کہ “اولاد کے بغیر ماں باپ کی زندگی ادھوری ہوتی ہے۔ اسی کی یادیں ہمارے ساتھ ہماری قبر تک جائیں گی۔”

بی بی سی نے ثنا اور اس کے والدین کو ہر چیز سے بری کر دیا ہے باوجود اس کے کہ ثناء نے خود قاتل کے ساتھ اپنا پتہ شیئر کیا تھا اور اس کے والدین بخوبی جانتے تھے کہ ان کی بیٹی کو سوشل میڈیا پر ہر قسم کے لڑکے اور مرد دیکھ رہے ہیں۔

ثنا کے والدین بھی اس کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ انہیں اسے کھلے فورم پر اپنی معصومیت اور خوبصورتی دکھانے سے روکنا چاہیے تھا۔ جب وہ یہ نہیں کر سکے تھے، تو انہیں اس کی اچھی دیکھ بھال کرنا چاہیے تھی۔ ماں اور خالہ گھر میں موجود ہوتے ہوئے لڑکا ان کے گھر کیسے داخل ہوا اور ثناء کے کمرے میں کیسے پہنچ گیا؟

بی بی سی اور اس کے والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ ثنا جو بھی بننے کا عزم رکھتی تھی، ڈاکٹر یا کچھ بھی، وہ ہمیشہ صرف ٹک ٹوکر کہلائے گی اور ٹک ٹوکر کا مطلب ہے …………….

 تزئین اختر

Pakistan in the World – March / April 2026

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here