25 مئ 2019 کو ایک شہری، عبد الخالق، موٹروے پر پشاور سے لاہور جا رہا تھا۔ نیلا پولیس اسٹیشن، ضلع چکوال کی حدود میں ایک نجی کار نے اس کا راستہ روکا۔ گاڑی سے پولیس وردی میں ملبوس اہلکار منذر عباس ASI اور ڈرائیور کانسٹیبل فرحان اترے اور تلاشی کے دوران عبد الخالق کی کار کے ڈیش بورڈ سے دو لاکھ روپے نکال لیے۔ اس اچانک واردات نے عبد الخالق کو حیران و پریشان کر دیا اور اس نے فوری طور پر موٹروے پولیس کو مطلع کیا، جس کے بعد ایک سنسنی خیز تعاقب شروع ہوا۔
موٹروے پولیس نے اس نجی گاڑی کو ڈھونڈ نکالا، وہ رقم برآمد کر کے مالک کو واپس کی اور دونوں اہلکاروں کو موقع پر ہی دھر لیا۔ اس واقعے کے بعد دونوں پنجاب پولیس اہلکاران کے خلاف ڈکیتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی دفعات کے تحت ایک مجرمانہ مقدمہ درج ہوا اور ساتھ ہی محکمانہ تادیبی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا۔
جب چالان کیس چلا تو عدالت نے ان دونوں اہلکاروں کو ثبوتوں کی کمی یا تکنیکی بنیادوں پر فوجداری مقدمے سے بری کر دیا، لیکن دوسری طرف محکمہ پولیس نے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا۔ پنجاب سروس ٹربیونل نے بھی ان کی برطرفی کے فیصلے کو برقرار رکھا، جس کے بعد یہ معاملہ انصاف کے سب سے بڑے ایوان، یعنی سپریم کورٹ آف پاکستان تک پہنچ گیا۔ سپریم کورٹ کے تین ججوں کے سامنے یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور الجھا ہوا قانونی معمہ تھا، جہاں انصاف کی دو مختلف راہیں آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل اکثریتی بینچ کا رخ اس کہانی میں قانون کے سخت گیر اور اصول پسند چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ ان کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا ایک مجرمانہ مقدمے میں بریت محکمانہ کارروائی کو ختم کر دیتی ہے؟ عدالت نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ فوجداری بریت کسی بھی طرح محکمانہ کارروائی کے آڑے نہیں آتی۔ دونوں کارروائیاں بیک وقت چل سکتی ہیں اور ایک کا نتیجہ دوسرے پر اثر انداز نہیں ہوتا۔
جب ججوں نے ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو سسپنس کے پردے چاک ہونے لگے۔ اہلکاروں کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ تو کوٹ مومن کے قریب موٹروے پولیس کے ہاتھوں روکے گئے تھے، لیکن دستاویزی شواہد نے ان کے اس جھوٹ کو بے نقاب کر دیا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ بغیر کسی اجازت کے، نجی گاڑی میں، پولیس وردی کا رعب جماتے ہوئے ایک دور دراز علاقے میں کارروائی کر رہے تھے، جو کہ ان کے عہدے اور محکمے کی ساکھ پر ایک گہرا داغ تھا۔
اکثریتی فیصلے میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ان کا یہ غیر قانونی سفر اور اختیارات کا غلط استعمال سراسر سنگین بدعنوانی ہے، جس کی سزا صرف اور صرف برطرفی ہی ہو سکتی ہے، تاکہ پولیس فورس کی ساکھ کو بچایا جا سکے۔ اس طرح دو ججوں نے ان کی اپیلیں خارج کر دیں۔
لیکن سب سے بڑا سسپنس اور ڈرامائی موڑ جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اختلافی نوٹ سے سامنے آیا، جنہوں نے تصویر کا ایک بالکل دوسرا اور ہولناک رخ پیش کیا۔ ان کے قلم نے اس پورے واقعے کو ایک مبینہ گہری سازش کے روپ میں دیکھا۔ برطرف اہلکاروں کا موقف تھا کہ جس شہری عبد الخالق اور گواہ اصغر خان نے ان پر پیسے چھیننے کا الزام لگایا تھا، وہ دراصل عام شہری نہیں بلکہ منشیات کے بین الاقوامی اسمگلر تھے، جنہیں ماضی میں بھی منشیات کے مقدمات میں سزائیں ہو چکی تھیں۔
اہلکاروں کے مطابق، اس واقعے سے چند دن پہلے ہی انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑی تھی، جس کی وجہ سے منشیات فروشوں کے اس گروہ نے پولیس کے اعلیٰ افسران کو گمراہ کر کے اور ہمدردیاں حاصل کر کے ان کے خلاف یہ جھوٹی کہانی گھڑی تاکہ ان کا راستہ صاف ہو سکے۔
جسٹس نقوی نے انکشاف کیا کہ محکمانہ انکوائری افسر نے اس سنگین دفاعی موقف کی جانچ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی، نہ تو منشیات فروش گواہوں کو انکوائری میں شامل کیا گیا اور نہ ہی ملزم اہلکاروں کو ان پر جرح کا کوئی موقع دیا گیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کسی سول سرونٹ کو اس طرح سرسری اور غیر منصفانہ طریقے سے نوکری سے نکال دینا نہ صرف اس کے پورے خاندان کو برباد کر دیتا ہے بلکہ اس کے ماتھے پر عمر بھر کے لیے بدنامی کا ایک ایسا داغ لگا دیتا ہے جو موت تک نہیں دھلتا۔
ان کا ماننا تھا کہ معاشرے کے مجرم اور منشیات کے سوداگر اتنے بااثر ہو چکے ہیں کہ وہ قانون کے رکھوالوں کو ہی قانون کے جال میں پھنسا رہے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال کو دیکھتے ہوئے انہوں نے ان اہلکاروں کی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی بحالی کا فیصلہ دیا۔ تاہم، عدالت کے دو ایک کے اکثریتی فیصلے کے باعث قانون کی آہنی گرفت برقرار رہی اور دونوں اہلکاروں کی برطرفی کا فیصلہ حتمی ٹھہرا۔