اُردو۔ازبک مشترک الفاظ کی لغت اور بیسویں صدی کے افسانے کی رونمائی

0
3

محبت، اُخوت اور علمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایسے ادبی و ثقافتی پروگرام نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ علی شیر تختوف

ان کتب کے مصنفین نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اورنگزیب خان کھچی

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )ادارۂ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں سفارت خانۂ  جمہوریۂ ازبکستان کے اشتراک سے ایک روزہ بین الاقوامی تقریبِ رونمائی کتب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب میں اُردو۔ازبک مشترک الفاظ کی لغت اور بیسویں صدی کے افسانے جیسی اہم کتب کی رونمائی کی گئی۔

 مہمانِ خصوصی جمہوریۂ ازبکستان کے سفیر  علی شیر تختوف نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں کہا کہ پاکستان اور ازبکستان صدیوں کو محیط مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت، اُخوت اور علمی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے ایسے ادبی و ثقافتی پروگرام نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اُردو اور ازبک زبانوں کے مشترک الفاظ پر مبنی لغت دونوں قوموں کے علمی روابط کو مزید مستحکم کرے گی اور نئی نسل کو ایک دوسرے کی تہذیب، زبان اور تاریخ کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ سفیرِ ازبکستان نے دونوں مصنفین اور ادارۂ فروغِ قومی زبان کو اس اہم علمی خدمت پر مبارک باد پیش کی۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن  اورنگرزیب خان کھچی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں مصنفین نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم خدمات انجام دی ہیں۔ اُنھوں نے امید ظاہر کی کہ اس نوعیت کی علمی و ادبی سرگرمیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ اُنھوں نے تجویز دی کہ ازبک ڈکشنری کو آن لائن بھی دستیاب کیا جائے تاکہ عام لوگوں کو اس سے زیادہ سہولت حاصل ہو سکے۔

پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا نے کہا کہ بابرکت مہینے میں ان دونوں کتب کی تقریبِ رونمائی پر دلی خوشی محسوس کر رہی ہوں۔ اُنھوں نے معزز سفیرِ ازبکستان کی آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لغت کی تدوین سوئی سے کنواں کھودنے کے مترادف ہے اور یہ ایک نہایت محنت طلب کام ہے۔میں تاش مرزا کو اس لغت کی تدوین پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔

عادل مرزا نے  کہا کہ وہ اپنے والد ڈاکٹر تاش مرزا خالمِرزائف کی جانب سے شرکا کے شکر گزار ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ پاکستان اور ازبکستان کو قریب تر لانے کے لیے لاہور سے تاشقند کے لیے فلائٹ سروس شروع کی گئی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے عوامی روابط میں اضافہ ہوا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اب صرف دو گھنٹے میں سمرقند اور بخارا تک رسائی ممکن ہے۔

 سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ جو قومیں اپنی تاریخ بھول جاتی ہیں وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں ۔ ہم جب کسی علاقے میں جاتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں کی تاریخ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ پاکستان کے بھی ہر حلقے کی اپنی ایک ثقافت ہے۔ جسے مزید اجا گر کرنے کی ضرورت ہے ۔اُنھوں نے ڈاکٹر تاش مرزا اور پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

وفاقی سیکریٹری برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اسد رحمن گیلانی نے کہا کہ آج کی تقریب محض دو کتب کی رونمائی نہیں بلکہ پاکستان اور ازبکستان کی پائیدار دوستی کا عملی مظہر ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صرف ثقافتی نہیں بلکہ تاریخی، علمی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار ہیں۔ علوم، فنون اور ثقافت کی روشنی نے ان خطوں کو ہمیشہ منور رکھا۔ اُنھوں نے کہا کہ اُردو زبان میں دنیا کی مختلف زبانوں کے الفاظ شامل ہیں، جو اس کی وسعت اور ہمہ گیری کا ثبوت ہے۔ اُنھوں نے دونوں مصنفین اور ادارۂ فروغِ قومی زبان کو اس کامیاب علمی کاوش پر مبارک باد پیش کی۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم مظہر ڈائریکٹر جنرل ادارۂ فروغ قومی زبان نے کہا کہ دنیابھر میں قوموں کو قریب لانے والے لوگوں میں سب سے زیادہ تعداد شعرا اور ادبا کی ہے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ تاش مرزا اور پاکستانی ادب ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں ۔ یہ تاش مرزا کی تیسری کتاب ہے جو ادارہ کی جانب سے شائع ہو رہی ہے ۔ میرے خیال میں فکری اور ادبی کام دیر پا ہوتے ہیں اور یہی قوموں کی قسمت بدلتے ہیں ۔

ڈاکٹر تاش مرزا خالمِرزائف اور پروفیسر محیہ عبدالرحمنوا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں مصنفین نے نہایت دلجمعی اور محنت سے اس علمی منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ اُنھوں نے کہا کہ ادارۂ فروغِ قومی زبان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اُردو۔ازبک مشترک الفاظ کی لغت اور دیگر اہم کتب اسی پلیٹ فارم سے شائع ہوئیں۔ آخر میں اُنھوں نے تقریب میں شریک تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

Uzbekistan Softening Visa for Pakistanis-Direct Flight from Islamabad to Tashkent Soon

خالد تیمور اکرم  نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کی بنیاد ظہیر الدین بابر اور امیر تیمور کے عہد سے جڑی ہوئی ہے۔ ملتانی آرٹ سمرقند اور بخارا سے برصغیر آیا۔

ازبکستان کے تعاون سے اسلام آباد میں بابر پارک تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ دنیا کا سب سے بڑا اسلامی سینٹر بھی ازبکستان میں قائم کیا گیا ہے۔ جہاں اسلامی تاریخ کو جدید انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے دونوں مصنفین کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک ثقافتی ورثے کے اعتبار سے ایک دوسرے کے بے حد قریب ہیں۔

سیاحت کے سفیر حامد محبوب نے اس تقریب کی نظامت کے دوران سیاہ رنگ کا ازبک گاؤن پہنا اور اس پر سنہری کڑھائی کا کام شرکاء کی توجہ کا مرکز تھا۔

ہال مختلف انداز اور رنگوں کے ازبک گاؤنز روایتی ٹوپیوں اور پینٹنگز کے ساتھ سجایا گیا تھا۔ مہمانوں کی تواضع مشہور ازبک پلاؤ اور سمسا سے کی گئی۔

اس موقع پر روس، تاجکستان، ترکمانستان، ترکی کے سفیر، فرسٹ سیکرٹری آذربائیجان،قازقستان چیئرپرسن اکیڈمی آف لیٹرز ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی موجود تھیں۔

Pakistan in the World – March / April 2026

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here