بی بی سی
جیسے ہی باہر کے دروازے سے پردہ ہٹا کر گھر میں داخل ہوں تو سامنے ایک بڑا گڑھا نظر آتا ہے۔
ایک کمرے میں پرانا بیڈ پڑا ہوا ہے۔ دوسرے میں دو چارپائیوں پر بستر بچھے ہیں۔ ایک کونے میں گیس کا چولہا اور اس کے پاس رکھے برتن بتاتے ہیں کہ یہ کمرہ باورچی خانہ بھی تھا۔
اس گھر کے دو طرف اونچی عمارتیں ہیں اور درمیان میں ایک کھلا صحن ہے جس میں مٹی کا چولہا کئی دنوں سے ٹھنڈا پڑا ہے۔
16 دسمبر کو پولیس نے اسی گھر کے بیت الخلا کے سامنے ایک گڑھے سے تین لاشیں برآمد کی تھیں اور فاروق نامی شخص کو اپنی بیوی طاہرہ اور دو کمسن بیٹیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔
مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی کے علاقے کاندھلا میں یہ مسلم اکثریتی گاؤں اس واقعے کے بعد سے سرخیوں میں ہے۔
اردگرد کے لوگوں سے گفتگو، گرفتار ملزم اور اس قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ طاہرہ کی زندگی شادی کے بعد سے اسی گھر کی چار دیواری کی قید میں گزری۔
وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلیں اور نہ ہی رشتہ داروں، پڑوسیوں یا جاننے والوں سے ان کا کوئی رابطہ رہا۔
شاملی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیوی سے برقعہ پہنے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنے والدین کے گھر جانے پر ناراض تھا اور یہی قتل کی وجہ تھی۔
ملزم فاروق کی والدہ کے مطابق ان کا بیٹا پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے کسی کو بات کرتا بھی دیکھے۔ اس نے طاہرہ کو ہمیشہ سخت پردے میں رکھا۔
طاہرہ اور فاروق کے پانچ بچے تھےجن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ سب سے بڑی بیٹی چودہ یا پندرہ سال کی تھی۔ ان کے پانچ بچوں میں سے کوئی بھی کبھی سکول یا مدرسے نہیں گیا۔
پولیس کے مطابق نو اور 10 دسمبر کی درمیانی شب فاروق نے اپنی بیوی، اپنی بڑی اور سب سے چھوٹی بیٹی کو قتل کیا اور پھر لاشوں کو گھر میں پہلے سے کھودے گئے گڑھے میں دفنا دیا۔
بڑی بیٹی کی عمر چودہ پندرہ سال اور چھوٹی بیٹی چھ سات سال کی تھی۔










