بغیر برقعہ پہنے پبلک ٹرانسپورٹ میں میکے جانے پر ناراض شوہر نے بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل کر کے گھر میں دفنا دیا

0
409

بی بی سی

جیسے ہی باہر کے دروازے سے پردہ ہٹا کر گھر میں داخل ہوں تو سامنے ایک بڑا گڑھا نظر آتا ہے۔

ایک کمرے میں پرانا بیڈ پڑا ہوا ہے۔ دوسرے میں دو چارپائیوں پر بستر بچھے ہیں۔ ایک کونے میں گیس کا چولہا اور اس کے پاس رکھے برتن بتاتے ہیں کہ یہ کمرہ باورچی خانہ بھی تھا۔

اس گھر کے دو طرف اونچی عمارتیں ہیں اور درمیان میں ایک کھلا صحن ہے جس میں مٹی کا چولہا کئی دنوں سے ٹھنڈا پڑا ہے۔

16 دسمبر کو پولیس نے اسی گھر کے بیت الخلا کے سامنے ایک گڑھے سے تین لاشیں برآمد کی تھیں اور فاروق نامی شخص کو اپنی بیوی طاہرہ اور دو کمسن بیٹیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا۔

مغربی اتر پردیش کے ضلع شاملی کے علاقے کاندھلا میں یہ مسلم اکثریتی گاؤں اس واقعے کے بعد سے سرخیوں میں ہے۔

اردگرد کے لوگوں سے گفتگو، گرفتار ملزم اور اس قتل کی تفتیش کرنے والے پولیس افسران کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ طاہرہ کی زندگی شادی کے بعد سے اسی گھر کی چار دیواری کی قید میں گزری۔

وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلیں اور نہ ہی رشتہ داروں، پڑوسیوں یا جاننے والوں سے ان کا کوئی رابطہ رہا۔

شاملی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بیوی سے برقعہ پہنے بغیر پبلک ٹرانسپورٹ میں اپنے والدین کے گھر جانے پر ناراض تھا اور یہی قتل کی وجہ تھی۔

ملزم فاروق کی والدہ کے مطابق ان کا بیٹا پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے کسی کو بات کرتا بھی دیکھے۔ اس نے طاہرہ کو ہمیشہ سخت پردے میں رکھا۔

طاہرہ اور فاروق کے پانچ بچے تھےجن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ سب سے بڑی بیٹی چودہ یا پندرہ سال کی تھی۔ ان کے پانچ بچوں میں سے کوئی بھی کبھی سکول یا مدرسے نہیں گیا۔

پولیس کے مطابق نو اور 10 دسمبر کی درمیانی شب فاروق نے اپنی بیوی، اپنی بڑی اور سب سے چھوٹی بیٹی کو قتل کیا اور پھر لاشوں کو گھر میں پہلے سے کھودے گئے گڑھے میں دفنا دیا۔

بڑی بیٹی کی عمر چودہ پندرہ سال اور چھوٹی بیٹی چھ سات سال کی تھی۔

 

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنی اہلیہ طاہرہ کے اپنے والدین کے گھر بغیر برقعے کے جانے اور پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنے پر ناراض تھا اور اسی وجہ سے اس نے اپنی بیوی کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔‘

زندہ بچ جانے والے تین بچوں اور فاروق کے اہلخانہ کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل طاہرہ اور فاروق میں کسی بات پر جھگڑا ہوا تھا اور طاہرہ اچانک برقع پہنے بغیر اپنے والدین کے گھر چلی گئیں۔

شادی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب طاہرہ نے اپنے گھر کی دہلیز پار کی اور پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ نریندر پرتاپ کا کہنا ہے کہ ’ملزم سے پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ طاہرہ کبھی بھی گھر سے اکیلی نہیں نکلی تھی۔ جب بھی اسے اپنے والدین کے گھر جانا ہوتا تھا، فاروق مزدور ہونے کے باوجود کار بک کرواتا تھا۔ اس نے کبھی بس نہیں لی تھی لیکن اس دن جھگڑے کے بعد وہ بغیر برقعے کے گھر سے نکلی تھی۔‘

پولیس کے مطابق فاروق اپنی بیوی طاہرہ کے اس اقدام کو نافرمانی سمجھتا تھا۔

نریندر پرتاپ سنگھ کا کہنا ہے کہ ’فاروق نے مکمل منصوبہ بنایا، غیر قانونی ہتھیار خریدے، گھر میں گڑھا کھودنے کے لیے مزدوروں سے کام لیا اور پھر طاہرہ کو قتل کرنے کے ارادے سے اس کو والدین کے گھر سے واپس بلایا۔‘

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے مطابق ’تفتیش کے دوران فاروق نے بتایا کہ اس کا ارادہ صرف اپنی بیوی کو قتل کرنا تھا۔ بیٹیاں جاگ گئی تھیں تو اس لیے اس نے انھیں بھی مار ڈالا۔‘

پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم نے تینوں کی لاشوں کو کپڑے میں لپیٹ کر ایک گڑھے میں ڈالا پھر مٹی سے ڈھانپ دیا اور دو دن بعد کنکریٹ کا فرش بنایا۔

فاروق کے گھر والوں کے مطابق جب تینوں بچوں نے اپنی ماں اور دو بہنوں کے بارے میں پوچھا تو فاروق نے بتایا کہ اس نے ایک اور کمرہ کرائے پر لیا ہے اور وہ وہاں رہ رہے ہیں۔

ان تینوں بچوں نے، جن کی عمریں بارہ سال سے کم ہیں، دو تین دن تک ہوٹل سے لایا ہوا کھانا کھایا۔

اس کے بعد انھوں نے اپنے گھر سے متصل ایک اور گھر میں رہنے والے اپنے دادا دادی کو اطلاع دی کہ ان کی والدہ اور بہنیں گھر پر نہیں۔

فاروق کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’بچوں نے ہمیں بتایا کہ ان کے والد نے ان کی ماں اور بہن کو کہیں بھیج دیا۔ جب ہم نے اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ کرائے کے گھر میں ہیں لیکن جب اس نے اپنے کپڑوں کو آگ لگائی تو ہمیں شک ہوا۔‘

اپنی پوتیوں اور بہو کے لاپتہ ہونے کے بعد فاروق کے والد مقامی تھانے پہنچ گئے اور اپنے ہی بیٹے پر شک کا اظہار کیا۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نریندر پرتاپ سنگھ کے مطابق ’فاروق نے شروع میں ہمیں گمراہ کیا لیکن پھر تفتیش کے دوران حقائق سامنے آنے پر 16 دسمبر کی شام گھر کے ایک گڑھے سے تینوں لاشیں نکالی گئیں اور واقعے میں استعمال ہونے والا ہتھیار بھی مل گیا۔‘

اب تک کی تفتیش میں پولیس کو اس واقعے میں کسی اور کے ملوث ہونے کا کوئی اشارہ نہیں ملا۔

تاہم پولیس اس بات کی تفتیش کر رہی ہے کہ ہوٹل میں روٹی بنانے کا کام کرنے والے اور ایک معمول کی زندگی گزارنے والے فاروق کو کس بات نے اتنا مشتعل کیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here