کاکول سے ڈھاکا تک: میجر ضیاء الرحمٰن، جنرل ضیاء الرحمٰن اور ایک ادھورا حساب

0
227

ڈاکٹر رخشندہ پروین
محصور پاکستانی نہ کسی ریاست کا فخر بن سکے، نہ کسی سیاسی جماعت کا ووٹ بینک—وہ صرف ایک یاد دہانی تھے، 1971 کی، ٹوٹی ہوئی وفاداریوں کی، اور ریاستی ناکامی کی۔

پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں تربیت پانے والا ایک نوجوان افسر، ڈسٹرکٹ بوگرا کا ایک بنگالی، میجر ضیاء الرحمٰن، 1971 میں تاریخ کے اس موڑ پر کھڑا تھا جہاں وفاداری، بغاوت اور بقا کے درمیان لکیر دھندلا جاتی ہے۔ وہ پاکستان آرمی کا افسر تھا؛ وردی اس کی شناخت تھی، تنخواہ اس کا حق۔ مگر مشرقی پاکستان میں ریاست ٹوٹ رہی تھی، اور ریاست کے ساتھ وفاداری کا مفہوم بھی۔

مارچ 1971 میں، جب پاکستان کی عمل داری اور غیر بنگالیوں اور نہتے وطن پرستوں کے مزید قتلِ عام کو مشرقی حصے میں عسکری طاقت کے ذریعے قائم رکھنے کی کوشش کی گئی، ضیاء الرحمٰن نے ہتھیار چھوڑے، ریڈیو پر بغاوت کا اعلان پڑھا، اور پھر مکتی باہنی—یعنی پاکستان کو توڑنے والوں—کا کمانڈر بن گیا۔

پاکستان آرمی کے ریکارڈ میں یہ غداری تھی، یا ہونی چاہیے؛ بنگلہ دیش کی سرکاری تاریخ میں یہ آزادی کی جدوجہد۔
یہی تضاد ضیاء الرحمٰن کی پوری سیاسی زندگی کا بنیادی سچ ہے۔

مشرقی بنگال، یا مشرقی پاکستان، کی “آزادی”—یعنی سقوطِ پاکستان—کے بعد بنگلہ دیش میں طاقت کا خلا تھا۔ شیخ مجیب کے قتل کے بعد فوج سیاست میں داخل ہوئی، اور بالآخر ضیاء الرحمٰن اقتدار میں آئے: پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، پھر صدر۔
یہاں ایک اور تبدیلی ہوئی:
“بنگالی قوم پرستی” کو “بنگلہ دیشی قوم پرستی” میں بدل دیا گیا۔

یہ محض لفظی تبدیلی نہیں تھی؛ یہ ایک سیاسی پیغام تھا—ریاست مذہب اور جغرافیے سے جڑی ہوگی، صرف زبان سے نہیں۔

اسی تبدیلی نے کچھ حلقوں میں ضیاء الرحمٰن کو پاکستان کے قریب تر دکھایا، اگرچہ انہوں نے کبھی 1971 کے کردار پر معذرت یا وضاحت نہیں دی۔ پاکستان نے بھی انہیں سرکاری طور پر غدار قرار دے کر کوئی سفارتی محاذ نہیں کھولا۔ ریاستیں ماضی نہیں، مفاد دیکھتی ہیں۔

1981 میں جنرل صاحب کے قتل کے بعد سیاست نے ایک اور موڑ لیا۔
ایک معمولی پڑھی لکھی اور گھریلو خاتون، بیگم خالدہ ضیاء—جو نہ سیاست میں تھیں، نہ اقتدار کے کھیل سے واقف—بتدریج بنگلہ دیش کی سب سے طاقتور سیاسی آواز بن گئیں۔ ایک پدر سری معاشرے میں ووٹ لے کر دو مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں۔ ان کے ادوار میں پاکستان سے تعلقات میں وہ تلخی نہیں رہی جو عوامی لیگ کے ادوار میں نمایاں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کے سفارتی بیانیے میں خالدہ ضیاء “دوست” کہلائیں۔

مگر اس پوری داستان میں ایک برادری مسلسل خاموش رہی، یا انہیں خاموش رکھا گیا۔
یہ تھے—اور ہیں—محصور پاکستانی: پاکستان سے وفاداری کی سزا کے مجرم۔

1971 کے بعد بنگلہ دیش میں رہ جانے والے اردو بولنے والے، جنہیں “محصور پاکستانی” کہا گیا—نہ پاکستان کے رہے، نہ بنگلہ دیش کے بن سکے۔
انہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا تھا، مگر پاکستان نے انہیں مکمل طور پر قبول نہ کیا۔

بنگلہ دیش نے انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا، مگر دہائیوں بعد عدالتوں کے ذریعے کچھ لوگوں کو سیاسی مفادات کے تحت جزوی شہریت دی گئی۔ ووٹ دینے کا حق دیا، مگر ان ڈربوں سے نکلنے کا نہیں جنہیں کیمپ کہا جاتا ہے۔ پاسپورٹ نہیں دیا گیا۔

اہم سوال یہ ہے:
کیا ضیاء الرحمٰن یا خالدہ ضیاء کے ادوار میں ان کے لیے کوئی جامع پالیسی بنی؟
جواب ہے: نہیں۔

نہ منظم بحالی، نہ مکمل شہریت کا سیاسی فیصلہ، نہ پاکستان پر اخلاقی دباؤ کہ وہ اپنے نام پر پھنسے لوگوں کو واپس لے۔

یہ خاموشی اتفاق نہیں تھی؛ یہ سیاسی حقیقت تھی۔
محصور پاکستانی ووٹ بینک نہیں تھے۔
وہ محض یاد دہانی تھے—1971 کی، وفاداریوں کی، اور ریاستی ناکامی کی۔

ریاستیں یادداشت منتخب کرتی ہیں۔
پاکستان کے لیے ضیاء الرحمٰن ایک “سابق افسر” تھے، جن پر بات نہ کرنا بہتر تھا۔
بنگلہ دیش کے لیے وہ “آزادی کے ہیرو” بھی ہیں اور “متنازع حکمران” بھی۔
خالدہ ضیاء کے لیے وہ وراثت تھے جسے سیاست میں بدلا گیا، مگر تاریخ میں واضح نہیں کیا گیا۔
اور محصور پاکستانی؟

وہ اس کہانی کا وہ باب ہیں جو دونوں ریاستیں بند رکھنا چاہتی ہیں۔
یہی اصل المیہ ہے۔

تاریخ میں سب کردار آگے بڑھ گئے—میجر جنرل بن گیا، بیوہ وزیرِ اعظم، ریاستیں دوست۔
بس کچھ لوگ وہیں رہ گئے—(شاید یہ لوگ انسان تو کیا، جانوروں کے حقوق کے بھی مستحق نہیں سمجھے گئے)—کیمپوں میں،
شناخت کے بغیر، اور اس سوال کے ساتھ کہ وفاداری آخر کس کی تھی، اور جرم کس کا؟

آج، جب بیگم خالدہ ضیاء دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، تو میڈیا میں ایک مرتبہ پھر آدھی تاریخ سنائی جا رہی ہے۔
تعزیتی بیانات، سفارتی مسکراہٹیں، اور “دوستی” کے رسمی جملے—مگر تاریخ کے حاشیے پر لکھے گئے وہ لوگ پھر غائب ہیں جن کی زندگیاں کسی فوٹر کی خبر نہ بن سکیں۔

میں، ایک پاکستانی ہونے کے ناطے، یہ سوچ کر لرز جاتی ہوں کہ اگر آج پاکستان آرمی کا کوئی حاضر سروس میجر—خدا نخواستہ—ریاست کے خلاف کسی مسلح تحریک کا ساتھ دے، تو ہم اسے کیا کہیں گے؟

غدار؟ یا کل کا ہیرو؟

ریاستیں جب مصلحت میں سچ کو آدھا بیان کرتی ہیں تو سب سے پہلے وفادار یتیم ہوتے ہیں۔
محصور پاکستانی—وہ لوگ جنہوں نے پاکستان کا انتخاب کیا، پاکستان کے نام پر سب کچھ کھویا، اور پھر پاکستان ہی کی ترجیحات سے باہر ہو گئے—آج بھی نام نہاد کیمپوں میں، شناخت اور وقار کے درمیان معلق ہیں۔

دوستی ہونی چاہیے، مگر آنکھیں بند کر کے نہیں؛ ماضی سے بھاگ کر نہیں، ماضی کا سامنا کر کے۔
سچ بولے بغیر مصالحت محض ایک سفارتی اداکاری رہتی ہے۔

اگر ہم واقعی خطے میں دوستی چاہتے ہیں تو ہمیں تاریخ کے مشکل سوالات بانٹنے ہوں گے،
اور اگر ہم خود کو ریاست کہتے ہیں تو ہمیں اپنے چھوڑ دیے گئے وفاداروں کی خبر بھی رکھنی ہو گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here