پاکستان نے تاریخی “قومی امیگریشن و ویلفیئر پالیسی 2026” کا باضابطہ اجراء کردیا

0
28

مستقبل کی ہجرت اور ملازمت کے عمل کو منظم کرنے کے لیے، پالیسی میں 5 بنیادی حکمتِ عملی کے ستونوں کے تحت اصلاحات نافذ کی گئی ہیں

بیرون ملک محفوظ اور قانونی طریقے سے روزگار، ملازمتوں کے نئے مواقعے تلاش کیے جائیں گے

اسلام آباد — 23 جولائی 2026 — تارکینِ وطن کے ساتھ حکومتِ پاکستان کے پختہ عزم کی تجدید کرتے ہوئے، وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے آج اسلام آباد میں تاریخی “قومی امیگریشن و ویلفیئر پالیسی 2026” کا باضابطہ اجراء کر دیا، اس پروقار تقریب میں غیر ملکی سفارت کاروں، بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں، وفاقی و صوبائی حکام، ترقیاتی شراکت داروں اور صحافیوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اس پالیسی کو محض ایک انتظامی فریم ورک کے بجائے دنیا بھر بالخصوص مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور امریکہ میں مقیم 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک پختہ قومی عزم قرار دیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اس بات پر زور دیا کہ تیز رفتار تکنیکی جدت، ڈیموگرافک تبدیلیوں اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات نے روزگار کی عالمی دنیا کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا ہے، جیسے جیسے مختلف ممالک باصلاحیت اور ہنر مند افرادی قوت کو ترجیح دے رہے ہیں، پاکستان بھی اپنے شعبہ جاتی چیلنجز بشمول غیر منظم گہورننس، ہنر مند افرادی قوت کی کمی، غیر قانونی ذرائع سے رقم کی منتقلی اور تارکینِ وطن کی واپسی کے بعد ان کی بحالی کی تدابیر کی کمی سے نمٹنے کے لیے فعال اقدامات کر رہا ہے۔ “معیاری انسانی وسائل کی فراہمی کے لیے پسندیدہ ترین ملک بننا” کے جامع وژن اور انسانی وسائل کی ترقی کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے کے مشن کے تحت، یہ پالیسی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پاکستانی کارکنان بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسابقتی صلاحیت، ادارہ جاتی تعاون اور قانونی تحفظ سے آراستہ ہوں۔

عظیم قومی اقدار اور ہجرت کے مقدس تاریخی تصور کا حوالہ دیتے ہوئے، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اس بات کو اجاگر کیا کہ روزگار کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑنا انتہائی جرات کا کام ہے، ہر ہنر مند و تارکِ وطن کارکن ملک کا وقار اور امیدیں اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے، اور قومی معاشی استحکام میں ان کا کردار بے مثال ہے، اوورسیز پاکستانیوں نے مالی سال 26-2025 کے دوران 41.58 ارب امریکی ڈالر کی ریکارڈ زرِ مبادلہ کی رقم (ترسیلاتِ زر) بھیجی، جو ملک کی تاریخ میں غیر ملکی زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

مستقبل کی ہجرت اور ملازمت کے عمل کو منظم کرنے کے لیے، پالیسی میں 5 بنیادی حکمتِ عملی کے ستونوں کے تحت اصلاحات نافذ کی گئی ہیں، جن کی شروعات محفوظ امیشن اور ہنر کی ترقی سے ہوتی ہے، حکومت ایک “لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل” قائم کر رہی ہے، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے قواعد و ضوابط کو جدید بنا رہی ہے، کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں  کے کردار کو وسعت دے رہی ہے، اور یورپی یونین مائیگریشن اینڈ موبلٹی ڈائیلاگ کے تحت “ٹیلنٹ پارٹنرشپس” کو فروغ دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ “پاک ٹاک ایپ” “پاک ایمیگرنٹ مینجمنٹ فریم ورک”، اور “ای-انفارمڈ مائیگریشن فریم ورک” جیسے ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ امیگریشن کے اس عمل کو سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر جیسے کم نمائندگی والے علاقوں تک وسعت دی جائے گی، جبکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے نصاب کو نیوٹیک  اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے “سینٹرز آف ایکسی لینس”  قائم کیے جائیں گے جن میں خواتین، معذور افراد اور پسے ہوئے طبقوں کی شمولیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے مزید کہا کہ یہ پالیسی کارکنوں کے تحفظ، بیرونِ ملک پاکستانیوں سے روابط اور ان کی وطن واپسی پر بحالی جیسے امور کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ کارکنوں کی شکایات کے فوری ازالے کے لیے ایک “انٹرنیشنل کال سینٹر”  اور تیز رفتار انصاف کے لیے “خصوصی عدالتیں” قائم کی جا رہی ہیں، خلیجی ممالک  میں پاکستانی کارکنوں کے قانونی مقدمات کی پیروکاری کے لیے مقامی لاء فرمز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں، جبکہ ای او بی آئی  کے ذریعے پینشن سکیم اور بچوں کے لیے تعلیمی واؤچرز متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ غیر قانونی طریقے (ہنڈی/حوالہ) کی روک تھام اور قانونی ذرائع سے ترسیلاتِ زر کی حوصلہ افزائی کے لیے “سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام”، “روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ” اور “نیا پاکستان سرٹیفکیٹس” کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے۔ مزید برآں، وطن واپس آنے والے تارکینِ وطن کے لیے ایک جامع پروفائلنگ ڈیٹا بیس، ریفرل نیٹ ورک، اور بیرونِ ملک حاصل کردہ تجربے و اسناد کو تسلیم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ “ایکویولنسی پروگرام” شروع کیا جا رہا ہے۔

“قومی امیگریشن و ویلفیئر پالیسی 2026” کو تین مراحل میں نافذ کیا جائے گا: قلیل مدتی (1 سال)، درمیانی مدتی (2 سال)، اور طویل مدتی (3 سال)۔ پالیسی کے شفاف نفاذ اور بین الاداراجاتی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی “ٹاسک فورس” اس کی پیشرفت کی براہِ راست نگرانی کرے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے صوبائی قیادت، بین الاقوامی شراکت داروں بشمول ، اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل  کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ امیگریشن پالیسی ہر پاکستانی کارکن کو مکمل اعتماد کے ساتھ بیرونِ ملک جانے اور باوقار طریقے سے وطن واپس لوٹنے کی ضامن بنے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here