انقلاب ایران کے ہیرو ڈاکٹر علی شریعتی

0
352

From the wall of Syed Mujahid Gardezi

1970 کا ایران۔ تہران کے حسینیہ ارشاد کا حا ل ۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ لوگ زمین پر بیٹھے ہیں، کھڑکیوں تک میں سما گئے ہیں، اور سب کی نگاہیں اسٹیج پر جمی ہوئی ہیں۔ ایک ایسا شخص بول رہا ہے جسے سننے کے لیے صرف حال میں موجود سامعین ہی نہیں، بلکہ باہر کھڑے پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکار بھی ہمہ تن گوش ہیں۔

آخر کون ہے یہ؟

کوئی مذہبی رہنما؟

کوئی سیاسی لیڈر؟

نہیں، یہ سب ایک یونیورسٹی پروفیسر کو سننے آئے ہیں۔

نہ سر پر عمامہ، نہ پگڑی۔ فرانسیسی زبان، ٹائی، سگار—اور جب بولتا ہے تو مسجدوں کے مینار بھی لرز اٹھتے ہیں۔ اس مردِ آہن کا نام ہے ڈاکٹر علی شریعتی

وہ جس نے مذہب کو افیون نہیں، بارود بنا دیا۔

وہ جس نے Red Shiism (سرخ شیعت) کا نعرہ بلند کیا۔

ایک طاقتور، مطلق العنان بادشاہت اس کی فکر سے لرز اٹھی۔ وہ ایران کے علامہ اقبال تھے—جن کے خواب کو ان کی رحلت کے بعد عملی جامہ پہنایا گیا۔ ان کی شب و روز محنت سے انقلاب تو آ گیا، مگر انقلاب کے بعد خود شریعتی کو فراموش کر دیا گیا۔

آخر شریعتی نے ایسا کون سا سچ بولا تھا جو نہ شاہ کو پسند آیا، اور نہ ہی بعد میں آنے والی انقلابی حکومت اور علما کو؟

یہ ایک ایسے مفکرِ تنہا کی کہانی ہے جس پر وار غیروں نے نہیں، اپنوں نے کیا۔

پاکستان کے معروف ادیب مختار مسعود اپنی کتاب لوح ایام میں لکھتے ہیں کہ انقلابِ ایران کے دنوں میں وہ خود ایران میں موجود تھے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب انہوں نے وزارتِ خارجہ کے ایک ڈائریکٹر جنرل سے پوچھا کہ انقلابِ ایران کا مفکر اور فلسفی کون تھا، تو جواب ملا: علی شریعتی۔

بازارِ بزرگ کے ایک دکاندار نے بھی یہی نام لیا۔

تہران یونیورسٹی کے ایک استاد نے بھی یہی کہا۔

خیابانِ رضا شاہ پر، تہران یونیورسٹی کے صدر دروازے کے سامنے واقع ایک کتابوں کی دکان میں شریعتی کی کتابوں کے انبار لگے تھے۔ میں شریعتی کی لکھی ہوئی کتابوں کے بجائے ایسی کتاب تلاش کر رہا تھا جو علی شریعتی پر لکھی گئی ہو۔ ایک کونے میں ایک مختصر سی کتاب نظر آئی، جس کا عنوان تھا: سپر مین: ڈاکٹر علی شریعتی۔

آئیے، آج اسی “سپر مین” کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

علی شریعتی 1933 میں خراسان کے ایک چھوٹے سے گاؤں مزینان میں پیدا ہوئے۔ یہ اتنا چھوٹا گاؤں تھا کہ آج بھی اس کی آبادی ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اندازہ کیجیے، 1933 میں اس کی کیا حالت ہو گی۔ صحرا کے کنارے بسا، دنیا سے کٹا ہوا، جہاں زندگی سادہ اور وقت جیسے ٹھہرا ہوا تھا۔ اسی ماحول میں ایک عالمِ دین کے گھر آنکھ کھولی۔

جب وہ جوان ہوئے تو ایران تیزی سے بدل رہا تھا۔ 1953 میں ایک سازش کے ذریعے وزیرِ اعظم ڈاکٹر محمد مصدق کی حکومت ختم کر دی گئی، اور ایران ایک بار پھر مطلق العنان بادشاہت کی طرف لوٹ گیا۔ محمد رضا شاہ پہلوی جدیدیت کے نام پر روایات کی جڑیں کاٹ رہا تھا—وہ سب کچھ کیا جا رہا تھا جو ترکی میں اتاترک نے کیا تھا، مگر ایک ایسے معاشرے میں جہاں مذہب عوام کی بنیادی ضرورت تھا۔

یہ سب کچھ عوامی مفاد سے زیادہ مغرب، خصوصاً امریکہ، کی خوشنودی کے لیے ہو رہا تھا۔ ردِعمل کے طور پر شاہ کے خلاف تحریک اٹھی، اور یہ نوجوان اس میں شامل ہو گیا۔ 1958 میں چھ ماہ کی قید کاٹی۔ رہائی کے بعد 1959 میں اسکالرشپ پر پیرس پہنچے—یہ سیاحت کا نہیں، انقلاب کا پیرس تھا۔

وہاں ژاان پل سارتر ، خدا کے منکر۔

وہاں فرانز فینن تھے، افریقہ کی آزادی کی جنگ کے نظریہ ساز۔

سوشلزم اور کمیونزم ایک فیشن نہیں، ایک طوفان تھے۔

شریعتی نے دیکھا کہ کیپیٹلزم انسانوں کا خون چوس رہا ہے، جبکہ سوشلزم برابری اور انصاف کی بات کرتا ہے۔ انہوں نے اسلام کو سوشلزم کی عینک سے دیکھنا شروع کیا—یہاں تک کہ صحابیِ رسول ابو زر غفاری کو دنیا کا پہلا سوشلسٹ قرار دیا۔

انہوں نے مارکسزم کے خدا بیزار فلسفے کو رد کیا، مگر کلاس اسٹرگل کے تصور کو قبول کیا۔

ان کے نزدیک اسلام کی روح محض عبادات نہیں، بلکہ معاشی و سماجی انصاف تھی۔ اسی لیے روایتی علما نے انہیں قبول نہ کیا۔

ان کا نعرہ تھا:

بازگشت بہ خویشتن — یعنی مغرب کی اندھی تقلید چھوڑو، اپنی اصل کی طرف لوٹو۔

فرانس میں وہ الجزائر کی آزادی کی تحریک میں شریک رہے، اور پیٹرس لومومبا کے قتل کے خلاف احتجاج پر گرفتار بھی ہوئے۔

پی ایچ ڈی مکمل کر کے جب ایران لوٹے تو وہ بدلے ہوئے شریعتی تھے۔ ان کے پاس صرف ڈگری نہیں، ایک فکری طوفان تھا۔ مغرب سے سوشیالوجی اور تنقیدی فکر، اور مشرق سے کربلا، عدل اور مزاحمت—ان دونوں کے امتزاج سے ایک ایسا جدید اسلامی تصور سامنے آیا جو نہ ملا کے پاس تھا، نہ سوشلسٹ کے پاس۔

یہ اسلام عبادت تک محدود نہیں تھا، بلکہ نظام بدلنے کی دعوت تھا۔

شاہ کی خفیہ پولیس نے تہران ایئرپورٹ پر ہی انہیں گرفتار کر لیا۔ یہ تھا ایران میں علی شریعتی کا استقبال۔وہ نہ جانتے تھے کہ اس قیدی کے پاس ایسی طاقت ہے جسے جیل کی دیواریں روک نہیں سکتیں—ایک آواز، جو مشہد سے تہران تک گونجنے والی تھی۔ڈاکٹر علی شریعتی انقلاب ایران کا اصل ہیرو (قسط سوئم) پروفیسر مولانا حسین احمد شیرانیمختصر یہ کہ بعض ملاؤں نے شاہ سے درخواست کی کہ اس فتنے کا راستہ روکا جائے 1973 میں شاہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور ساواک نے حسینیۂ رشاد کو سیل کر دیا

شریعتی روپوش ہو گئے ساواک نے ملک کا چپہ چپہ چھان مارا مگر وہ انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہی آخرکار ایک اور طریقہ اختیار کیا گیا شریعتی کے بوڑھے والد کو گرفتار کر لیا گیا کون سا شریف آدمی یہ برداشت کر سکتا تھا کہ وہ خود آزادی کی سانس لے اور اس کا بوڑھا باپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہے چنانچہ دو ماہ کی روپوشی کے بعد شریعتی خود منظرِ عام پر آ گئے انہیں گرفتار کر لیا گیا مگر عام قیدیوں کی طرح نہیں بلکہ کمیٹۂ مشترک کے ٹارچر سیل میں ڈال دیا گیا جہاں انہیں ڈیڑھ سال تک قید رکھا گیا

اس عرصے میں وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں قیدِ تنہائی کاٹتے رہے جہاں دن اور رات کا کوئی فرق نہ تھا وہاں ان پر تشدد کیا گیا مقصد انہیں مارنا نہیں بلکہ توڑنا تھا تاکہ وہ یہ کہہ دیں کہ شاہ درست تھا اور میں غلط تھا لیکن شریعتی نے ہتھیار نہیں ڈالے انہوں نے کوئلے سے جیل کی دیواروں پر لکھنا شروع کر دیا ان کی قید اسی وقت تک جاری رہی جب تک بین الاقوامی دباؤ پیدا نہ ہو گیا بالآخر 1975 میں جب شاہ الجزائر کے دورے پر گئے تو وہاں سرکاری سطح پر شریعتی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا الجزائر اپنی آزادی کی جدوجہد کے دن نہیں بھولا تھا یوں علی شریعتی کو رہا کر دیا گیا

لیکن یہ رہائی دراصل ایک چھوٹے قید خانے سے بڑے قید خانے میں منتقلی تھی انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا ساواک کے ایجنٹ چوبیس گھنٹے ان کے گھر کے باہر پہرہ دیتے رہتے تھے ان کے لکھنے پڑھنے اور تقریر کرنے پر پابندی لگا دی گئی حتیٰ کہ ان سے ملنے والوں پر بھی قدغن تھی ایک دانشور کے لیے اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہےاصل واقعہ کیا تھا 1977 میں جب علی شریعتی ایران چھوڑ کر لندن پہنچے تو اس وقت ایران میں محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی اور اس کی خفیہ ایجنسی ساواک ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھی شریعتی کے ایران سے نکلنے کے بعد حکومت نے ان کی اہلیہ پوران شریعتی اور ان کی ایک کم عمر بیٹی کو گرفتار کر لیا، جبکہ دو بڑی بیٹیوں کو لندن جانے کی اجازت دے دی گئی یعنی خاندان کے کچھ افراد کو روک لیا گیا اور کچھ کو جانے دیا گیا

بعد میں دونوں بیٹیاں لندن پہنچ گئیں اور شریعتی نے انہیں ہیتھرو ایئرپورٹ پر خود وصول کیا مگر افسوس کہ چند ہی دن بعد شریعتی لندن میں پراسرار طور پر وفات پا گئےسرکاری طور پر موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی شریعتی ایرانی بادشاہت کے سخت ناقد تھے اور کئی بار جیل جا چکے تھے اس دور میں ایران کی خفیہ ایجنسی ساواک اپنے مخالفین کو بیرونِ ملک بھی نشانہ بنانے کے لیے بدنام تھی چوالیس برس کی عمر میں اچانک دل کا دورہ—جبکہ کوئی بڑی بیماری معلوم نہ تھی شکوک کو جنم دیتا ہے موت کے بارے میں مکمل اور شفاف تحقیقات عوام کے سامنے نہیں آئیں اسی لیے محققین عام طور پر تین ممکنہ نظریات بیان کرتے ہیں واقعی دل کا دورہ ساواک کی خفیہ کارروائی  پھر کسی تیسرے سیاسی گروہ کی سازش (یہ نظریہ نسبتاً کمزور سمجھا جاتا ہے)

اب تک ان میں سے کوئی نظریہ قطعی طور پر ثابت نہیں ہو سکا ان کی موت کے بعد ان کی میت شام لے جائی گئی اور انہیں دمشق میں حضرت سیدہ زینبؑ کے مزار کے قریب دفن کیا گیا علی شریعتی 1977 میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے جواں عمری میں ان کے انتقال پر بہت سے لوگوں نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ ان کی فکر، ان کی جدوجہد اور ان کی دعوت سب بے کار گئی خود شریعتی نے ایک بار کہا تھا موت ہر لمحہ گھات لگائے بیٹھی ہے میں نے موت کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے لیکن اس وقت مرنا مجھے منظور نہیں، کیونکہ ایرانی لوگوں کی آنکھیں میرا انتظار کر رہی ہیں

مگر تقدیر کی عدالت نے انہیں وہ مہلت نہ دی جو وہ مانگ رہے تھے وہ محض چوالیس برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے وہ اپنے پیچھے کوئی منظم جماعت یا باقاعدہ تنظیم بھی نہیں چھوڑ گئے تھے جس سے یہ امید کی جاتی کہ وہ ان کی فکر کو عملی شکل دے گی ان کے پاس صرف ان کی تقریریں تھیں اور ان تقریروں میں حکومتِ وقت کا براہِ راست ذکر تک نہیں تھا لیکن تاریخ کے فیصلے عجیب ہوتے ہیں شریعتی کی وفات کے صرف دو برس بعد ایران میں انقلاب برپا ہو گیا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here