شاعر نے کیا خوب کہا ہے “اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے! مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے،
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سی ڈی اے نے کچھ ایسی ہی صورت حال سوہان کے قبرستاں میں دفن مردوں کے لئے بنادی ہے۔ جب مرنےوا لے اللہ کو حساب دے رہے ہیں تو سی ڈی اے نے اپنا کھاتا کھول لیا ہے اور اس طرح اللہ کے کام میں مدخلت شروع کر دی ہے
سوہان قبرستان سے قبروں کی منتقلی کانادر شاہی حکم جاری کر دیا ہے اور وہ بھی فوری اور پھر اپنی مدد آپ کے تحت ، کیا بات ہے سرکار کی، کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے…… ہم اسے ’سکھا شاہی‘ حکم بھی کہہ سکتے ہیں۔یہ صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
تمام اہل علاقہ اور متعلقہ شہریوں کو خبردار کیا گیا کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اسلام آباد ایکسپریس وے سے ملحقہ سوہان کے علاقے میں ایک نیا لنک روڈ تعمیر کیا جا رہا ہے، جو سوہان سے گلبرگ گرین کی جانب جائے گا۔
اس ترقیاتی منصوبے کی زد میں آنے والے سوہان قبرستان کے حصے سے قبروں کی منتقلی کا عمل شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں سی ڈی اے کی طرف سے درج ذیل ہدایات جاری کی گئیں:
نشاندہی: جن شہریوں کے عزیز و اقارب کی قبریں اس مجوزہ روڈ کے راستے میں آرہی ہیں، وہ فوری طور پر قبرستان پہنچ کر اپنے پیاروں کی قبروں کی نشاندہی یقینی بنائیں۔
رابطہ: متعلقہ ورثاء کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر سی ڈی اے کے نمائندگان سے رابطہ کریں اور قبروں کی منتقلی کے عمل میں تعاون کریں۔
قبروں کی منتقلی کا عمل شروع کیا جا چکا ہے۔ ورثاء کو قبروں کی منتقلی کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے میں مصروف رکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کی خدمات حاصل کی گئی ہیں، اور اس مقصد کے لیے قبرستان میں لائٹس بھی نصب کر دی گئی ہیں تاکہ رات کے اوقات میں بھی کام جاری رکھا جا سکے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس کام کو میڈیا کی توجہ کا مرکز بننے سے قبل ہی مکمل کرنے کے لیے ملی بھگت کی ہے۔
سی ڈی اے کے نئے چیئرمین کو یقیناً وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے کچھ اہداف سونپے گئے ہیں، اور اس منافع بخش عہدے پر ان کی تقرری کی بنیادی شرط بھی یہی ہے۔ لیکن چیئرمین سی ڈی اے سمیت کوئی بھی یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں رہے گا۔ جب آپ لوگوں کو اپنے پیاروں کی قبریں کھودنے اور انہیں کسی اور جگہ منتقل کرنے کا حکم دیں تو اس بات بھی ذہن میں رکھیں۔آپ سب کوبھی قبرستان ہی جانا ہے۔ کیا یہ لوگ مرنا بھول چکے ہیں