زیادتی کے مقدمہ میں لڑکی بھی قصور وار قرار

0
276

طاہر چودھری، ایڈووکیٹ، لاہور

بھارتی الہ آباد ہائیکورٹ نے جنسی زیادتی کے ایک مقدمہ میں لڑکی کو بھی قصور وار قرار دیتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ چونکہ لڑکی ایک پوسٹ گریجویٹ طالبہ ہے، اس لیے وہ اپنے اعمال کے اخلاقی پہلو اور نتائج کو سمجھنے کی پوری صلاحیت رکھتی تھی۔ لڑکی نے اپنی ایف آئی آر میں لکھوایا تھا کہ اس کے دوست نے اسے اس وقت ریپ کا نشانہ بنایا جب وہ بار میں شراب پینے کے بعد مدہوش حالت میں تھی ۔

وہ اس گمان میں تھی کہ وہ اپنے دوست کے گھر جا رہی ہے تاکہ آرام کر سکے مگر اسے مبینہ طور پر وہاں دو بار زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ لڑکی اپنی مرضی سے بار گئی، شراب پی، اور رات تین بجے تک وہاں رکی، نیز ملزم کے ساتھ جانے کا فیصلہ بھی خود کیا۔

فیصلے میں کہا گیا اس نے خود مصیبت کو دعوت دی اور اس کی خود بھی ذمہ دار ہے۔ عدالت نے طبی رپورٹ میں موجود اس نکتے کا ذکر بھی کیا کہ متاثرہ کی ہائمن پھٹی ہوئی پائی گئی، لیکن ڈاکٹر کی طرف سے جنسی زیادتی کے حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں دی گئی۔

اس کے ساتھ، عدالت نے اس بات کو بھی مدنظر رکھا کہ ملزم کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، اور اس کا دعویٰ ہے کہ یہ سب کچھ رضامندی سے ہوا تھا۔ ان نکات کی بنیاد پر عدالت نے اسے ضمانت کا مناسب کیس قرار دیا۔

’چچا ہم کو مت مارو‘ ۔ غیر سید سے پسند کی شادی ۔ مانسہرہ میں ’غیرت کے نام پر‘ خاتون اور 16 ماہ کی بچی قتل

بھارتی  ہائیکورٹ کا مذکورہ بالا فیصلہ اور اس سے ملتے جلتے حقائق

کے کیسز ایک لمبی بحث طلب معاملہ ہے۔

میرے باس کہا کرتے تھے جنسی زیادتی کے بہت سارے مقدمات میں الٹا لڑکے کا ریپ ہو رہا ہوتا ہے۔ کئی کیسز میں سب کچھ مرضی کے ساتھ ہوا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات بلیک میلنگ کیلئے اور بعض اوقات گھر والوں کے دباؤ میں آ کر لڑکی لڑکے کیخلاف ریپ کا مقدمہ درج کروا دیتی ہے۔

اگرچہ ہماری اعلیٰ عدالتیں حال ہی میں ایسے کچھ فیصلے دے چکی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اگرچہ دونوں کے ماضی میں رضامندی سے تعلقات رہے ہوں لیکن وہ اس بات کا لائسنس نہیں ہیں کہ لڑکا لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنائے۔

تاہم ان فیصلوں میں ایک نکتہ بڑا باریک ہے کہ کیسے پتہ چلے گا کہ اس بار بھی لڑکی کی رضامندی تھی یا نہیں۔ عدالتیں ضمانت کا فیصلہ کرتے وقت کیس کے مکمل حقائق میں نہیں جاتیں جس کا نقصان عموما لڑکے کو ہوتا ہے۔ میرے ساتھ حال ہی میں ایک ایسی ہی ایف آئی آر شیئر ہوئی۔

دونوں کے رضامندی سے تعلقات تھے۔ لڑکی نے ایف آئی آر کروا دی۔ لڑکا جیل میں ہے۔ لڑکی اور اس کے گھر والے صلح کیلئے 20 لاکھ مانگتے ہیں۔

اس بات پر دوسری کوئی رائے نہیں کہ مرضی کے بغیر قائم کیا گیا تعلق ریپ ہی شمار ہو گا چاہے ماضی میں ان دونوں کے جیسے مرضی تعلقات رہے ہوں لیکن اس بات کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ بھی بہت ضروری ہے کہ اس بار بھی رضامندی تھی یا نہیں؟ یہ مشاہدہ مقدمے کے حالات و واقعات، فریقین کی وقوعہ سے پہلے کی گئی بات چیت، وقوعہ کی جگہ وغیرہ سے ہو گا۔

میری رائے لی جائے تو میں تو میرٹیل ریپ کے قانون کے حق میں بھی آواز اٹھانے والا بندہ ہوں۔ لیکن ایسے واقعات جن میں مرضی کے ساتھ سب کچھ ہوا اور بعد میں بلیک میلنگ کیلئے لڑکے کو پھنسا دیا گیا واقعی اس کا ریپ ہے۔ ہمارے یہاں ایسا مافیا موجود ہے جو اس طرح لوگوں کو بلیک میل کرتا اور ان سے لمبی رقمیں کماتا ہے یا کسی لڑکی کو استعمال کر کے مخالف فریق پر اس طرح کے مقدمات بنواتا ہے۔

اس کی ایک حالیہ مثال خلیل الرحمان قمر کیس بھی ہے۔ میں اگرچہ خلیل الرحمان قمر کو ایک منافق کردار سمجھتا ہوں جو صرف گفتار کا غازی ہے۔ گفتگو میں مذہبی ٹچ دیتا ہے لیکن افعال۔۔۔۔۔۔۔ رات کے پچھلے پہر لڑکی سے “پراجیکٹ” ڈسکس کرنے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ لیکن اس کیس میں اس کے ساتھ زیادتی ہوئی۔

فریقین کا باہمی رضامندی کے ساتھ تعلق تھا۔ لڑکی اور اس کے گروہ نے بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور پیسے اینٹھ لئے۔ عدالتوں کو دیکھنا ہو گا کہ کہاں تعلق رضامندی کے ساتھ تھا اور کہاں نہیں۔ صرف لڑکی کے بیان پر لڑکے کو ریپ کے الزام کا رگڑا لگا دینا اور لمبے عرصے کیلئے جیل میں پھینک دینا مناسب نہیں۔

Pakistan in the World – March 2025

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here