مصطفےا کی جلی ہوئی گاڑی اور اُس کی جلی ہوئی لاش بلوچستان کے علائقے دریجی سے مل گئی
12 فروری کو ملزم ارمغان کے جیل کسٹدی اور ایس ایس پی Avcc انیل حیدر کی مصطفےا قتل کیس میں نااہلی کے بعد آئی سندھ جناب غلام نبی میمن صاھب نے ڈاریکٹر آئی بی سندھ جناب آزاد خان کو کہا کہ وہ اس کیس میں مدد کریں –
جیساکہ جناب غلام نبی میمن صاحب خود ڈاریکٹر آئی بی سندھ رہ چُکے ہیں اُن کو آئی بی افسران، خصوصی طور پر جمالی صاحب والوں کی Worth & Dedication کا پتہ ہے، جناب غُلام نبی میمن صاحب نے سندھ پولیس سے مایوسی کے عالم اور کراچی کی اشرافیہ کی بیچینی اور عدم تحفظ کو اثر کو زائل کرنے اور مصطفےا کیس میں فوری پیش رفت حاصل کرنے کیلئے یہ فیصلہ کیا کیونکہ اُن کو معلوم ہے کہ اُن کے “ Pockect “ میں کیا ہے ؟؟؟
مصطفےا کیس اتنا پیچیدہ کیس نہیں تھا مگر اس کو پیچیدہ اور مُشکل ایس ایس پی Avcc انیل حیدر کی نااہلی اور کرپشن نے بنادیا، اب آپ کے سامنے ہے کہ آئی بی نے صرف دو گھنٹوں میں ارمغان کے دو مُلازمیں غلام مصطفےا اور زوہیب کو Break کرلیا اور 24 گھنٹوں کے اندر اندر غلام مصطفےا اور زوہیب کی مدد سے اس کیس میں ارمغان کے اہم ساتھی شیراز کو اُٹھا لیا اور لاپتہ مصطفےا کی کار اور مصطفےا کی لاش تک پہنچ گئے- افسوس ہے کہ یہی ملزم مصطفٰےا اور زوہیب پچھلے Saturday یعنی 8 فروری سے انیل حیدر کے پاس VIP پروٹوکول میں KFC کھاتے رہے اور تفتیشی افسر کے ذاتی کمرے میں سوتے رہے اور حیرت انگیز طور اس کیس کا اہم ملزم ارمغان 48 گھنٹوں تک ایس ایس پی انیل حیدر کے پاس اپنی گرفتاری کو Enjoy کرتا رہا !!!!!
جج نے ملزم کا جسمانی رمانڈ نہیں دیا اور مبینہ طور کیس کے اہمیت اور سنگینی کو سمجھ نہ پایا !!!!! غلط کیا !!!! مگر دوسری طرف دیکھیں وہی ملزم ارمغان 48 گھنٹوں تک اور زوہیب والے 5 دن تک Avcc کے پاس تھے تو Avcc نے کیا کرلیا ؟؟؟؟ اپنے نااہلی چھپانے کیلئے واویلا کررہے ہیں کہ رمانڈ نہیں ملا – اور ان ہی ملزمان سے آئی بی نے دو گھنٹوں میں آگے چلنے کیلئے راستہ نکالیا ورنہ یہ کام انیل حیدر بھی کرسکتا تھا اور اُس کی کراچی پولیس میں کتنی عزت بن جاتی مگر “ گٹکہ اور پان پُڑی “ اور منشیات کے بھتے انیل حیدر جیسی نئی نسل کے افسران کو اس حد تک لے آئے کہ اُن کے آئی جی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی کو ہزیمت اُٹھانی پڑ رہی ہے اور اپنی عزت بچانے کیلیے اُن کو مدد کیلئے دوسرے مُحکموں کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے !!!!
موجودہ ڈاریکٹر آئی بی آزاد خان جب 2008 میں ایس پی لانڈھی تھے، ایک اطلاع پر رات کو 4 بجے ایک کار روکنے کی کوشش کے دوران کار سواروں کی فائرنگ سے آزاد خان کو تیں گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہوگئے اور پولیس کی جوابی فارئرنگ سے جنداللہ کا قاسم طوری اپنے دو ساتھیوں سمیت مارا گیا!!!!
ایک طرف تو آزاد خان والی کل کی پولیس تھی جو ایس پی اتنا Responsible تھا کہ جنوری کی ٹھنڈی رات میں 4 بجے اپنے گرم بستر میں سونے کی بجائے روڈ پر گولیاں کھا رہا تھا اور دوسری طرف آج کی نااہل اور کاہل انیل حیدر والی پولیس ہے کہ شام کو 4 بجے بستر میں سویا ہوا ہے اور اُس کا ڈی ایس پی ڈفینس میں زخمی ہورہا ہے !!!! آپ خود موازنہ کرلیں کہ آج آپ اور ہم لوگ کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں ؟؟؟؟؟؟
آئی بی کے افسران نے جب غُلام مصطفےا اور زوہیب کو انٹروگیٹ کیا تو اُنھوں نے ارمغان کے ایک قریبی دوست شیراز کا نام بتایا کہ جس وقت کمرے میں فائر ہوئے تو شیراز، ارمغان اور مقتول مصطفےا کمرے میں ایک ساتھ بیٹھے تھے،
آئی بی، CPLC نے غلام مصطفےا اور زوہیب کی نشاندہی پر پہلے شیراز کے بھائی کو اُٹھایا اور شیراز کے بھائی کی نشادہی پر شیراز کو گلستان جوہر سے کل یعنی 13 فروری کو اٹھایا، دلچسپی اور شوق سے آگر کام کیا جائے اللہ پاک کی غیبی مدد بھی شامل ہوتی ہے
شیراز نے دوران انٹروگیشن آئی بی اور CPLC کو بتایا کہ واقعے والی رات مصطفےا اور ارمغان بات کرتے کرتے ارمغان تیش میں آگیا اور ایک راڈ مصطفےا کو دے مارا، راڈ لگنے سے مصطفےا زخمی ہوگیا دیکھتے دیکھتے ارمغان نے پاس پڑی ہوئی رائیفل اُٹھائی اور مصطفےا پر چار فائر کردیئے-
اُس کے بعد ارمغان اور شیراز نے ٹیپ اُٹھاکر مصطفےا کے ہاتھ، پیر اور مون پر ٹیپ لگائی اور مصطفےا کو اُٹھاکر مصطفےا ہی کی کار کی ڈگی میں ڈال دیا- مصطفےا اُس وقت زندھ تھا ارمغان اور شیراز نے مصطفےا کی کار بنگلے سے نکالی، کار میں بیٹھنے سے پہلے ارمغان نے اپنے گھر کے جنریٹر جو پیٹرول پر چلتا ہے ایک پیٹرول سے بھرا ہوا کین بھی کار کی پچھلی سیٹ پر رکھ دیا
ارمغان کار ڈرائیو کرنے لگا یہ لوگ ماڑی پور سے ہوتے ہوئے حب پہنچے اور حب سے آرسی ڈی ہائی وے سے ہوتے ہوئے جب یہ لوگ دریجی پہنچے تو اُن کو سامنے روڈ کے ساتھ دریجی تھانہ نظر آیا ااور کچھ پولیس والے روڈ پر کھڑے نظر آئے تو ارمغان نے کار واپس لے لی اور کچھ آگے جاکر کار کو روڈ سے نیچے اُتار لیا- ارمغان اور شیراز کو خوف تھا کہ کار سے ہمارے فنگر پرنٹ وغیرہ نہ مل جائیں انھون نے کین سے کار کے اندر, بانٹ کھول کر انجن پر اور باہر ٹائروں پر پیٹرول ڈالا اور کار کو آگ لگادی: مصطفےا کار کی ڈگی میں اُس وقت زندہ تھا
کراچی سے بلوچستان کا شھر دریجے 130 کلومیٹر دور ہے یہ دونوں پیدل واپس کراچی کی طرح چل پڑے رات کو اس روڈ پر کوئی ٹریفک نہیں چلتا یہ لوگ تین گھنٹے تک پیدل چلتے رہے، ان کو پیٹرول پمپ پر ایک ہوٹل نظر آیا، دونوں نے ہوٹل سے کھانا کھایا ہوٹل والوں نے ان کو بتایا کہ صبح آٹھ بجے ایک بس کراچی جاتی ہے- یہ دونوں ہوٹل کے ساتھ بنی ہوئی مسجد میں سوگئے صبح بس نہہں آئی ان لوگوں نے ایک سوزوکی والے کو دوہزار دیئے سوزوکی نے ان کو 4K چورنگی پر اُتارا بعد ان لوگوں رکشہ اور Uber استعمال کی !!!!
دوسرے دن ارمغان فلائیٹ لے کر اسلام آباد چلا گیا اور وہاں سے وہ اسکردو چلا گیا، پروگرام کے مطابق شیراز پہلے لاہور پہنچا اور وہاں سے اسلام آباد اور پھر وہ بھی اسکردو پہچ گیا – یہ دونوں اسکردو میں رہتے رہے اور کراچی سے خبریں لیتے رہے کہ وہاں ان پر کوئی شک نہیں کررہا اور نہ پولیس اُن کے گھروں پر آئی
دونوں نے مطمعین ہوکر واپسی کا پروگرام بنایا – 28 جنوری کو شیراز کراچی پہنچا اور مصطفےا کی گمشُدگی کے متعلق گُن سن لیتا رہا – واٹس اپ پر ارمغان کو گرین سگنل دیا کہ وہ بھی واپس آجائے ان پر کسی کو شک نہیں اور ارمغان بھی 5 فروری کو واپس کراچی پہنچ گیا
ارمغان، شیراز کو اپنے ساتھ اسلیئے رکھتا تھا کہ ارمغان کیلئے کرمنل رکارڈ کی وجہ ہوٹل میں رہنا مُشکل تھا اسلیئے وہ شیراز کو اپنے ساتھ ساتھ رکھتا اور ہر ہوٹل میں شیراز کے نام پر کمرہ لیتا رہا
آگر ڈفیینس پولیس کوشش کرتی تو آرمغان اور شیراز 7 جنوری کو ہی گرفتار ہوسکتے تھےُ مگر المیہ یہ ہے کہ تفتیش نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں ہے ؟؟؟؟؟؟!!!
وفاقی حکومت نے FWO سے سندھ پولیس کو (ANPR) سمارٹ کیمرا سسٹم لگا کر دیا ہے جو CPO میں ایک خاتون تبسم عباسی صاحبہ کے ہاتھوں ہے تبسم صاحبہ CPO میں ڈاریکٹر IT ہیں-
مصطفےا کی والدہ 6 جنوری سے روتی پھر رہی تھی !!!! ڈفینس پولیس نے صرف CPO جانا تھا اور کار کا نمبر ANPR سسٹم میں ڈالنا تھا, ANPR سسٹم اتنا سمارٹ اور AIسے Integrated ہے کہ وہ چند سیکنڈز میں کار نمبر (AQP-165) کا پورا 6 ماہ کا Log اسکرین پر لے آتا !!!!! اب آپ صرف 6 جنوری سے کار کا Log چیک کریں تو ڈفینس سے حب ٹول پلازہ تک آپ کو پتہ چل جاتا کہ کار کون ڈرائیو کررہا تھا ؟؟؟؟
کار کی کہاں کہاں کیا اسپیڈ رہی ؟؟؟؟ ڈرائیور نے Seat Belt باندھا ہوا ہے یا نہیں ؟؟؟ ڈرائیور نے کہاں کہاں ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کیا ؟؟؟ مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایک تو پولیس CPO تک گئی نہیں اور دوسرا اگر جاتی بھی تو تبسم عباسی صاحبہ نے کون سا اُن کو ڈیٹا نکال کر دینا تھا !!!! آئی جی صاحب کو چاہیئے کہ فلفور سندھ کے سارے تھانوں/ ڈی ایس پیز/ ایس ایس پیز / سارے Units / CPLC کو ANPR سسٹم کا Excess دینا چاہیئے تاکہ اس جدید سسٹم سے فاعدہ اُٹھایا جاسکے اور مُلزمان کو گرفتار بھی کیا جاسکے اور اُن کے خلاف ANPR کی وڈیوز عدالت میں شہادت کے طور استعمال کی جاسکیں !!!!!
اس کالم لکھنے سے پہلے میری متعلقہ ایس ایس پی جناب علی حسن صاحب سے بات ہوئی کہ جب ANPR سسٹم فعال ہے تو آپ نے مصطفےا کی والدہ کے درد کا مداوا کیوں نہیں کیا ؟؟؟؟ علی حسن صاحب نے بتایا کہ ہم نے پہلے ہی دن ANPR والوں کو خط لکھ دیا تھا مگر میڈم تبسم عباسی نے آج تک خط کا جواب نہیں دیا
اب عدالت کیلیے ایک مضبوط کیس بنانے کا مرحلہ ہے، میرے آرٹیکل کے بعد پولیس حکام نے مصطفےا کیس کی تفیش SIU میں ٹرانسفر کردی ہے- تفتیش کا پہلا مراحلہ جو Avcc کے ایس ایس پی سے حل نہ ہوسکا اب تفتیش کا دوسرا مرحلہ SIU کے ایس ایس پی شعب میمن سے بھی حل نہیں ہوگا
جناب عثمان غنی صدیقی صاحب ڈی آئی جی ایسٹ ہیں، عثمان غنی صدیقی صاحب جب اے ایس پی تھے تو اُس وقت Avcc اور بعد میں دوبار ایس ایس پی Avcc رہے ہیں – عثمان غنی صدیقی صاحب کے ہوتے ہوئی کسی اور افسر یا ادارے کو کیس دینے کی ضرورت ہی نہیں !!! عثمان غنی صدیقی صاحب نے شاہ رُخ جتوئی کیس میں شاہ رُخ کے علاوہ سارے مُلزمان انھوں نے گرفتار کیئے تھے-
عثمان غنی صدیقی صاحب کیس کا دوسرا مرحلہ بڑی خوش اصلوبی سے حل کرلیں گے باقی موجودہ ڈی آئی جی CIA مُقدس حیدر صاحب پراس کیس میں اعتبار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ “ انتظار آحمد قتل کیس “ میں مُقدس حیدر صاحب کا اپنا ذاتی سرکاری پسٹل استعمال ہوا تھا اور انتظار احمد قتل کیس کے تانے بانے آخر میں جاکر ملزم ارمغان سے ملتے ہیں – کیا کیا لکھا جائے !!!! کبھی کبھی دماغ پھٹنے لگتا ہے !!!!!
دوسرا آپشن ڈی آئی جی ناصر آفتاب صاحب، ایس ایس پی عرفان سموں صاحب، امجد شیخ صاحب، تنویر تنیو صاحب، سنگھار ملک صاحب، زبیر شیخ صاحب، ہیں
مرحوم مُصفطےا کی جلی ہوئی لاش کی تصوریں اور وڈیوز دیکھنی کی مجھے ہمت نہیں ہورہی آگر اس بیج پر رکھوں تو مُصفطےا کی والدہ کا کلیجہ پہٹ جائے گا وہ بیچاری پہلی ہی سے بُہت رنجیدہ ہیں