جلالپور جٹاں میں چند ہی گھنٹوں کے اندر پیش آنے والے دو دل دہلا دینے والے واقعات

0
39

شاھد عزیر

جلالپور جٹاں میں چند ہی گھنٹوں کے اندر پیش آنے والے دو دل دہلا دینے والے واقعات نے ہمارے معاشرے کے سامنے ایک ایسا سوال رکھ دیا ہے جس سے اب نظریں چرانا ممکن نہیں۔ یہ محض دو جرائم نہیں بلکہ ہمارے خاندانی نظام، رشتوں کے تقدس، بچوں کی تربیت، اخلاقی اقدار کی “زبوں حالی” اور اجتماعی ذمہ داری کا امتحان ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک طرف موضع کریم داد کی چار سالہ نور فاطمہ ہے۔ جس کے بارے میں مبینہ جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے اور لاش نالے میں پھینکے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ دوسری طرف لالہ چک کی 32 سالہ فوزیہ بی بی ہے۔ پانچ بچوں کی ماں، جسے گھر کے صحن میں، اپنی دو کمسن بچیوں کے ہمراہ سوتے ہوئے بہیمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔ دونوں واقعات کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ابتدائی اطلاعات میں قریبی رشتہ داروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی بات سامنے آتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چار سالہ نور فاطمہ ۔۔۔ وہ عمر جس میں ایک بچی کو دنیا کی سفاکی کا نہیں، صرف ماں کی آغوش، باپ کے سائے، کھلونوں، تتلیوں اور خوابوں کا علم ہوتا ہے۔ مگر اس ننھی کلی کا انجام ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب محض ایک گرفتاری نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولیس کے مطابق نور فاطمہ کیس میں ایک 17 سالہ ملزم کو مبینہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے جو متاثرہ خاندان کا قریبی عزیز بتایا جاتا ہے۔ پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بچی کی لاش کی تلاش میں مصروف ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔
اگر تفتیش میں یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو سوال صرف یہ نہیں کہ ایک 17 سالہ نوجوان نے ایسا سنگین جرم کیوں کیا ۔۔۔ ؟؟؟
سوال یہ بھی ہے کہ وہ ذہنی اور اخلاقی طور پر اس مقام تک کیسے پہنچا۔ جہاں اسے معصومیت کی حرمت، رشتے کے تقدس اور انسانیت کی بنیادی حدود بھی دکھائی نہ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سوال صرف ایک فرد سے نہیں۔ پورے معاشرتی نظام سے ہے ۔۔۔ ؟؟؟
ہم بچوں کو ہمیشہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ خاندان ان کی محفوظ پناہ گاہ ہے۔ قریبی رشتے دار محبت، اعتماد اور تحفظ کی علامت ہیں۔ لیکن جب اسی اعتماد کی آڑ میں کوئی معصوم خطرے میں پڑ جائے تو صرف ایک زندگی نہیں ٹوٹتی پورے خاندان کے احساسِ تحفظ پر گہری ضرب لگتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالہ چک کا سانحہ بھی اسی خوفناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پولیس رپورٹ کے مطابق فوزیہ بی بی کو 26 اگست کی شب تقریباً ڈھائی بجے قتل کیا گیا۔ اس کا شوہر بیماری کے باعث عزیز بھٹی شہید ہسپتال گجرات میں زیرِ علاج بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس المناک واردات کے پسِ پردہ کوئی قریبی عزیز ملوث بتایا جاتا ہے اور بعض اطلاعات میں یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے فوزیہ بی بی کو مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ سانحہ صرف ایک عورت کے قتل کا نہیں۔ بلکہ اس کے پانچ بچوں سے ماں کی شفقت چھیننے اور ایک خاندان کے اعتماد کو دفن کرنے کا نوحہ ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رشتے صرف خون کا تعلق نہیں ہوتے۔ رشتے اعتماد کا نام ہیں۔ ایک بچی یا عورت جب کسی قریبی رشتے دار پر بھروسہ کرتی ہے تو وہ اپنے ساتھ صرف اپنا وجود نہیں اپنے خاندان کا اعتماد بھی لے کر جاتی ہے۔ اس اعتماد کی پامالی پورے خاندان کے احساسِ تحفظ کو زخمی کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہیں سے والدین اور معاشرے کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے ۔۔۔

آج ہماری نئی نسل ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا میں سانس لے رہی ہے جہاں موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہر طرح کا مواد چند لمحوں میں اس تک پہنچ سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی دشمن نہیں۔ مگر تربیت کے بغیر یہ ایک خطرناک خلا ضرور پیدا کر سکتی ہے۔ ہم بچوں کے ہاتھ میں موبائل دے دیتے ہیں۔ مگر کیا کبھی یہ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ اس پر دیکھ کیا رہے ہیں۔ کس سے رابطے میں ہیں اور ان کے ذہن پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر کم عمر افراد ایسے سنگین جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں تو ہمیں صرف مجرم پکڑے جانے پر اطمینان نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرے میں تربیت کا نظام کہاں کھڑا ہے ۔۔۔ ؟؟؟

ہم نے بچوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی تو دے دی۔ کیا شعور بھی دیا ۔۔۔ ؟؟؟
ہم نے آزادی تو دے دی۔ کیا ذمہ داری کا احساس بھی دیا ۔۔۔ ؟؟؟
اور سب سے بڑھ کر ہم نے انہیں رشتوں کے نام تو سکھائے کیا ان رشتوں کے تقدس کا احساس بھی دیا ۔۔۔ ؟؟؟
ان واقعات میں پولیس کے فوری ردِعمل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ نور فاطمہ کیس میں پولیس نے اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی۔ مبینہ ملزم کو گرفتار کیا اور ریسکیو 1122 کے ساتھ بچی کی لاش کی تلاش تادمِ تحریر جاری ہے۔ لالہ چک کے واقعے میں بھی تھانہ صدر جلالپور جٹاں پولیس اور ڈی ایس پی صدر سرکل فوری طور پر موقع پر پہنچے اور قانونی کارروائی شروع کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم محض پولیس کو معاشرتی اخلاقیات کی پامالی کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتے۔ پولیس اپنا کام کرے اور اسے اپنا کام کرنے دیا جائے۔ تاہم عوام کا یہ حق ہے کہ سنگین مقدمات میں تفتیش شفاف، غیر جانب دار اور ہر قسم کے دباؤ سے بالاتر ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈی ایس پی صدر سرکل محمد اعظم ڈھڈی ایک تجربہ کار اور پروفیشنل پولیس افسر کے طور پر ان واقعات میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا امتحان دے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی نگرانی میں تفتیش ہر پہلو سے مکمل ہو۔ شواہد محفوظ کیے جائیں اور کسی بھی شخص کو تعلق یا اثر و رسوخ کی بنیاد پر رعایت نہ ملے۔

ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد کو بھی ضلع کی کمان سنبھالے ابھی چند روز ہی گزرے ہیں۔ یہ حساس واقعات ان کی قیادت اور انتظامی صلاحیت کے لیے بھی ایک چیلنج ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ریاست کو مجرموں کے خلاف پوری قوت سے کھڑا ہونا ہوگا۔ پولیس کو شفاف تفتیش کرنا ہوگی۔ عدالتوں کو قانون کے مطابق انصاف دینا ہوگا۔ اور والدین کو اپنے بچوں کی تربیت نگرانی اور ذہنی و اخلاقی حفاظت کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ صرف قانون مجرم پیدا ہونے سے نہیں روک سکتا۔ جرم کو روکنے کے لیے قانون کے ساتھ تربیت

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here