چائنہ میڈیا گروپ اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی جانب سے پری-ایس سی او کانفرنس کا انعقاد

0
433
اسلام آباد: چائنہ میڈیا گروپ نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے تعاون سے اسلام آباد میں پری-ایس سی او کانفرنس کا انعقاد کیا۔ “علاقائی روابط اور شراکت داری ” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں حکومت اور تعلیمی اداروں کے نمایاں مقررین نے شرکت کی۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیربرائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے خطاب کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ دوستی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور مجموعی اقتصادی ترقی میں چین کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔

عطاء اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ایس سی او فورم پاکستان کے لیے رکن ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔چائنا میڈیا گروپ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
تقریب کے گیسٹ آف آنر، وفاقی وزیر برائے سمندری امور قیصر احمد شیخ نے علاقائی روابط کیلئے پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کے حوالے سے بات کرتے ہو ئے کہا کہ پاکستانی بندرگاہوں سے ہر سال 3 ملین سے زائد کنٹینرز کا ٹرانزٹ ہوتا ہے اور ملک کی پچاس فیصد تجارت بندرگاہوں کے راستے سے ہونے کی توقع ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستان کی بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پر زور دیا۔
رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے تجارت کو آسان بنانے اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایس سی او ممالک کے مابین مشترکہ کرنسی متعارف کروانے کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کو علاقائی تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کرنسی متعارف کرانے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ سحر کامران کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ڈالر پر انحصار کم کرنے اور ایس سی او کے رکن ممالک کے مابین تجارت کو آسان بنانے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔
انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے صدرجوہر سلیم نے ایس سی او کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ایس سی او دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے، جس کا عالمی جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ہے۔ جوہر سلیم کا کہنا تھا کہ ایس سی او اپنے رکن ممالک کے درمیان تجارت اور سیکیورٹی بڑھانے کے لیے مواقع فراہم کرتا ہے۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی نمائندگی کرتے ہوئے فیصل شاہ نے کہا کہ بندرگاہوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنا کر رکن ممالک کے مابین تجارت کو مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔  بین الاقوامی تعلقات کی ماہر ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک میں خواتین کی معاشی اور سماجی حیثیت کومحفوظ بنانے پر زور دیا۔
سیاحت کی صنعت سے وابستہ صدف ملک نے کہا کہ سال 2022 میں پاکستان کے جی ڈی پی میں سیاحت کی صنعت کا 5.9 فی صد حصہ شامل تھا، جو 2030 تک 30 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
چائنا میڈیا گروپ کی ڈائریکٹر ڈو جیاننگ نے کہا کہ سی ایم جی پاکستان-چین تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے مقررین کو شیلڈز پیش کیں۔

Pakistan in the World – Aug / Sep 2024

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here